پی ڈی ایم بغیر منزل کا کارواں،منتخب حکومت گرانے کے خواہاں خود ہزیمت کا شکار ہیں:وفاقی وزراء

پی ڈی ایم بغیر منزل کا کارواں،منتخب حکومت گرانے کے خواہاں خود ہزیمت کا شکار ...

  

 ملتان، اسلام آباد(سٹاف رپورٹرز،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزّایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے پاکستان ڈیمو کریٹک موو منٹ (پی ڈی ایم) کو اپنی منزل کا پتہ نہیں اسے کس طرف جانا ہے۔ملتان میں میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا پی ڈی ایم بغیر منزل کا کارواں ہے، پہلے استعفے دے رہے تھے، پھر لانگ مارچ اور اب تحریک عدم اعتماد۔ مفادات کی بنیاد پر بننے والا اتحاد کبھی کامیابی سے ہمکنا ر نہیں ہو سکتا۔ لیگی رہنما جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے، ان کی اصلیت عیاں ہو چکی، عوام کا بھاری منڈیٹ رکھنے وا لی حکومت کو گرا نے کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی،حکومت آئینی مدت پوری کریگی، قومی دولت لوٹنے والوں کو کبھی این آر او نہیں ملے گا۔ سفارتی محاذ پر پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، سابقہ دور حکومت میں وزیر خارجہ کا تقرر نہ کرکے ملک کو سفارتی محاذ پر کمزور کیا گیا، دنیا کے ہر کونے میں پاکستان کا بھر پور مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ طویل عرصے بعد ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، نومنتخب امریکی قیادت سے قریبی راوبط استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔دوسری طرف اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے پی ڈی ایم تحریک نہیں رہی، اسکی جان نکل چکی ہے، اپوزیشن کے پاس صرف مایو سی، ناکامی اور ہزیمت باقی رہ گئی ہے، منتخب حکومت گرانے کی خواہش رکھنے والے خودعوام کی نظروں سے گر گئے،(ن) لیگی رہنما بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، براڈشیٹ معاملے نے این آر او کی سیاست کو آشکار کیا،یہ ان کیلئے پانامہ 2ثابت ہوگا۔ عمران خان جب غریبوں کیلئے کینسر ہسپتال اور یونیورسٹیاں بنا رہا تھا تو نواز شریف اور آصف زرداری غریبوں کو لوٹ کر ایون فیلڈ اور سرے میں محل تعمیر کر ر ہے تھے۔(ن) لیگی رہنما جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے، پختہ عزم اور ثابت قدمی عمران خان کی پہچان ہے، قوم کا مال لوٹنے والے قومی مجرموں کو حساب دینا ہوگا۔ادھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹرپر جاری کردہ پیغامات میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے اپوزیشن چاہتی ہے براڈ شیٹ پر رفیق تارڑ، افتخار چودھری اور ملک قیوم پر مبنی کمیشن تشکیل دیا جائے، ان کو پتہ ہے جب بھی ایسے لوگ احتساب کریں گے جن کو خریدنا مشکل ہو گا،ان کی چیخیں آسمان تک جائیں گی،یہی اب ہو رہا ہے۔ آپ کے پاس دو راستے ہیں پیسے واپس کریں یا جیل کاٹیں۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی نئی قیادت سامنے لائے، دو خاندانوں کا مستقبل تاریک ہے، سیاسی جماعتوں میں جمہوریت لائیں اور ادارہ جاتی بنیادوں پر منظم کریں۔ جب تک سیاسی جماعتوں میں لیڈرشپ بدلنے کا میکنزم نہیں آتا ملک میں جمہوریت نہیں پنپ سکتی، پارٹی کو شخصیات سے اوپر ہونا چاہئے۔

وفاقی وزراء 

لاہور(این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہاہے سینیٹ انتخابات میں کوئی اتحادی عمران خان سے پیچھے نہیں ہٹ رہا، پنجاب میں کم ہونے کے بجائے ایک سیٹ بڑ ھے گی،بلاول بھٹو بالغ ہو گئے ہیں، انہوں نے ٹھیک کہا ہے جلسوں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا، جسٹس عظمت سعید عظیم نام ہے،اگر انہیں براڈ شیٹ کی تحقیقات کیلئے جسٹس عظمت سعید قبول نہیں تو کیا جسٹس افتخار یا جسٹس قیوم قبول ہے،آنیوالے دنوں میں دیکھنا ہے یہ کیا رخ اختیا رکرتا ہے، جس نے بھی جرم کیا ہے اس کا تعلق چاہے کسی بھی جماعت سے ہو اسے پھکی ملنی چاہیے۔ لاہور میں امن وامان کے حوالے سے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ شید نے کہا پی ڈی ایم نے جس طرح الیکشن کمیشن کے باہر اپنا رویہ رکھا اگر یہی رویہ رکھیں گے تو ہم ان سے تعاون کیلئے تیار ہیں۔ یہ خوش آئند ہے کہ اپوزیشن سینیٹ او رضمنی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور استعفوں کے فیصلے کو موخر کیا ہے۔ یہ تین باتیں سن لیں حکومت اسرائیل کو تسلیم کر رہی ہے نہ ختم نبوت میں کوئی ترمیم اور نہ ہی کشمیر کی آزادی پر کوئی سمجھو تہ کیا جارہا ہے، مولانا فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں لیکن عمران خان کی ان سے زیادہ خدمات ہیں، جسٹس عظمت سعید غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل او رعظیم جج ہیں، یہ ریکارڈ پر رکھ لیں بالآخر اس کا بڑے پیمانے پر فیصلہ ہونا ہے۔ فارن فنڈنگ کیس میں اب ساری جماعتیں آگئی ہیں،اب فضل الرحمان کو قائد اعظمؒ کا مزا ر یاد آیا ہے، انہوں نے پہلے جو باتیں کیں انہیں دہرانا مناسب نہیں۔ ختم نبوت معاملے پر تو فضل الرحمان او ر(ن) لیگ نے ووٹ دئیے تھے۔میری بات ریکارڈ کر لیں فضل الرحمان ویسے ہی ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، وہ خراب ہونگے، فضل الرحمن نے اسرائیل، کشمیر، ختم نبوت کے نام پر اس قوم کا بڑا وقت ضائع کیا ہے، جب دینی مدرسوں کے طلبہ نے رائفل اٹھائی ہوئی تھی تو فضل الرحمن پرویز مشرف سے ملا کرتے تھے اور ان کیساتھ تھے، اکرم درانی اور دیگر موجود ہوتے تھے، میں بھی ان اجلا سوں میں موجود ہوتا تھا۔ لانگ مارچ آئین و قانون کے دائرے میں ہوا تو ہم بھی ان کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کریں گے۔ بعدازاں ایک نجی ٹی وی کے دفتر کے دورے کے موقع پر گفتگو میں انہوں نے کہا اربوں روپے نیب میں جمع کرانے، پھر سپریم کورٹ کے ذریعے واپس لینے والے براڈ شیٹ کے ذریعے بے نقاب ہونے جارہے ہیں۔ ایک ماہ میں بہت کچھ کھل کر سامنے آجائیگا۔ سیاست بھی دلچسپ مرحلے میں داخل ہونے جارہی ہے۔

شیخ رشید

مزید :

صفحہ اول -