پی ڈی ایم کا پھٹا ہوا ڈھول

پی ڈی ایم کا پھٹا ہوا ڈھول
پی ڈی ایم کا پھٹا ہوا ڈھول

  

پی ڈی ایم اپنا محور کھوتی جا رہی ہے۔ شروع میں لگتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے، اب لگتاہے کہ عمران خان کے خلاف ہے۔ اگرچہ دونوں باتیں ایک ہی ہیں مگر پھر بھی کہاں عمران خان اور کہاں اسٹیبلشمنٹ!...بدقسمتی ہی یہی ہے کہ یہاں لیڈر شپ پیدا ہونے دی جاتی ہے اور نہ ہی تحریکیں بننے دی جاتی ہیں۔ آپ پی ٹی آئی کے دھرنے کو ہی لے لیجئے، جس کسمپرسی میں دھرنا جاری رہا تھا اس اعتبار سے تو عمران خان کی سیاست کا بیڑہ بالکل ہی غرق ہو جانا چاہئے تھا مگر پھر یہ ہوا کہ اس دھرنے سے نواز شریف کی حکومت کو تو کچھ نہ ہوا مگر  دھرنا پانامہ میں اور پانامہ اقامہ میں بدل کر پورے ملک کی تقدیر بدل گیا، بس یوں سمجھئے کہ 

راہی سے اگلی راہ کی  تدبیر کھو گئی 

منزل پہ آکے خواب کی تعبیر کھو گئی

تب سے پاکستانی قوم بے راہ روی کا شکار ہے، آگے کی خبر ہے نہ پیچھے کی، جو ترقی نواز شریف کے دور میں ہوئی تھی وہ ساری کی ساری دھڑام سے نیچے آگری ہے۔ آج کل وزیر اعظم معیشت کی بحالی پر بغلیں تو بجاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ جونہی یورپ میں کورونا وبا کا خاتمہ ہوگا اور پیداواری سرگرمیاں بحال ہوں گی، ہماری برآمدات کا جنازہ نکل جائے گا۔  مگر اس دوران حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل مل مالکان پر جو  نوازشات کی گئی ہیں، جس طرح سستی بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے اور جس طرح ری فنڈز کے نام پر ملکی خزانہ ان پر لٹایا گیا ہے اس کے نتیجے میں عام آدمی کی معیشت کا جنازہ نکلا ہے، بڑے بڑے مگر مچھوں نے غول کے غول ہڑپ کئے اور بیچارے غریبوں کے حصے میں چھوٹے چھوٹے کیچوے آئے ہیں اور ہم خوش ہیں کہ روزگار چل پڑا ہے، ہم خوش ہیں کہ چوکوں میں کوئی مزدور فارغ نہیں بیٹھا ہوا ہے مگر ہم افسردہ ہیں کہ مشرف کی خوش حالی میں ہمارے اپنے گھر بن سکے تھے اور نہ عمران خان کی معاشی بحالی کے باوجود ایسا ممکن ہوا ہے۔ جتنے پیکج ہیں پیسے والوں کے لئے ہیں، غریبوں کے لئے صرف نوکریاں ہیں، ہمارے ملک میں کاروباری اذہان پیدا ہونے دیئے جا رہے ہیں اور نہ سیاسی لیڈرشپ پیدا ہونے دی جا رہی ہے، آ جا کر ہمارے پاس ایک منشا ہے اور ایک شیخ رشید جن کی ساری جدوجہد نے معاشرے کو کچھ نہیں دیا، بس ان کے اپنے گھر ہی بھرے ہیں۔

خیر بات ہو رہی تھی پی ڈی ایم کی جس کی کوئی سمت نظر نہیں آتی ہے، پہلے پی ڈی ایم قیادت کہہ رہی تھی کہ عمران حکومت دسمبر نہیں دیکھے گی، پھر بلاول بتانے لگے کہ ان سے لکھوالیں کہ عمران خان جنوری سے آگے نہیں جائیں گے اور اب لانگ مارچ ہی لمبا ہوتا جا رہا ہے اور اپوزیشنبیبے بچوں کی طرح ایک ایک کرکے ہر موڑ پر کمپرومائز کرتی جا رہی ہے۔ نواز شریف کی نے نوازی دم توڑ چکی ہے، مولانا کی گھن گھرج کو کھرچنے سے بھی کچھ برآمد نہیں ہورہا ہے، مریم کی پاٹ دار تقریریں بے جان پڑتی جارہی ہیں اور بلاول گلا پھاڑ پھاڑ کر اوپر اوپر سے کہہ رہے ہیں کہ ڈائیلاگ شائیلاگ کا وقت گزر گیا ہے اور اندر سے تاریں ملائے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی چال چلتے نظر آرہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک مصنوعی تبدیلی پر حقیقی تبدیلی کا رنگ چڑھتا جا رہا ہے، ہم ایسے خانہ خراب جو عوام کے حقوق کی پاسداری کا درد لئے حرف حرف لکھتے ہیں، ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی تصویر بنے ہوئے ہیں،مرحوم رؤف طاہر کہا کرتے تھے کہ اگر عمران خان بھی عوامی راج کے لئے اٹھ کھڑا ہو اور سٹیٹس کو کی قوتوں کو للکارنا شروع کردے تو وہ ان کے بھی ساتھ کھڑے ہوں گے کیونکہ ان کی کمٹمنٹ جمہوریت ہے، نوازشریف نہیں ہیں۔ اسی لئے جب نواز شریف نے کہا تھا کہ وہ نظریاتی ہو گئے ہیں تو دل کی ویرانیوں میں خوشیاں بھر گئی تھیں مگر پھر جس انداز میں پردیس پدھارے، اس سے عیاں ہوگیا کہ ایک اور این آر او دستخط ہوچکا اور نوازشریف اگلے پانچ دس برسوں کے لئے سرور پیلس کے بعد ایون فیلڈ کے محلوں میں جا بسے ہیں، پچھلی بار حمزہ شہباز چکی پیسنے کو پیچھے رہ گئے تھے اس مرتبہ مریم کے گلے میں یہ طوق ڈال دیا گیا ہے۔ 

ملٹری میڈیا الائنس نے ایک جیتی جاگتی پی ڈی ایم تحریک کو بے جان اور ادھ موا کرکے رکھ دیا ہے۔ پی ڈی ایم قیادت کے لئے جائے ماندن ہے نہ پائے رفتن۔ نواز شریف میڈیا کو خاطر میں نہ لاتے تھے، آج میڈیا ان کو پہچاننے کا روادار نہیں ہے، زرداری صاحب اپنے بینکر میں بیٹھے خدامعلوم کن سگنلز پر کاروائیاں کرنے میں مصروف ہیں، مولانا ڈنڈا بجاتے پھر رہے ہیں اور عوام کھوکھلی آنکھیں لئے ہوئے ہیں جن میں ہزارہا راجہ گدھ کے گھونسلے بن چکے ہیں۔پی ڈی ایم کو چاہئے کہ بڑی بڑی ہانکنا بند کردے اور عوام کو بتائے کہ اسے ابھی تک اشارہ نہیں ملا ہے کہ حکومت کا دھڑن تختہ کردیا جائے، اس لئے عوام بے جا  امیدیں باندھ کر اوتاولے نہ پڑیں بلکہ ملک کے اندر مصنوعی معاشی بحالی کے ثمرات سمیٹنے کی کوشش کریں کیونکہ جس بے وقوف نے اس موقع سے بھی فائدہ نہ اٹھایا، اسٹیبلشمنٹ اس کا کچھ بھلا نہ کر سکے گی۔ پی ڈی ایم کے پھٹے ہوئے ڈھول سے نکلنے والی بھدی آواز کانوں کو ناگوار لگنے لگی ہے!

مزید :

رائے -کالم -