یارانِ تیز گام!

یارانِ تیز گام!
یارانِ تیز گام!

  

 لیاقت ملک صاحب کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ان کی نفیس شخصیت نے پرتپاک انداز سے اپنی دلکش مسکراہٹ کا جال پھینک کر ایسا اپنے حصار میں لیا کہ آٹھ برس کیسے گزر گئے پتہ ہی نہیں چلا… ان آٹھ برسوں میں مجھے نہیں یاد کہ میں نے لیاقت ملک صاحب کو کبھی کسی کے ساتھ تلخ کام یا نبردآزما دیکھا ہو۔ دفتر کی پارکنگ میں گاڑی سے اترتے ہی وہاں پر موجود ہر شخص سے مسکراتے ہوئے بلاامتیاز مصافحہ کرنا، فرداً فرداً حال احوال دریافت کرنا ان کی شخصیت کا ایسا وصف تھا جو میں نے کسی اور منصب دار میں کبھی نہیں دیکھا۔ یہی وجہ تھی کہ دفتر میں کام کرنے والا ہر شخص ان کا مطیع و فرمانبردار تھا۔ ہر ایک کے ساتھ پیار سے بات کرنے کے طرزعمل نے لیاقت ملک صاحب کو ہردلعزیز بنا دیا تھا۔ وہ شکل و صورت سے ہی حسین و جمیل نہیں تھے بلکہ ان کے حسن اخلاق نے ان کو ایسے پیکرِ جمال میں ڈھال دیا تھا جس سے ان کے حلقہ ارادت کے لوگوں کی اکثریت ان کو دل دے بیٹھی تھی۔ان میں ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگ شامل تھے…… ملک صاحب کا دفتر کا کمرہ ان کا ڈیرہ تھا جہاں دن کا زیادہ وقت ان کے چاہنے والوں کا ہجوم رہتا تھا…… چائے کافی اور قہوہ ہر ایک کی طبع اور طلب کے مطابق محبت اور خلوص سے پیش کیا جاتا تھا... ملک صاحب کی وضعداری کا یہ عالم تھا  کہ کسی مہمان یا دفتر کے ساتھی سے ضروری بات کرنا ہوتی تو خود اٹھ کر مصطفی نیاز یا کسی دوسرے کے کمرے میں چلے جاتے اور محفل کا رنگ جما رہتا۔

مشاہدے کی بات ہے کہ بااختیار لوگوں سے منسلک لوگ اکثر اپنے باسز کے غیرانسانی سلوک کے گلہ گزار اور شکوہ کناں رہتے ہیں۔ان کی خدمات سرانجام دیتے ہوئے سر خوشی کی بجائے روزگار کی مجبوری اور بے بسی ان کے چہرے سے ٹپکتی صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک خوف اور ڈر کا دھڑکا انہیں چوکس و ہوشیار تو رکھتا ہے مگر چاق و چوبند رہنے کے ساتھ باس کی آواز نہ ہی آئے کا اظہار ان کی بدن بولی میں شامل ہوتا ہے، مگر لیاقت ملک صاحب کا معاملہ اس کے بالکل برعکس رہا۔ان کے ساتھ دفتری حوالے سے خدمات انجام دینے پر مامور لوگ ان کے ساتھ عقیدت و محبت کے ایسے رشتے سے جڑے ہوئے تھے کہ جس کا نظارہ کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

میں اپنے آٹھ سالہ دورانیے کے مشاہدات پر مبنی تاثرات رقم کرنے لگوں تو اس کے لئے مجھے پورا دفتر درکار ہوگا مگر یہ تصور کہ اب مجھے ان کے عرصہئ فراق میں ہی عرصہ زیست بِتانا ہے، مجھے اسی طرح سے آزردہ خاطر کرتا ہے کہ احساس فرقت اشکوں کی صورت آنکھوں سے رواں ہو کر لوحِ قرطاس پر الفاظ کی لڑیوں کو نم کر جاتا ہے۔ ایک محبت کرنے والے کی موت کا غم کتنا اندوہناک ہوتا ہے۔

روزنامہ ''دن'' کے ادارتی صفحے کی ذمہ داریاں نبھانے کے ان آٹھ برسوں کے دورانیے کو پلٹ کر دیکھتا ہوں تو ایک خوشگوار حیرت مجھے جکڑ لیتی ہے کہ اداریہ نویسی جیسی مشکل اور اہم ذمہ داری نبھانے کے لئے مجھے کبھی نہ تو محترم محمود صادق اور نہ ہی کبھی جناب ملک لیاقت صاحب کی طرف سے کسی قسم کی کوئی تنبیہہ، رکاوٹ یا مشکل درپیش نہ رہی۔ دونوں مرنجاں مرنج شخصیات کے ساتھ کام کرنے کی جتنی آزادی اور سہولت دستیاب رہی پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں اس کا تصور ہی محال ہے۔ میرے کام پر کسی قسم کا اعتراض تو کجا ان کرم فرماؤں نے کبھی کسی کا مضمون بھی شائع کروانا ہوتا تو حکم نہیں بلکہ ایسے  لہجے میں بات کرتے جیسے وہ اپنے نہیں کسی دوسرے اخبار کے کسی بااختیار ایڈیٹر سے فرمائش کر رہے ہوں۔ یقینا یہ ان دونوں کی اعلیٰ ظرفی اور قدرشناسی کی ایسی نادر و نایاب مثال ہے جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ روزنامہ ''دن'' کی بندش نے جہاں سینکڑوں لوگوں کے چولہے بجھائے وہیں لیاقت ملک اور کرم حسین جامی کی زندگیوں کے چراغ بھی گل کر دیئے۔ اسی لئے آج محترم لیاقت ملک اور کرم حسین جامی کے لئے اس تعزیتی ریفرنس کے انعقاد کے موقع پر میں چیئرمین دن میڈیا گروپ جناب محمود صادق سے درخواست کروں گا کہ وہ آج اپنے دو دیرینہ رفقاء  کے سانحہئ ارتحال پر ان کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس کو روزنامہ ''دن'' کا تعزیتی ریفرنس نہ بننے دیں اور ان کی قبروں پر نئے دن کے طلوع کی روشنیوں کا انتظام کریں کہ یہ انتظام جہاں بچھڑنے والے یارانِ تیزگام کی یادیں تازہ رکھے گا وہیں خود محمود صادق کو بھی زندگی کا احساس دلاتا رہے گا۔ چیئرمین صاحب کو یقینا اب تک اس بات کا ادراک ہو چکا ہو گا کہ ان کو ملنے والا رزق تن تنہا انہی کو میسر نہیں آتا بلکہ اس رزق میں نہ جانے کتنے لوگوں کے مقدر کا رزق شامل ہوتا ہے، اسے ہی بزرگ 'برکت'' کہتے ہیں جسے شامل حال رکھنے کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ آیئے آج اپنے بچھڑنے والے پیارے لوگوں کے اخروی درجات کی بلندی کے لئے دعا کرتے ہوئے ان کی یاد میں آنسو بہانے والوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے چیئرمین دن میڈیا گروپ سے استدعا کریں کہ جانے والوں کی یاد میں رونے والوں کے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھنے کی نوبت آنے سے پہلے ''دن'' کو نئے ''دن'' کی روشنیوں سے منور کرنے کا انتظام کرنے میں تاخیر نہ کریں کہ ان جیسی ولولہ انگیز شخصیت کو مایوسی کی ردا میں لپٹنا زیبا نہیں ہے۔ مایوسی گناہ ہے تو ناکامی حرفِ دشنام… اور ہمیشہ کامیابیاں سمیٹنے کی عادت رکھنے والا محمود صادق اپنے اجلے دامن پر ناکامی کا داغ خود اپنے ہاتھوں سے لگائے ایں چہ بوالعجبی است…؟؟

(ملک لیاقت مرحوم کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں پڑھا گیا)

مزید :

رائے -کالم -