کھاد قیمتوں میں اضافہ‘ زرعی سیکٹر کو دھچکا‘ کاشتکاروں کا احتجاج 

  کھاد قیمتوں میں اضافہ‘ زرعی سیکٹر کو دھچکا‘ کاشتکاروں کا احتجاج 

  

نورپورنورنگا (نامہ نگار) کھاد بنانے والی کمپنیوں نے کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا۔ تفصیل کے مطابق پاکستان میں کھاد بنانے والے اداروں نے ڈی اے پی ودیگر کھادوں کی قیمتوں میں 500روپے تک فی بوری اضافہ کردیا ہے،اور تمام کھاد کمپنیوں نے اپنے (بقیہ نمبر29صفحہ 6پر)

ڈیلرز کو نئی ریٹ لسٹ جاری کر دی ہے،جس کے مطابق نائٹروجنی، فاسفورسی ودیگر کھادوں میں اضافہ کیا گیا ہے،سب سے زیادہ فاسفورسی کھادوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے 3950روپے میں فروخت ہونے والی ڈی اے پی کھاد اب 4537روپے فی بوری کے ریٹ پر فروخت ہونے لگی ہے جبکہ 2850روپے میں بکنے والی نائٹروفاس کھادکا ریٹ 3200روپے فی بوری ہوگیا ہے،کاشتکاروں خواجہ زبیر حمید،فہد صادق،سید غوث شاہ،ملک صدیق چنڑ،قاسم خان عباسی،ملک محمد سلیم و دیگر نے کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فصلات کی پیداواری لاگت میں بہت زیادہ اضافہ متوقع ہے، کاشتکار جو پہلے ہی کپاس کی زبوں حالی سے سخت متاثر ہے اب کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے مزید پیچھے چلا جائے گا،کاشتکاروں کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے الیکشن سے قبل اپنے منشور میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ برسر اقتدار آکر ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کریں گے اور جس طرح سے چین نے اپنے ملک کے کاشتکار کو سہولیات فراہم کرکے غربت سے باہر نکالا تھا،اسی طرح کی پالیسیوں کے ذریعے ہم بھی کسان کو خوشحال کریں گے،مگر ابھی تک عمران خان کی جانب سے ایسی کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی کہ جس سے زراعت کو ترقی مل سکے،کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کھاد کے ریٹ فوری کم کیئے جائیں تاکہ ملک بھر کو اناج فراہم کرنے والا طبقہ دو وقت کی روٹی باآسانی کما سکے۔

کھاد/ اضافہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -