14سال بعد …………جنوبی افریقہ سرزمین پاک پر!

14سال بعد …………جنوبی افریقہ سرزمین پاک پر!

  

 دو ٹیسٹ کراچی،راولپنڈی اورتین ٹی 20 لاہور میں کھیلے جائیں گے

دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ 1995 اور آخری مرتبہ 2019 میں مدمقابل آئیں 

شاہین شاہ آفریدی 2 میچز میں 9 وکٹیں اپنے نام کرچکے ہیں 

اس سے قبل کراچی میں کھیلا گیا واحد ٹیسٹ میچ جنوبی افریقہ نے جیتا تھا

یہ سیریز ہمارے لیے مہمان ٹیم کے خلاف اعداد و شمار بہتر بنانے کا ایک سنہری موقع ہے

افضل افتخار

انٹرنیشنل کرکٹ کی  بحالی کے طویل عرصے بعد جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم سرزمین پاک پر تشریف آور ہوئی ہے۔14سال کا دورانیہ گزرا یعنی 2007 ء کے بعد پہلی بار یہ مہمان ٹیم پاکستان پہنچی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں ممالک کے درمیان کھیلے جانے والے میچوں کا تفصیلی شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز چھبیس جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے تاریخی گراؤنڈ میں شروع ہوگی۔ یہ ستائیسواں موقع ہوگا کہ جب دونوں ممالک کی ٹیمیں طویل طرز کی کرکٹ میں مدمقابل آئیں گی۔ دونوں ٹیمیں  19 جنوری 1995 کو پہلی مرتبہ ٹیسٹ میچ کھیلنے جوہانسبرگ کے میدان پر اتری تھیں۔جہاں فتح حاصل کرنے والی میزبان ٹیم کا پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ریکارڈ اب بھی بہترین ہے۔ اب تک کھیلے گئے چھبیس میں سے 4 مقابلوں میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی جبکہ 7 میچز ڈرا ہوئے۔ 15 میچوں میں جنوبی افریقہ نے فتح سمیٹی۔دونوں ٹیموں کے مابین آخری ٹیسٹ میچ جنوری  2019میں جنوبی افریقہ کے سپر اسپورٹس کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں فتح میزبان ٹیم کے حصے میں آئی۔اس سے قبل  پاکستان اپنی سرزمین پر کْل سات ٹیسٹ میچوں میں جنوبی افریقہ کی میزبانی کرچکا ہے، جہاں ایک میں اسے فتح اور 2 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 4 میچ ڈرا ہوگئے۔ دونوں ٹیموں کے مابین نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں 2007 میں کھیلا گیا واحد ٹیسٹ میچ جنوبی افریقہ نے جیتا تھا۔موجودہ ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل اظہر علی سب سے زیادہ مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں حریف ٹیم کا سامنا کرچکے ہیں۔ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف  10 ٹیسٹ میچوں میں 25.31 کی اوسط سے 481 رنز بناچکے ہیں تاہم کپتان بابراعظم اب تک تین ٹیسٹ میچوں میں حریف ٹیم کے خلاف ایکشن میں نظر آئے، جہاں انہوں نے 36.83 کی اوسط سے 221 رنز بنائے۔ جس میں 2 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ فاسٹ باؤلنگ اٹیک کو لیڈ کرنے والے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی اب تک 2 ٹیسٹ میچوں میں  جنوبی افریقہ کے خلاف ایکشن میں آچکے ہیں۔ بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر ان 2 ٹیسٹ میچوں کی تین اننگز میں 9 وکٹیں اپنے نام کرچکے ہیں۔ آلراؤنڈر فہیم اشرف صرف ایک مرتبہ حریف ٹیم کے مدمقابل آچکے، انہوں نیاس میچ میں  6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔مہمان ٹیم کے کپتان کوئنٹن ڈی کوک کاپاکستان کے خلاف ریکارڈ موجودہ اسکواڈ میں شامل دیگر کھلاڑیوں میں سب سے بہتر ہے۔انہوں نے پاکستان کے خلاف اب تک کھیلے گئے 3 ٹیسٹ میچوں میں 62.75 کی اوسط سے 251 رنز بنارکھے ہیں۔ سابق کپتان فاف ڈوپلیسی میزبان ٹیم کے خلاف سات ٹیسٹ میچوں میں شرکت کرچکے ہیں، جہاں ان کے رنز بنانے کی کْل تعداد 246 ہے۔دونوں ممالک کے خلاف آخری سیریز میں کاگیسو رابادا نے 18.70 کی اوسط سے 17 وکٹیں اپنے نام کی تھیں۔جبکہ  قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیے گئے 9 نئے کھلاڑیوں میں اوپنرز عبداللہ شفیق اور عمران بٹ کے علاوہ مڈل آرڈر بیٹسمین کامران غلام، سلمان علی آغا اور سعود شکیل سمیت اسپنرز نعمان علی، ساجد خان، فاسٹ باؤلرز تابش خان اور حارث رؤف شامل ہیں۔ان کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک سیزن 21-2020 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی بدولت قومی اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔آلراؤنڈر حسن علی کی دو سال بعد قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔ قائداعظم ٹرافی میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر آلراؤنڈر حسن علی کو ٹورنامنٹ اور فائنل کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔اس سے قبل 9 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے حسن علی نے آخری مرتبہ جنوبی افریقہ کے خلاف  جوہانسبرگ میں ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ انہوں نے قائداعظم ٹرافی  میں 43 وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 273 رنز بھی بنائے تھے۔ ایونٹ کے فائنل میں 129 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے حسن علی نے دوسری اننگز میں 106 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی۔قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں کم بیک کرنے والے دوسرے کھلاڑی محمد نوازہیں، جنہوں نے قائداعظم ٹرافی میں 744 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 22 وکٹیں اپنے نام کیں۔ انہوں نے ایونٹ کے دوران دو مرتبہ ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ انہوں نے آخری مرتبہ 2016 شارجہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔اعلان کردہ بیس رکنی اسکواڈ میں دو آلراؤنڈرز محمد نواز اور فہیم اشرف کے علاوہ کْل تین اوپنرز، چھ مڈل آرڈر بیٹسمین، دو وکٹ کیپرز، تین اسپنرز اور چار فاسٹ باؤلرز شامل ہیں۔نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے حارث سہیل، محمد عباس، شان مسعود اور ظفر گوہر کو قومی ٹیسٹ اسکواڈ سے ڈراپ کردیاگیا ہے۔ حارث سہیل، محمد عباس اور شان مسعود کو نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹرلاہور میں طلب کرلیا گیا ہے، این ایچ پی سی کے کوچزان تینوں کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیوں پر ان کے ساتھ کام کریں گے۔کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنے والے ظفر گوہر سلیکٹرز کے طویل مدتی پلانزکا حصہ ہیں تاہم فی الحال ان کی صلاحیتوں میں مزید نکھار لانے کے لیے انہیں بھی نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر کے کوچز کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔نوجوان فاسٹ باؤلرنسیم شاہ کی جانب سے ہیمسٹرنگ میں کھیچاؤ کی شکایت کرنے پر ان کا نام سلیکشن کے لیے زیرغور نہیں لایا گیا۔ وہ جلد نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں اپنے ری ہیب پروگرام کا آغاز کردیں گے۔قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد وسیم کا کہناہے کہ وہ پہلی مرتبہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بننے والے تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،یہ نو کھلاڑی اب کرکٹ کے سب سے اہم فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے سے صرف ایک قدم دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نو کھلاڑیوں کے لییایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کریں تاکہ وہ مستقل جگہ بناسکیں۔ محمد وسیم نے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے کوویڈ 19 کی عالمی وباء کے باوجود ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت اور پھر شاندار کارکردگی کی بدولت قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں جگہ بنائی ہے، ان کھلاڑیوں کی شمولیت سے ایک بار پھر یہ واضح ہوگیا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی قدر کی جاتی رہے گی، جو کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے خواہشمند ہیں تو وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرسکتے ہیں۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ جو کھلاڑی قومی اسکواڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے، وہ پرعزم رہیں اور اپنی فارم اور فٹنس پر کام کرتے رہیں کیونکہ ابھی رواں سال پاکستان کو بہت کرکٹ کھیلنی ہے اور لہٰذا ممکنہ طور پر انہیں دیگر مواقع پر نمائندگی کا موقع مل سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شان مسعود، محمد عباس اور حارث سہیل کی کارکردگی میں تسلسل نہیں تھا، جس کے باعث انہیں اسکواڈ سے ڈراپ کیا گیا ہے تاہم پی سی بی نے ان کھلاڑیوں پر بہت سرمایہ کاری کررکھی ہے، لہٰذا انہیں نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں مدعو کرلیا گیا ہے جہاں موجود کوچز ان کی تکنیکی خامیوں  پر کام کریں گے۔ محمد وسیم کا کہنا ہے کہ شان مسعود کی کارکردگی میں عدم تسلسل کے باعث عابد علی اب ایک نئے پارٹنر کے ساتھ میدان میں اتریں گے، حال ہی میں نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے والے عبداللہ شفیق یا عمران بٹ گزشتہ سیزن کے ٹاپ اسکورر میں سے کوئی ایک کھلاڑی ان کے ساتھ اوپننگ کرے گا، اسی طرح کامران غلام 1249 رنز، سعود شکیل 970 رنز اور سلمان علی آغا 941 رنز اب  اظہر علی، بابر اعظم اور فواد عالم کے ہمراہ پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ لائن اپ کو مزید تقویت بخشیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نسیم شاہ اور شاداب خان ری ہیب پروگرام کے باعث دستیاب نہیں ہیں، لہٰذا سلیکٹرز نے  آرم اسپنر نعمان علی، آف اسپنر ساجد شاہ، فاسٹ باؤلرز حارث رؤف اور تابش خان کو جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے ابتدائی بیس رکنی اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ  اسپنر زاہد محمود کا کیس بہت مضبوط تھا تاہم ہم نیفی الحال چار ناتجربہ کار اسپنرز کے ساتھ سیریز میں جانے کا فیصلہ کیا  ہے، یاسر شاہ بین الاقوامی کرکٹ کے دباؤ کو سمجھتے ہیں اور وہ اس سطح پر تمام تر توقعات سے مکمل آشناء ہیں۔ چیف سلیکٹر نے کہا کہ انہوں نے تابش خان کو سہیل خان پراس لیے ترجیح دی ہے کیونکہ وہ پاکستان کے حالات میں زیادہ مؤثر اور کارآمد ہیں، محمد عباس کی طرح تابش خان بھی طویل اسپلز کرنے میں عبور رکھتے ہیں، دائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلرنے فرسٹ کلاس کیرئیر میں کْل 598 وکٹیں حاصل کررکھی ہیں، جس میں سے 30 وکٹیں رواں سیزن میں حاصل کی گئی ہیں۔  دوسری جانب جنوبی افریق کی ٹیم میں شامل تجربے کار بیٹسمین فاف ڈوپلیسی تیسری بار پاکستان کا دورہ کررہے ہیں لیکن وہ پہلی بار پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیلیں گے، یہ ان کے کیرئیر کا 68واں ٹیسٹ میچ ہوگا۔فاف ڈوپلیسی 2017 میں پاکستان آئے جو ان کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا، اس وقت وہ آئی سی سی ورلڈ الیون کرکٹ ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے تین ٹی ٹونٹی میچز کھیلنے کے لیے لاہور آئے تھے۔پھر دوسری بار گزشتہ سال پی ایس ایل میں شرکت کیلئے پاکستان کا رخ کیا۔ 26 جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شروع ہونے والا ٹیسٹ میچ جہاں فاف ڈوپلیسی کے ٹیسٹ کیرئیر کا 68واں میچ ہوگا تو وہیں یہ 36 سالہ بیٹسمین کا پاکستان کی سرزمین پر پہلا ٹیسٹ میچ ہوگا۔فاف ڈوپلیسی پاکستان کے خلاف اب تک سات ٹیسٹ میچز میں 27.33 کی اوسط سے 246 رنز بناچکے ہیں۔فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ یہاں وکٹیں فلیٹ ہیں، لہٰذا یہاں ہم بلے بازوں کے لیے رنز بنانے کے مواقع بھی زیادہ ہیں۔دوسری جانب چھبیس جنوری کا دن پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا ایک اور اہم دن ہوگا کیونکہ اس روز پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں 13 سال سے زائد عرصہ بعد پاکستان کی سرزمین پر کسی ٹیسٹ میچ میں مدمقابل آئیں گی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا پہلا میچ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔یہ آٹھواں موقع ہوگا کہ جب دونوں ممالک کی ٹیمیں پاکستان میں کسی ٹیسٹ میچ میں مدمقابل آئیں گی۔  اس سے قبل دونوں ٹیموں کے مابین پاکستان میں کھیلی گئی آخری سیریز 2007 میں منعقد ہوئی تھی، جو مہمان سائیڈ نے 0-1 سے جیتی تھی۔ دو میچوں پر مشتمل اس سیریز کا پہلا میچ بھی نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہی  کھیلا گیا تھا، جہاں مہمان ٹیم نے 160 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم  پاکستان  کے مڈل آرڈر بیٹسمین یونس خان نے میچ کی دوسری اننگز میں 126 رنز کی اننگز کھیلی تھی، ڈیبیو کرنے والے اسپنر عبدالرحمٰن نے دونوں اننگز میں چار، چار وکٹیں اپنے نام کی تھیں۔