اداروں کی نجکاری کا عمل غیر قانونی اور ملک کیلئے سکیورٹی رسک ہے:رضا ربانی

  اداروں کی نجکاری کا عمل غیر قانونی اور ملک کیلئے سکیورٹی رسک ہے:رضا ربانی

  

 کراچی (سٹاف رپورٹر) سابق چیئرمین سینیٹ اورمرکزی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی سینیٹر میاں رضاربانی نے کہا ہے اداروں کی نجکاری کا عمل ملک کیلئے سکیورٹی رسک ہے۔حکومت نے اپنے سہولت کاروں کو کنسٹرکشن کے شعبے میں این آر او دیا ہے،عمران خان ملک کی بجائے اپنے اے ٹی ایمز کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں،ملک میں آئی ایم ایف کا ایجنڈا چلنے نہیں دیا جائیگا،بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور واپڈا کی ممکنہ نجکاری کے عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔حکومتی اقدام کیخلاف ہر حد تک جائیں گے۔ ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں مختلف مزدور تنظیموں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا بجلی کی قیمتوں میں دو روپے اضافہ نامنظور، فوری واپس لیا جائے، قبل ازیں پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا تھا،حالانکہ قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ تمام اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے جو آگے چل کر نیشنل سکیورٹی رسک بھی بن سکتی ہے۔آئی ایم ایف کے معاہدے کا کسی کوبھی علم نہیں۔نجکاری سے پہلے مشترکہ مفادات کونسل میں مسئلہ لے جایا جانا چاہیے۔سپریم کورٹ نے پاکستان اسٹیل مل کے کیس میں واضح طور پر کہا ہے معاملہ سی سی آئی میں جانا لازمی ہے، نجکاری کا جاری عمل غیر آئینی ہے۔ محنت کش آج کی حکومت سے پوچھتا ہے روز ویلٹ ہوٹل کو کس طرح گروی رکھوایا گیا،پاکستان کا جہاز ملائشیا میں کیسے قبضے میں آیا۔سٹیل مل میں پانچ ہزار سے زائد مزدوروں کو نکالا گیا،دنیا میں کہیں بھی یوٹیلیٹی اداروں کی نجکاری نہیں ہوتی،اس ایشو کو پارلیمان، سینٹ میں پہلے بھی اٹھایااور آئندہ بھی اٹھائیں گے، حکومت کو متنبہ کرتے ہیں پاکستان میں آئی ایم ایف یا کسی اور ملک کا ایجنڈا نہیں چلنے دیں گے۔ جنہوں نے ادارے تباہ کیے ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

رضا ربانی 

مزید :

صفحہ آخر -