ہم نے دیکھا ہے بہارو ں میں چمن کو جلتے (2)

ہم نے دیکھا ہے بہارو ں میں چمن کو جلتے (2)

  

مجھے یاد ہے کہ 2 دسمبر 1971ء کو عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کے سنیئر ترین وزیر کی سربراہی میں ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور کراچی کے ایک عشایئے میں بھی شرکت کی تھی، جس کا اہتمام پاک چین دوستی کی انجمن کے صدر حاتم علوی نے کیا تھا۔ غالباً چینی قیادت کے اس دورے کامقصد حکومت پاکستان کو معاملات کی سنگینی سے آگاہ کرنا تھا۔ مذکورہ عشائیہ، جوکراچی کے کانٹی نینٹل ہوٹل میں منعقد ہواتھا، ڈائس پر مہمان خصوصی اور میزبان کے علاوہ گورنر سندھ جنرل رخمان گل اور بیگم رعنا لیاقت علی خان بھی موجود تھیں۔ مَیں بینکوئیٹ ہال کے کوریڈور میں داخل ہوا تو اس وقت عشایئے میں کچھ وقت باقی تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ کوریڈور میں ایک صوفے پر معروف دانشور فیض احمد فیض تنہا تشریف فرماتھے، جنہوں نے مجھ سے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال میں سوویت یونین کے رویئے کی وجہ سے وہ کسی غیظ وغضب کا شکار نہ ہوجائیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس دور میں سوویت یونین کے سربراہ حکومت الیکسی کو سیجن تھے جنہوں نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیاتھا۔ اُنہوں نے امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر کی چینی قیادت سے ملاقات میں حکومت پاکستان کی سہولت کاری کے بارے میں ناراضگی کا اظہار کیا ہوگا۔ بعدازاں جس کا اظہار، مشرقی پاکستان میں بھارتی جارحیت کو سوویت آشیرباد کے ذریعے ہوا تھا۔ یہاں یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے صدر نکسن مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے عمل کو خون ریزی کے بجائے پُرامن دیکھنا چاہتے تھے۔ 

مذکورہ بالا سوالات کی روشنی میں اس امرکا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ وہ کون سی تجاویز تھیں جن کو عملی جامہ پہنانے سے پاکستان نئے آئین سے متعلق یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک کے ہوتے ہوئے بھی اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھ سکتا تھا؟ 1969ء میں یحییٰ خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد جب ”پیریٹی“ کے خاتمے اور مغربی پاکستان کی ون یونٹ کی تحلیل کی باتیں منظر ِ عام پرآرہی تھیں تو تحریک پاکستان کی ایک اہم شخصیت نے ملک کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لئے مغربی پاکستان میں صوبوں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی صوبوں کی تخلیق کا مطالبہ کیا تھا۔ اگر یہ تجویز عمل میں آجاتی تو مشرقی پاکستان کی ایک واحد اکائی کے طور پراس کی عددی اکثریت کا خوف لاحق نہ ہوتا۔ اس طرح قابل ِعمل وفاق معرض وجود میں آجاتا، اس سلسلے میں چودھری خلیق الزماں نے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ جس کی صدارت ڈاکٹر حبیب الہٰی علوی نے کی تھی اور جس میں پروفیسر اے بی اے حلیم کے علاوہ دیگر نامور دانشور و سیاستدان شریک ہوئے تھے۔ اس کانفرنس میں مشرقی پاکستان میں صوبوں کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اسی طرح چودھری خلیق الزماں چاہتے تھے کہ کنونشن اور کونسل مسلم لیگ ایک سیاسی جماعت کے طور پر متحد ہو جائیں تاکہ ملک کے دونوں بازوؤں میں بننے والی نئی قیادتوں، خصوصاً شیخ مجیب الرحمن وغیرہ کے سامنے ایک موثر انتخابی قوت کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔

اس مقصد کے لئے جب فیلڈ مارشل ایوب خان نے گول میز کانفرنس میں صدارتی طرز حکومت کو خیرباد کہنے اور پارلیمانی نظام جمہوریت رائج کرنے کا اعلان کردیا تھا تو کنونشن اور کونسل مسلم لیگ میں نظام حکومت کے تناظر میں نظریاتی اختلاف ختم ہوگیاتھا اور دونوں جماعتیں مدغم ہوسکتی تھیں،لیکن جب اُنہوں نے دیکھا کہ حکمران اس کے لئے تیارنہیں تو اُنہوں نے مسلم لیگ میں خان عبدالقیوم خان جیسی مقبول ومضبوط قیادت کو سامنے لانے کی کوشش کی، لیکن مسلم لیگ کے دھڑے پھر بھی متحد نہ ہو سکے،  جبکہ وہ جماعت اسلامی اور پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو بھی قریب لاناچاہتے تھے تاکہ عام انتخابات کے متوقع نتائج کے خطرات کے منفی رحجانات کا مقابلہ کیاجاسکے اور قائد اعظمؒ کا پاکستان ایک سیاسی وحدت کے طورپر دنیا کے نقشے پر برقرار رہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اجتماعی تدبر کامظاہرہ کرے گی،لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا اور پاکستان دولخت ہوگیا اور اس تمام معاملے میں بھارتی جارحیت کا ایک بڑا کردار ہے۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوگیا اور اقوام متحدہ سمیت کسی بین الاقوامی ادارے نے مشرقی پاکستان کے عوام سے یہ دریافت کرنے کی زحمت نہیں کی کہ وہ یہ علیحدگی چاہتے بھی ہیں یا نہیں؟ سقوط ِ ڈھاکہ کے نتیجے میں جنوب مشرقی ایشیا یا مشرق بعید میں پاکستان کا سیاسی و جغرافیائی وجود ختم ہوگیا اور برصغیر پاک وہند کے بجائے جنوبی ایشیا کی نئی اصطلاح متعارف ہو گئی، جبکہ مشرقی پاکستان کی وہ سیاسی قیادت اور عوام جنہوں نے بھارتی جارحیت اور اندرونی پوزیشن کا محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے مقابلہ کیا تھا،ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔تقریباً3لاکھ پاکستانی، جنہوں نے ریڈکراس سے پاکستان میں منتقلی کا باضابطہ اظہار کیا تھا،تاحال بنگلہ دیش میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں۔ قومی زندگی کے تناظر میں مشرقی پاکستان کے محب وطن پاکستانیوں کی قربانیوں سے روگردانی اور جوہری سیاستدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ہونے والے نارواسلوک کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ تحریک پاکستان سے تکمیل پاکستان کے نامور مسافر محمود علی کی تجویز کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش ”ایک قوم دوریاستیں“ کے نعرے پر قریب تر آسکتے ہیں، ان تعلقات میں بھارت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -