چین کی سڑکوں پر لوگ بیمار ہوکر گرنے لگے، ڈراﺅنی فلموں کے مناظر حقیقت میں نظر آنے لگے

چین کی سڑکوں پر لوگ بیمار ہوکر گرنے لگے، ڈراﺅنی فلموں کے مناظر حقیقت میں نظر ...
چین کی سڑکوں پر لوگ بیمار ہوکر گرنے لگے، ڈراﺅنی فلموں کے مناظر حقیقت میں نظر آنے لگے

  



بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں نئے پھیلنے والے خوفناک ’کورونا وائرس‘ نے تباہی پھیلانی شروع کر دی ہے اورایسے مناظر سامنے آنے لگے ہیں کہ آپ نے ایسے مناظر اس سے قبل ڈراﺅنی فلموں میں ہی دیکھے ہوں گے۔ دی مرر کے مطابق یہ وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور وہی شہر زیادہ اس کی لپیٹ میں ہے جہاں سے لوگ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں جن میں لوگ سڑکوں کر چلتے ہوئے یا کھڑے کھڑے کسی بت کی طرح دھڑام سے زمین پر گر رہے ہوتے ہیں۔

ویڈیوز میں پیرامیڈکس کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو جابجا سڑکوں پر بے ہوش ہو کرگرنے والے افراد کوہسپتالوں میں منتقل کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اب تک چین میں 600سے زائد لوگ اس وائرس کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچ چکے ہیں اورا ن میں سے 17کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ یہ وائرس پھیل کر دیگر ممالک تک بھی جا پہنچا ہے اور امریکہ، تائیوان اور جاپان میں ایک ایک جبکہ تھائی لینڈ میں4مریض سامنے آ چکے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت عالمی طبی تنظیمیں دنیا بھر کے ممالک کو متنبہ کر رہی ہیں کہ اس وائرس کے حوالے سے چوکنا رہیں۔ یہ ایسی بین الاقوامی وباءکا روپ دھار سکتا ہے جو بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سبب بن جائے گا۔

گزشتہ روز چینی سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں یہ بھی بتایا ہے کہ یہ وائرس چینی شہر ووہان کی مارکیٹ میں فروخت ہونے والے جنگلی جانوروں کے گوشت سے پھیلا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سانپ کے گوشت اور چمگادڑکے سوپ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہی چین میں بے حد مقبول ہیں۔

مزید : بین الاقوامی