پوری قوم کی طرح سابق کرکٹرز بھی ایک طویل عرصہ بعد جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمدپر مسرور ہیں۔ اس موقع پرآخری مرتبہ جنوبی افریقہ کے خلاف میدان میں اترنے والے  سابق کرکٹرز نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا  ہے،جنوبی افریقہ کے خلاف 14 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز رکھنے والے سابق کرکٹراور قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ بیٹنگ کوچ یونس خان کاکہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا کے بعد اب جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کا ٹیسٹ سیریز کھیلنے پاکستان آنا ایک شاندار لمحہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے آخری دورے سے متعلق حسین یادیں اب بھی ان کے ذہن میں نقش ہیں۔ دونوں ٹیموں کے مابین نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے آخری میچ میں انہوں نے جس انداز میں سنچری اسکور کی تھی، آج انہیں اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ویسی ہی بہترین کارکردگی کی امید ہے۔نیشنل اسٹیڈیم کراچی ان کا ہوم گراؤنڈ ہے اور وہ ایک طویل عرصہ یہاں کرکٹ کھیلتے رہے ہیں، یہاں کی کنڈیشنز پاکستان کے لیے سازگار ہوں گی، دونوں ٹیموں کے مابین ایک اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔یونس خان نے کہا  انہیں خوشی ہے کہ آئندہ نسل اب قومی کرکٹرز کو اپنے ہوم گراؤنڈز پر ٹیسٹ کرکٹ کھیلتا دیکھ سکے گی جو انہیں طویل فارمیٹ کی اہمیت سے  روشناس کرے گی۔جبکہ سابق ٹیسٹ کرکٹر اور نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر کے بیٹنگ کوچ محمد یوسف کاکہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد ایک سنگ میل ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کرکٹ سے محبت کرنے والی قوم ہے۔محمد یوسف نے کہا کہ آج بھی ان کے پاس پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے سے متعلق  اپنی  بہت سی یادیں محفوظ ہیں اور انہیں یقین ہیکہ یہ سیریز نئی نسل کے لیے  یادگار رہے گی۔ انہوں نے  کہا کہ امید ہے دونوں ٹیموں کے درمیان بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔انہوں نے کہا کہ بلاشبہ دونوں ٹیمیں مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گی، جنوبی افریقہ کی ٹیم کو تجربہ کار کھلاڑیوں کا ساتھ میسر ہے مگر پاکستان کو اپنے ہوم گراؤنڈ میں کھیلنے کا ایڈوانٹیج ہوگا۔ سابق مڈل آرڈر بیٹسمین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی کنڈیشنز سے  فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے، اسکواڈ میں شامل نئے چہروں کو بھی یہاں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا وسیع تجربہ ہے۔جنوبی افریقہ کے خلاف چھ ٹیسٹ میچوں میں 15 وکٹیں حاصل کرنے والے عمر گل کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کرنے پر جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز سے پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کا ایک نیا باب کھل رہا ہے۔سابق فاسٹ باؤلر نے کہاکہ وہ 2007 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میچ کا حصہ تھے،وہ  جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلتے ہوئے ہمیشہ پرجوش رہتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوکہ جنوبی افریقہ نے میچ میں عمدہ کھیل پیش کرکے کامیابی حاصل کی تاہم انہیں یقین ہے کہ بابراعظم کی قیادت میں میدان میں اترنے والی قومی کرکٹ ٹیم 26 جنوری سے شروع ہونے والی سیریز میں بہتر کھیل کا مظاہرہ کرے گی۔جبکہ سابق ٹیسٹ اسپنر عبدالرحمن نے سال 2007 میں کھیلے گئے اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے میچ کی دونوں اننگز میں چار، چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔سابق ٹیسٹ اسپنر کا کہنا ہے کہ تیرہ سال سے زائد عرصہ بعد جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد سے انہیں 2007 میں نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے اپنے ڈیبیو میچ کی یاد آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ جیسی ٹیسٹ کرکٹ کی ایک بہترین ٹیم کے خلاف ڈیبیو میچ میں ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ان کے لیے ایک خواب کی تعبیر مانند تھا۔

 عبدالرحمن نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ اسکواڈ میں شامل اسپنرز نعمان علی، ساجد خان ور محمد نواز فرسٹ کلاس کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، انہیں اندازہ ہے کہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی کنڈیشنز سے کیسے مستفید ہونا ہے۔لیفٹ آرم اسپنر نے کہا کہ یاسر شاہ کی قیادت میں پاکستان کا اسپن اٹیک مہمان ٹیم کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ سابق کرکٹر فیصل اقبال کا کہنا ہیکہ کوویڈ 19 کی وباء کے دوران جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد تمام کھلاڑیوں اور مداحوں کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ  عالمی وباء کے باوجود گزشتہ چار ماہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ڈومیسٹک سیزن کے کامیاب انعقادنے جنوبی افریقہ جیسی ٹیم کی پاکستان آمد میں معاونت کی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سال 2007 میں جب آخری مرتبہ جنوبی افریقہ کی ٹیم پاکستان آئی تھی تو وہ ایک کھلاڑی کی حیثیت سے پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ تھے اور آج وہ ایک ڈومیسٹک ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے قومی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹر ہیں۔ فیصل اقبال نے کہا کہ ہوم گراؤنڈ پر انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے سے نہ صرف ہمارے کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو اپنے گراؤنڈز میں کھیلتا دیکھنے سے آئندہ نسل کی کرکٹ سے محبت میں بھی اضافہ ہوگا۔سابق کرکٹر اور قومی جونیئر کرکٹ ٹیم کے سلیکٹر توفیق عمر کا کہنا کہ   وہ ایک طویل عرصہ بعد جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد پر بہت خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے پر کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے مشکور ہیں۔سابق کرکٹر نے کہا کہ یہ سیریز پاکستان میں کرکٹ کے اہم ترین فارمیٹ کے مستقل انعقاد کا سبب بنے  گی۔ وہ پرامید ہیں کہ دونوں ٹیموں کے مابین ٹیسٹ کرکٹ کے بہترین مقابلے دیکھنے کو ملیں گے، ٹیسٹ کرکٹ سیشنز کا کھیل ہے، یہاں ہر سیشنز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -