جائیداد تنازعہ پر ڈاکٹر فیملی کا بھیانک انجام،باپ بیتی کی نماز جنازہ ادا

جائیداد تنازعہ پر ڈاکٹر فیملی کا بھیانک انجام،باپ بیتی کی نماز جنازہ ادا

  

  ملتان(وقائع نگار) تھانہ چہلیک کے علاقے جسٹس حمید کالونی میں ڈاکٹر اظہر کا بیٹی کو قتل اور پھر خودکشی کرنے کی حقائق سامنے آئے ہیں۔جس میں اصل وجہ جائیداد کو بتایا جارہا ہے۔ ڈاکٹر کی دوسری بیوی جائیداد کا مطالبہ کرتی تھی جبکہ جائیداد دوسری شادی سے قبل ڈاکٹر اظہر اپنی اکلوتی بیٹی ڈاکٹر علیزہ کے نام منتقل کرچکے تھے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اظہر نے چند (بقیہ نمبر34صفحہ 6پر)

ماہ قبل دوسری شادی کرلی تھی۔ دوسری شادی سے قبل ڈاکٹر اظہر اپنی تمام جائیداد اپنی اکلوتی بیٹی ڈاکٹر علیزہ کے نام منتقل کرچکے تھے مگر دوسری بیوی نے شادی سے کچھ عرصہ بعد جائیداد کا مطالبہ کردیا جس پر ڈاکٹر اظہر اپنی کچھ جائیداد اپنی دوسری بیوی کے نام لگانا چاہتے تھے مگر ان کی بیٹی ڈاکٹر علیزہ بضد تھیں کہ وہ دوسری بیوی کو طلاق دیدیں جس پر باپ بیٹی میں جھگڑا شدت اختیار کرگیا اور ڈاکٹر اظہر مشتعل ہوگئے اور اپنی اکلوتی بیٹی ڈاکٹر علیزہ کو گولی مار کر قتل کردیا جس کے بعد اپنی پہلی بیوی کو بھی جان سے مارنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے کیونکہ انھوں نے خوفزدہ ہوکر خود کو کمرے میں بند کرلیا اور پولیس کو اطلاع کردی جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ڈاکٹر اظہر نے کمرے میں بند کرتے ہی خود کو بھی گولی مارلی جس سے وہ موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ باپ بیٹی کا بے مثال پیار بھیانک انجام تک پہنچ گیا مزید متعلقہ پولیس تحقیقات میں مصروف عمل ہے۔کچھ اور بھی انکشافات منظر عام پر آنے سکتے ہیں۔ ادھر ملتان کے معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر محمد اظہر کی اور ان کی اکلوتی بیٹی ڈاکٹر علیزہ حیدر کی نماز جنازہ گزشتہ روز نشتر ہاسٹل گراؤنڈ میں ادا کی گئی ہے۔ جس میں ڈاکٹر طلبا اور سیاسی سماجی شخصیات کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔بعدازاں انکی مغفرت کیلئے خصوصی دعا کی گئی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -