”اگر احسان علی اور حارث رﺅف کی کارکردگی دیکھنی ہے تو پھر۔۔۔“ راشد لطیف بھی چپ نہ رہ سکے، آڑے ہاتھوں لے لیا

”اگر احسان علی اور حارث رﺅف کی کارکردگی دیکھنی ہے تو پھر۔۔۔“ راشد لطیف بھی ...
”اگر احسان علی اور حارث رﺅف کی کارکردگی دیکھنی ہے تو پھر۔۔۔“ راشد لطیف بھی چپ نہ رہ سکے، آڑے ہاتھوں لے لیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلے ٹی 20 میچ میں بنگلہ دیش کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری تو حاصل کر لی ہے مگر اب کھلاڑیوں کے بعد سابق کرکٹرز کی جانب سے بھی قذافی سٹیڈیم کی وکٹ پر تنقید کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے مایہ ناز سابق کپتان راشد لطیف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کی وکٹوں پر ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں کی کارکردگی کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ”سردیوں میں اچھی وکٹ تیار کرنا مشکل ہوتا ہے اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا انعقاد بھی ہونے جا رہا ہے جہاں ہمیں ایسی ہی وکٹوں کی توقع کرنی چاہئے۔“

ان کا کہنا تھا کہ ”پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اگر محنت کرے تو ایسی وکٹ تیار کی جا سکتی ہے جس پر 160 سے 170 رنز بنائے جا سکیں ، ہم ایسی وکٹ کا مطالبہ نہیں کر رہے جہاں 200 رنز بنیں لیکن ماڈرن کرکٹ کو دیکھا جائے تو 140 رنز ٹی 20 میچ میں بہت تھوڑے ہیں۔“

راشد لطیف نے کہا کہ ”ہم اس طرح کی وکٹ پر حارث رﺅف اور احسان علی کی کارکردگی کا جائزہ کیسے لے سکتے ہیں۔ گیند ٹھیک طرح سے بلے پر نہیں آ رہی تھی مگر نوجوان احسان علی نے پھر بھی اچھا کھیل پیش کیا لیکن اس کے باوجود ہمیں اچھی وکٹیں تیار کرنے کی ضرورت ہے۔“

واضح رہے کہ اس سے قبل سابق کپتان و چیف سلیکٹر انضمام الحق نے بھی پہلے میچ کیلئے تیار کی گئی وکٹ پر تنقید کرتے ہوئے کیوریٹرز نے بقیہ میچوں کیلئے بہتر وکٹ تیار کرنے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں ٹی 20 میچوں کیلئے فلیٹ وکٹیں تیار کی جاتی ہیں اس لئے بڑے سکور بننا معمول کی بات ہے، ہمیں بھی ایسا ہی کرنا ہو گا تاکہ بلے باز بڑا ہدف حاصل کرنے کے عادی ہو سکیں اور باﺅلرز بھی بلے بازوں کو رنز بنانے سے روکنا سیکھیں۔

مزید : کھیل