نئے بزنس ماڈل کے مطابق ریلوے کو خسارے سے نکالیں گے:اعظم سواتی

  نئے بزنس ماڈل کے مطابق ریلوے کو خسارے سے نکالیں گے:اعظم سواتی

  

 لاہور(لیڈی رپورٹر)وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ فریٹ آمدن کے ہدف کو 19ارب سے 36ارب تک لے کر جارہا ہوں، سکول او رہسپتال چلانا میرا کام نہیں ہے جہاں نقصان ہوگا اسے آؤٹ سورس کیا جائے گا، تاخیر کی وجہ سے روزانہ 60ہزار ڈالر کا نقصان ہورہا ہے، سگنلز منصوبے میں کرپشن اور بے قاعدگیوں بارے ریفرنسزکو جلد نمٹانے کیلئے چیئرمین نیب سے ملاقات کی اور انہوں نے ایک ہفتے میں اسے نمٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے، ہم سے 100 روز کا حساب تو لیا جاتا ہے لیکن جنہوں نے تین سے چار دہائیوں میں معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ان سے نہیں پوچھا جاتا،اپوزیشن جب اسمبلیوں سے استعفے دے گی تو مٹھائی تقسیم کروں گا، براڈ شیٹ میں جن کے ہاتھ کالے ہوئے وہ سامنے آئیں گے اور ان کے منہ بھی کالے ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اعظم خان سواتی نے کہا کہ اگر عمران خان تنقید برداشت کررہاہے تو میں بھی تنقید برداشت کروں گا، ریلوے کو ٹھیک کرنا ہے تو بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر نہ بیان کیاجائے، اگر ہم نے ریلوے کو درست کرنا تو اسے بزنس ماڈل سے ہی دوبارہ کھڑا کیا جا سکتا ہے،اگر میں اپنی ذات کے لئے امریکہ میں کامیاب بزنس کر سکتا ہوں تو ریلوے کو بھی اسی طرز پر چلاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ریل کاپ کمپنی کا سربراہ ڈی ایس راولپنڈی ہے، کنسٹرکشن فل ٹائم جاب ہے، ایسے میں کوئی شخص کیا بزنس لا کر دے گا۔ اسی طرح آئی ٹی، سٹورز، انفراسٹر اکچر کے لئے ماہرین کو لگائیں گے، ہم نئے بزنس ماڈل کے مطابق ریلوے کو خسارے سے نکالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم افسران او رمزدوروں کو اچھا ماحول اور سہولیات دیں گے تو وہ بھی بزنس ماڈل کو کامیاب کریں گے، افسران او رمزدو رمیری آنکھوں کے تارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریل چل پڑی ہے مجھے ایک سال دیدیں پھر میر امحاسبہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ افسران اور مزدوروں میں پانچ فیصد کالی بھیڑیں ہوں گی لیکن اکثریت ریلوے کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں دو ہفتے پہلے اپنی ٹیم کے ہمراہ نیب کے چیئرمین سے ملا ہوں۔ میں نے انہیں واضح کہا ہے کہ جنہوں نے کرپشن کی ہے آپ انہیں بیشک پھانسی لگائیں لیکن جو تاخیر ہو رہی ہے اس کے لئے راستہ نکالا جائے۔چیئرمین نیب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہفتے میں اسے نمٹایا جائے گا۔ انہوں نے جاوید لطیف کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اسد قیصر کمیٹی کے چیئرمین ہونے کی حیثیت سے جسے بلانا چاہیں اسے بلا سکتے ہیں،اسی طرح چیئرمین سینیٹ کا کردار ہے، اگر وزیر اعظم کو بھی بلائیں گے تو وہ بھی حاضر ہوں گے، شبلی فراز نے جو بھی بات کی ہے درست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے وزیر اعظم عمران خان کی آشیر باد حاصل ہے،میں دو سال چھ ماہ تک اس وزارت پر رہوں گا، آئی ایم ایف کا ریلوے سے کوئی تعلق نہیں، یہ محکمہ حکومت نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہے،میرے پاس الہ دین دین کا چراغ نہیں،19سے 36ارب کا ہدف یہیں سے کمانا ہے، ہم اسے حاصل کر لیں گے۔ 

 وزیر ریلوے

  لاہور(لیڈی رپورٹر) سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان اور وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کے مابین لاہور میں تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں ریلوے کالونیوں کے رہائشیوں کو درپیش مسائل پر بات چیت ہوئی۔سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے لاہور شہر کے ریلوے کے رہائشیوں کے علاقے میں بنائی جانے والی سڑکوں اور دیگر ترقیاتی کاموں سے آگاہ کیا اور گھروں کی بوسیدہ حالت سمیت مختلف مسائل کی نشاندہی کی۔ وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے ریلوے کالونیوں کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی اور موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔اس موقع پرسینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان اور وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ملک درست سمت گامزن ہے اور موجودہ حکومت نے کورونا اور دیگر مشکلات کے باوجود درپیش چیلنجز کا احسن انداز میں سامنا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی آئندہ اڑھائی برسوں میں تیزی سے عوامی مسائل حل کرے گی۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے مابین تحائف کا تبادلہ بھی ہوا اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیاگیا۔

عبدالعلیم خان

مزید :

صفحہ آخر -