منو بھائی، کچھ ذاتی یادیں 

منو بھائی، کچھ ذاتی یادیں 
منو بھائی، کچھ ذاتی یادیں 

  

صاحب ِ طرز اخبار نویس اور لکھاری منو بھائی کی تیسری برسی گزر گئی۔ مجھے اُن کے ساتھ گہری دوستی یا پیشہ ورانہ تعلق کا دعوی تو نہیں۔ ہاں، انہوں نے پاکستانی عوام کے لئے پرامن، باعزت اور محفوظ زندگی کے جو خواب دیکھے وہ ابھی تک نہیں ٹُوٹے۔ میرا سرمایہ یہی مشترکہ خواب ہیں اور اِن سے جڑی کچھ یادیں۔ پہلی یاد اُس مرحلے کی ہے جب  جنرل ضیا الحق کو سیاسی منظر سے ہٹے کچھ ہی دن ہوئے تھے۔ بی سی سی آئی والے آغا حسن عابدی کے اردو مرکز میں منو بھائی اپنے اولین دورہئ لندن میں دولہا بنے بیٹھے ہیں۔ بی بی سی رپورٹر کے طور پہ مَیں چودہ کلو وزنی ”یوہر“ ٹیپ ریکارڈر اٹھائے ہوئے ہوں تاکہ اگر محفل کی صوتی جھلکیاں محفوظ ہو جائیں تو کلچرل پروگرام ’سب رس‘ کے لئے ایک اچھا آئٹم بن سکے۔ مہمان کی دائیں طرف اردو مرکز کے ڈائرکٹر افتخار عارف ہیں اور بائیں جانب مستند دانشور امین مغل۔ سب کی نظریں منو بھائی پر ہیں، جن کے چہرے پہ انسان دوستی کا ٹھہرا ہوا تبسم چند ہی لمحوں میں آواز میں ڈھلنے لگا ہے۔

”آج کی تقریب کے دعوت نامہ میں افتخار عارف نے مجھے ممتا ز ڈرامہ نگار، شاعر اور صحافی کہا ہے، یہ اعزاز مجھے پاکستان میں نہیں مل سکتا تھا۔ (قہقہے)۔ بھائی افتخار عارف داد دینے اور دا د لینے میں یکساں مہارت رکھتے ہیں اور اب اردو مرکز کے توسط سے بین الاقوامی شہرت کا ٹھپہ بھی لگا دیتے ہیں ……دعوت نامہ دیکھ کر مجھے اپنا بیٹا کاشف بہت یاد آیا، جس نے ایک مرتبہ مجھ سے پوچھا تھا کہ ابو، تم بڑے ہو کر کیا بنو گے۔ اگر ڈاکٹر انور سجاد کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ بھی ڈیڈی سے یہی سوال کرتا۔ دراصل انور سجاد اور مَیں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ہمیں بڑا ہو کر کیا بننا ہے۔ ہم ایک ہی وقت میں ڈرامہ نویس، شاعر اور صحافی بننا چاہتے ہیں اور نتیجے میں کچھ بھی نہیں بن پائے“۔ (مزید قہقہے)۔

مجھے یاد ہے کہ اِس سے آگے  منو بھائی نے پاکستان میں بڑا آدمی بننے کے نئے طور طریقے بھی گنوائے تھے۔  فرمایا ”اب ہمارے ملک میں بڑا بننے کے بہت سے طریقے ایجاد ہو چکے ہیں جو کاغذ اور قلم سے لے کر کلاشنکوف تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ بال پوائنٹ کے ذریعے بڑا بننا چاہتے ہیں اور کچھ گن پوائنٹ کے ذریعے“۔ محفل لوٹ پوٹ ہو رہی تھی، مگر میرے ممدوح نے یہ کہہ کر لاہور سے واشنگٹن تک کی مسافت میں سب کو ہم سفر بنا لیا کہ ”مجھے لندن دیکھنے کی خواہش بچپن سے تھی،جو پچپن میں پوری ہوئی“۔ تاہم، روئداد کا مزا لینے کے لئے شرط یہ ہے کہ آپ جنرل ضیاالحق کی رحلت کے بعد پاکستان سے امریکہ جانے والے اُس ادبی وفد کے پس منظر سے واقف ہوں، جس میں شمولیت منو بھائی کے ایک جرم کا انعام تھی۔

جرم یہ کہ پچھلی صدی کے دوران، منو بھائی کے  بقول، انہوں نے پی ٹی وی  ناظرین کا سب سے زیادہ وقت ضائع کیا تھا۔ ”اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو کے دَور میں دو سال اور جنرل ضیا کے عہد میں اڑھائی سال مَیں ٹیلی ویژن پر بین رہا، پھر بھی میرے ڈراموں اور ڈرامائی سلسلوں کی تعداد اشفاق احمد سے زیادہ بنتی ہے۔ اِس لئے مَیں انہیں آدھ گھنٹہ پیچھے چھوڑ کر امریکہ چلا گیا، اور اتنی تیزی سے گیا کہ اسلام آباد سے لندن کا ویزا بھی نہ لے سکا۔ یہ ویزا مَیں نے واشنگٹن سے حاصل کیا ہے“۔ وہاں برطانوی قونصل نے پوچھا کہ تم  نے یہ ویزا اسلا م آباد میں کیوں حاصل نہ کیا۔ جواب دیا ”ہمارے ملک کے صدر ایک ہوائی حادثے میں فوت ہو گئے ہیں اور ہم بارہ دن کا سوگ منا رہے ہیں“۔”تم بارہ دن کا سوگ افورڈ کیسے کر لیتے ہو؟“۔”ہم تو اپنی چالیس سالہ قومی زندگی میں پچیس سال کا مارشل لا بھی افورڈ کر لیتے ہیں  اور یہ بھی کہ کوئی حکومت نہ تو نارمل طریقے سے آئے اور نہ نارمل طریقے سے جائے“۔ منو بھائی کی تان اِس جملے پہ ٹوٹی کہ ”برطانوی قونصل نے از رہِ ترحم مجھے برطانیہ کا ویزا دے دیا“۔ 

تب لندن کی ادبی محفلوں کے اکلوتے صدر امین مغل نے داڑھی بڑھا رکھی تھی۔ منو بھائی نے اِس کا سؤ و موٹو نوٹس لیا، لیکن یوں   جیسے روئے سخن اشفاق احمد کی طرف ہو۔ ”پروفیسر امین مغل جو لاہور میں مغلیہ خاندان کے آخری چشم و چراغ اور قدیم مغلیہ روایات کے امین تھے،امانت میں خیانت ہوتی نہ دیکھ سکے اور امانت سمیت لندن آ گئے۔ اب وہ برنارڈ شا کے روپ میں بھی لاہور جا سکتے ہیں جہاں اشفاق احمد ارنسٹ ہیمنگوے بنے ہوئے ہیں۔ فرق یہ کہ امین مغل نے ایک سفید داڑھی کے پیچھے روپوشی اختیار کی ہے اور اشفاق احمد نے دینِ ظل الہی کے تقاضوں کے تحت رونمائی کی ہے۔ کیا پتا ظل ِ الٰہی کے اسلام آباد مسجد میں دفن ہو جانے پر دین ِ ظل الٰہی دین ِ غلام اسحاق میں تبدیل ہوچکا ہو، مگر جب مَیں پاکستان میں تھا تو اُس وقت تک اشفاق احمد کی داڑھی اور اظہر لودھی کے رخسار آنسووں سے تر تھے“۔  

منو بھائی کے دوبارہ لندن آنے تک تین برس کا وقفہ ہے۔ دوسرے دورے میں میری آنکھوں نے ایک ایسا نظارہ دیکھا جو اِس انسان دوست، نرم خو اور محبتی شخصیت کے قریبی ساتھیوں نے بھی شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ مراد ہے طیش میں آ جانے کا منظر۔ منو بھائی دیرینہ دوست ہمراز احسن کے یہاں ٹھہرے ہوئے تھے اور اُنہی کے ہمراہ بش ہاؤس تشریف لائے۔ طے شدہ منصوبہ کے مطابق مَیں رات کی ڈیوٹی کے لئے وقت سے پہلے آ گیا تھا۔ چنانچہ صدر دروازہ پہ دونوں کا استقبال کیا۔ پھر بی بی سی کلب میں جا بیٹھے اور خاطر مدارت کا دور چلنے لگا۔ اچانک میرے ایک نوجوان  ہمکار کلب میں آئے اور سرگوشی کے لہجہ میں کہنے لگے کہ کیوں نہ منو بھائی کا انٹرویو میری جگہ وہ کر لیں۔ ”بالکل ٹھیک ہے“  مَیں نے اپنا تکیہ کلام دہرا دیا۔ 

مجھے اور ہمراز کو کلب میں بیٹھا چھوڑ کر دونوں نے سیلف آپریٹڈ اسٹوڈیو کا رخ کیا۔ ہمیں انٹرویو کے امکانی دورانیہ کا اندازہ تھا۔اِس لئے جب مہمان اور میزبان محض چار پانچ منٹ بعد واپس آتے  دکھائی دیے تو  مَیں سمجھ گیا کہ کوئی انہونی ہو گئی ہے۔ ”اشفاق صاحب تو بہت بڑے آدمی ہیں، مَیں …… مَیں ……میرا تو کوئی دعوی ہی نہیں۔نہ میرے کالم پڑھے ہیں، نہ …… نہ ڈرامے دیکھے ہیں …… اور انٹرویو کر رہے ہیں ……چلو جی چلئے“۔  یا الہی، شدید غصے میں منو بھائی کی لکنت نمایاں ہوتی جارہی تھی۔ شرمندگی کے مارے  مَیں نے انہیں باہر نکل جانے سے کیونکر باز رکھا اور ڈیوٹی سے فارغ ہو کر اگلی صبح ’نچ کے یار کیسے منایا‘؟یہ میری بیگم جانتی ہیں یا اسم ِ بامسمی دوست ہمراز احسن۔ منو بھائی سے البتہ یہ وعدہ لے لیا تھا کہ ”ہُن ایہدے تے کالم ناں منڈھ دینا“۔ یہ وعدہ انہوں نے آخری دم تک نبھایا۔ خلاف ورزی تو آج  مَیں کر رہا ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -