ڈچ پولیس کی کارروائی ،عالمی سطح پر مطلوب ڈرگ لارڈ گرفتار 

ڈچ پولیس کی کارروائی ،عالمی سطح پر مطلوب ڈرگ لارڈ گرفتار 
ڈچ پولیس کی کارروائی ،عالمی سطح پر مطلوب ڈرگ لارڈ گرفتار 

  

برمنگھم( سید حسنین رضا)یورپی ملک نیدرلینڈز میں پولیس نے دنیا بھر میں منشیات کا کاروبار کرنے والے سب سے بڑے گروہوں میں سے ایک کے سرغنہ کو حراست میں لے لیا ہے جس کی گرفتاری کے وارنٹ آسٹریلوی حکومت نے جاری کیے تھے۔چینی نژاد کینیڈین شہری ٹسے چی لوپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’دی کمپنی‘ نامی گروہ کے سرغنہ ہیں جو ایشیا بھر میں غیر قانونی منشیات کے 70 ارب ڈالر کاروبار پر حاوی ہیں۔ٹسے چی لوپ کا نام انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے اور ان کو ایمسٹرڈیم کے ہوائی اڈے سے حراست میں لیا گیا۔اب توقع ہے کہ وہ آسٹریلیا ان کی نیدرلینڈ سے ملک بدری کی درخواست کرے گا تاکہ آسٹریلیا میں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے۔آسٹریلیا کی سرکاری پولیس کا خیال ہے کہ ’دی کمپنی‘، جو کہ ’سام گور سینڈیکیٹ‘ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، ملک میں آنے والی منشیات میں سے 70 فیصد کی ذمہ دار ہے۔ٹسے چی لوپ کا ان کے وسیع نیٹ ورک کے باعث معروف میکسیکن ڈرگ لارڈ ’ایل چاپو‘ سے موازنہ کیا جاتا ہے۔

خبروں کے مطابق آسٹریلوی پولیس 56 سالہ ٹسے چی لوپ کا ایک دہائی سے تعاقب کر رہی تھی اور انھیں جمعے کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ کینیڈا جانے والی پرواز پر چڑھنے والے تھے۔پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ان کا نام نہیں لیا گیا البتہ کہا گیا کہ ملزم کی حراست کے لیے وارنٹس 2019 میں جاری کیے گئے تھے اور نیدرلینڈز میں حکام نے عالمی پولیس انٹرپول کے نوٹس پر یہ کارروائی کی۔ولندیزی پولیس کے ترجمان نے ٹسے چی لوپ کی گرفتاری کے بعد کہا کہ ان کا نام پہلے سے ہی مطلوبہ افراد کی فہرست میں شامل تھا اور ملنے والی معلومات کے بعد ان کو حراست میں لیا گیا ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو سال قبل ٹسے چی لوپ کے بارے میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی تھی جس میں انھیں 'ایشیا کا سب سے مطلوبہ شخص' قرار دیا گیا تھا۔روئٹرز نے اقوامِ متحدہ کے حوالے سے بتایا تھا کہ صرف میتھ کی فروخت سے ہی اس سنڈیکیٹ کا منافع سنہ 2018 میں 17 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ٹسے چی لوپ کو گرفتار کرنے کے لیے ایشیا کی 20 کے قریب سرکاری ایجنسیوں نے آپریشن کیا

خبروں کے مطابق حالیہ برسوں میں ٹسے چی لوپ مکاؤ، ہانگ کانگ اور تائیوان منتقل ہوئے۔ ماضی میں انھوں نے امریکہ کی جیل میں منشیات کی ترسیل کے معاملے میں نو سال جیل میں گزارے ہیں۔

آسٹریلوی میڈیا نے ان کی گرفتاری کو ملک کی پولیس کے لیے دو دہائیوں میں ’سب سے اہم گرفتاری‘ قرار دیا۔

مزید :

بین الاقوامی -