ملازمین کو ہراساں کرنے کے الزامات ثابت، کینیڈا کی گورنر جنرل مستعفی

   ملازمین کو ہراساں کرنے کے الزامات ثابت، کینیڈا کی گورنر جنرل مستعفی

  

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) کینیڈا میں ملکہ برطانیہ کی نمائندہ اور گورنر جنرل جولی پائیٹ نے ملازمین سے بدتمیزی، ہراساں کرنے اور بے جا دباؤ ڈالنے کے الزامات درست ثابت ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیڈا کی 57 سالہ گورنر جنرل جولی پائیٹ کیخلاف تفتیشی رپورٹ میں ملازمین پر بے جا دباؤ ڈالنے، ہراساں کرنے اور دھونس دھمکی سے کام کرانے کے شواہد سامنے آنے کے بعد استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گورنر جنرل کی بدتمیزی اور نامناسب برتاؤ کی وجہ سے ما تحت ملازمین رونے پر مجبور ہوگئے تھے جبکہ ماتحت ملازمین جولی پائیٹ کی زہر افشانی کے باعث ہر وقت ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا رہتے تھے۔رپورٹ کے اقتباسات سامنے آنے کے بعد مستعفی گورنر جنرل نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ نئے گورنر جنرل کے تقرر کا وقت آگیا ہے کیونکہ کینیڈا کے عوام اس غیر یقینی دور میں استحکام کے مستحق ہیں۔ میں عملے کو پریشانی کا سامنا کرنے پر معذرت کرتی ہوں۔جولی پائیٹ کے مستعفی ہونے پر وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے روایتی الوداعی شکریہ ادانہ کرتے ہوئے استعفے کو گورنر جنرل کے دفتر میں ہونیوالی ہراسانی کا ازالہ قرار دیا، ملکہ برطانیہ کے دفتر سے فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

گورنر جنرل مستعفی

مزید :

صفحہ آخر -