کوہاٹ،لیاقت وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال پر تعمیراتی کام بند

کوہاٹ،لیاقت وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال پر تعمیراتی کام بند

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) لیاقت وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال پر تعمیراتی کام بند ہونے کی وجہ فنڈ کا نہ ہونا ہے اگر حکومت کے پاس فنڈز نہیں تھے تو پھر منصوبہ بنانے اور ہسپتال کو مسمار کرنے کی کیا ضرورت تھی بدقسمتی سے ہمارے منتخب ایم این اے اور ایم پی ایز بہت کمزور شخصیت کے مالک ہیں ہمارا ایم پی اے جب اپنے کارکنوں کو یہ کہتا ہے کہ اکٹھے ہو کر جاؤ اور ڈاکٹروں کو مارو تو پھر مثبت طریقے سے اپنی پی ٹی آئی کے ورکروں کو بھی استعمال کریں تاکہ کوھاٹ کو فائدہ پہنچے منتخب ممبران جن کو کوھاٹ کی عوام نے منتخب کیا ہے وہ اپنے ورکرز کو آگے لائیں کہ حکومت پر پریشر ڈالیں جلوس نکالیں ان خیالات کا اظہار سابقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر صفدر خان نے میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہمارے ممبران اسمبلی میں بھی اتنی جرأت ہونی چاہیے کہ وہ اسمبلی میں اپنے حلقے کی نمائندگی کرتے ہوئے کھل کر بات کریں کہ ہسپتال کو مسمار کرنے کے بعدفنڈز کیوں نہیں دیئے جا رہے مگر بدقسمتی سے ہر شخص اپنی نوکری پکی کرنے کے چکر میں ہے کوھاٹ کی عوام کے لیے کوئی نہیں سوچتا ان کی سوچ ذاتی مفاد تک محدود ہے اسی طرح ایم این اے کو دیکھ لیں کہ الیکشن میں کتنے بلند و بانگ دعوے کرتا تھا۔

مگر اب اس کا دور دور تک نام و نشان نہیں شہریار آفریدی سے کوئی پوچھے کہ پہلے تو ہسپتالوں پر بہت چھاپے لگاتے تھے اب بھی آؤ اور اجڑے ہسپتال کے کھنڈرات پر کھڑے ہو کر بات کرو لیاقت وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کے مسمار ہونے سے کوھاٹ کی عوام کو یقینا بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اب ہسپتال کی ایم ایس کو چاہیے کہ وہ تمام ہسپتال اور تمام شعبہ جات سنگیڑھ ہسپتال شفٹ کرے جب وہاں پر ایک پرائیویٹ ہسپتال کام کر سکتا تھا جہاں آپریشن بھی ہوتے تھے لیبارٹری بھی تھی الٹرا ساؤنڈ‘ وارڈز اور او پی ڈی بھی موجود تھی اور رہائشی کوارٹرز بھی موجود تھے جب وہ ہسپتال چل سکتا تھا تو اب گورنمنٹ کو چاہیے کہ مکمل ہسپتال کو شفٹ کر کے عوام کو سہولت دیں مگر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بھی نہیں چاہتی کہ کوھاٹ کی عوام کو سہولت ہو۔ 

مزید :

علاقائی -