اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مذہبی مقامات کے احترام کی قرارداد منظور!

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مذہبی مقامات کے احترام کی قرارداد منظور!

  

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سعودی عرب کی تحریک اور پاکستان کی تائید کے ساتھ پیش کی جانے والی ایک قرارداد منظور کر لی ہے، جس میں دُنیا بھر کے ممالک میں مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے اور گرانے کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ یہ قرارداد بھارت اور فرانس جیسے ممالک میں، مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے اور توہین کے حوالے سے ہے۔ اس قرارداد کی منظوری کے موقع پر بھارت کے مندوب نے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کی اور کرک میں مندر جلنے کا ذکر کیا، جواب میں پاکستانی مندوب ذوالقرنین چھینا نے کہا بھارت دُنیا میں سب سے زیادہ مذہبی افکار کی توہین اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی اور بُرا سلوک کرنے والا ملک ہے،انہوں نے کرک کے واقعہ کی وضاحت دی کہ حکومت اور انتظامیہ نے فوری ایکشن لیا، ملزم گرفتار کر لئے گئے اور مندر کی فوری  تعمیر و مرمت شروع کرا دی گئی، تمام سیاسی اور دینی رہنماؤں نے بھی مذمت کی۔انہوں نے سانحہ گجرات…… بابری مسجد کی مسماری، سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی، مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مظالم اور یکطرفہ کارروائیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بھارت میں تمام اقلیتیں خود کو غیر محفوظ خیال کرتی ہیں، اور اب تو اقلیت دشمن قوانین بھی نافذ کئے جا رہے ہیں، اس مشترکہ قرارداد کو اسلامی کانفرنس کی حمایت بھی حاصل ہے اور اس کی منظوری پاکستان کی بھی اخلاقی فتح ہے کہ عالمی پلیٹ فارم پر بھارت کی مذمت ہو گئی۔ پاکستانی مندوب اور وفد کی کارکردگی قابل ِ تحسین ہے تاہم زیادہ ضروری ہے کہ بھارت کی ریشہ دوانیوں کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑا جائے،اِس سلسلے میں دفتر خارجہ کو اپنی کاوشیں اور بھی تیز کرنا چاہئیں، اس قرارداد کی منظوری سے یہ تاثر بھی بنتا ہے کہ درست سمت میں موثر اقدامات کے ذریعے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -