مہنگائی اور بے روزگاری میں بے لگام اضافہ

مہنگائی اور بے روزگاری میں بے لگام اضافہ

  

سٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ بجلی کے نرخ بڑھنے کی وجہ سے اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھیں گی جس سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے تاہم آگے چل کر مہنگائی کم ہو جائے گی، مہنگائی کی شرح سات سے نو فیصد تک برقرار رہنے کا امکان ہے،انہوں نے بتایا کہ شرح سود سات فیصد برقرار رہے گی، آئندہ اِس میں اچانک اضافہ نہیں ہو گا۔ معیشت پر کورونا کے اثرات اب بھی موجود ہیں، وبا میں ہماری کرنسی دوسرے ممالک کی نسبت مستحکم رہی، مینو فیکچرنگ کے بارہ شعبوں میں مثبت نمو کے باعث روزگار بحال ہونا شروع ہو گیا ہے،تعمیراتی سرگرمی میں اضافے سے سیمنٹ کی قیمتوں میں استحکام رہا، پٹرولیم مصنوعات کی فروخت دو سال کی بلند ترین سطح پر آ گئی، کاروں اور ٹریکٹر کی فروخت بھی بڑھ گئی، پہلے کے مقابلے میں معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

بجلی کے نرخوں میں تازہ ترین اضافے کے بعد اب مصنوعات کی پیداواری لاگت لازماً بڑھے گی اور نتیجے کے طور پر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا، جو پہلے ہی محدود آمدنی والوں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، بجلی کی قیمت بڑھنے سے ایک تو صارفین براہِ راست متاثر ہوتے ہیں اور دوسرے بالواسطہ طور پر انہیں مہنگی اشیاء کی شکل میں زیادہ ادائیگی کرنا پڑتی ہے،اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اُن کی آمدنیاں نہیں بڑھیں گی اور اخراجات بڑھ جائیں گے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد خط ِ  غربت سے نیچے لڑھک جائے گی،اِس بار بجلی کی قیمت بڑھاتے وقت ”لائف لائن صارفین“ کا بھی لحاظ نہیں رکھا گیا،عام طور پر ماضی میں ایسے صارفین کے لئے نرخ نہیں بڑھائے جاتے تھے تاکہ اشک شوئی کے لئے کہا جا سکے کہ ”اضافے سے غریب متاثر نہیں ہوں گے“ لیکن اِس بار تکلف کا یہ پردہ بھی ہٹا دیا گیا ہے، اضافے کا اطلاق ہر قسم کے صارفین پر کر دیا گیا۔اضافے کی صورت میں مجموعی طور پر صارفین پر200ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا ہے، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی ان  شرائط میں سے ایک تھا جو قرضے کی اگلی قسط جاری کرنے کے لئے رکھی گئی ہیں۔اگرچہ حکومت نے اضافے کا سارا ملبہ سابق حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی ہے اور ”مہنگی بجلی کے معاہدوں“ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے،لیکن یہاں یہ بات قابل ِ لحاظ ہے کہ ان معاہدوں کے باوجود جو بیس بائیس برس پہلے ہوئے تھے، بجلی کے نرخ کبھی اتنے نہیں بڑھائے گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے پورے دورِ حکومت میں بجلی کی پیداوار میں معتدبہ اضافہ ہوا، لوڈشیڈنگ ختم ہوئی اس کے باوجود نرخوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت اپنے ڈھائی سالہ عرصہ اقتدار میں کئی بار نرخوں میں اضافہ کر چکی ہے اور خیال ہے کہ اپریل میں ایک اور اضافہ ہو گا۔صارفین کو بجلی کے بلوں کے ساتھ نیلم جہلم سرچارج بھی ادا کرنا پڑتا ہے، جو اس پراجیکٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے لگایا گیا تھا،لیکن اب جبکہ یہ منصوبہ بجلی پیدا کر رہا ہے یہ سرچارج اب تک ختم نہیں کیا گیا اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اسے اپنی آمدنی کا مستقل ذریعہ بنا لیا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ عملاً بجلی کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں،لیکن حکومت کے ایک مشیر یہ ”خوش خبری“ سنا رہے ہیں کہ بجلی سستی کی جائے گی اور اس کے لئے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں،معلوم نہیں ان مذاکرات کا نتیجہ کب اور کس شکل میں برآمد ہو گا،لیکن قیمتیں بڑھانے کے اگلے ہی روز یہ اعلان کر دینا کہ بجلی سستی کی جائے گی، صارفین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

حکومت اس اضافے کا جواز یہ پیش کر رہی ہے کہ آئی پی پیز کو استعداد کے مطابق ادائیگیوں کے لئے نرخ بڑھانا ناگزیر ہے، جس کی وجہ سے گردشی قرضہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔جب اس حکومت نے اقتدار سنبھالا تو گردشی قرضہ گیارہ سو ارب روپے کے لگ بھگ تھا،جو اب تقریباً دوگنا ہو چکا ہے، حالانکہ اس دوران کئی بار بجلی کے نرخ بڑھائے جا چکے ہیں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ آئی پی پیز کو ادائیگیوں کے لئے کوئی نظام وضع ہی نہیں کیا گیا اور اب جبکہ قیمت بڑھائی گئی ہے تو اس کی ذمے داری سابق حکومت پر ڈال کر بظاہر لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ جو حکومت اپنے نصف عرصہئ اقتدار میں کوئی قابل ِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی اور جس کے دور میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی آ چکی ہے اور اس کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے  وہ اپنی اگلی نصف مدت میں کیا معجزہ دکھا سکتی ہے۔سٹیٹ بینک کے گورنر کو معیشت میں بہتری کے آثار نظر آتے ہیں اور اُن کے بقول بارہ شعبوں میں بے روز گاری کم ہوئی ہے، لیکن عملاً عالم یہ ہے کہ جو لاکھوں لوگ اس حکومت کے ورودِ مسعود کے وقت خوش و خرم اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے،اُن  کی آمدنیاں بھی اس دور میں آدھے سے بھی کم ہو گئی ہیں، بہت سے کاروبار ایسے ہیں، جنہیں جاری رکھنا مشکل ہے اور آجر اخراجات کنٹرول کر کے کسی نہ کسی طرح اپنے کاروبار جاری رکھنے کی  کوشش کر رہے ہیں،لیکن جو لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں،اُنہیں کہیں بھی کوئی متبادل دستیاب نہیں،بے روزگاری تو اس صورت ختم ہو گی جب جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھے گی، موجودہ شرح پر تو بے روزگاری ختم کرنے کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا، اور اس حکومت کے اگلے دو ڈھائی برس میں شرح نمو زیادہ سے زیادہ دو ڈھائی فیصد تک جا سکتی ہے، اس شرح سے بڑھنے والی معیشت اس قابل نہیں ہوتی کہ روزگار کے وسائل پیدا کر سکے، سرکاری نوکریاں ختم ہو رہی ہیں اور کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمتیں اور آمدنیاں کم ہو رہی ہیں،ایسے میں معیشت کی تصویر تو بے رنگ ہی نظر آتی ہے، تاہم گورنر سٹیٹ بینک اس کا روشن پہلو دیکھ رہے ہیں، لیکن اتنا تو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی بڑھے گی،لیکن کیا بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے لوگوں کی آمدنیاں بھی بڑھیں گی۔ ڈھائی سال میں تو ایسا نہیں ہو سکا آئندہ کب ہو گا، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔

مزید :

رائے -اداریہ -