اداروں کی نجکاری ملک کے لئے سکیورٹی رسک ہے:رضا ربانی

اداروں کی نجکاری ملک کے لئے سکیورٹی رسک ہے:رضا ربانی

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر) سابق چیئرمین سینیٹ اورپاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماسینیٹر میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ اداروں کی نجکاری کا عمل ملک کے لیے سکیورٹی رسک ہے۔حکومت نے اپنے سہولت کاروں کو کنسٹرکشن کے شعبے میں این آر او دیا ہے۔عمران خان ملک کی بجائے اپنے اے ٹی ایمز کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ملک میں آئی ایم ایف کا ایجنڈا چلنے نہیں دیا جائے گا۔بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور واپڈا کی ممکنہ نجکاری کے عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔حکومت کے اس اقدام کے خلاف ہر حد تک جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں مختلف مزدور تنظیموں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔رضا ربانی نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں دو روپے کے اضافے کی مذمت کرتے ہیں۔محنت کشوں کا مطالبہ ہے کہ اس اضافے کو واپس لیا جائے۔اس سے قبل پیٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا تھا۔جب پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبا میں موجودہ حکومت نے بڑے سرمایہ داروں اور اپنے حواریوں کو این آر او دیا ہے۔کنسٹرکشن انڈسٹری کو مزید چھ ماہ کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔بڑے سرمایہ داروں کو ہر قسم کی سہولت دی جارہی ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ تمام اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے۔یہ عمل آگے چل کر نیشنل سیکورٹی رسک بھی بن سکتا ہے۔آئی ایم ایف کے معاہدے کا کسی بھی علم نہیں ہے۔نجکاری سے پہلے مشترکہ مفادات کونسل مسئلہ لے جایا جانا چاہیے۔سپریم کورٹ نے پاکستان اسٹیل مل کے کیس میں واضح طور پر کہا ہے کہ معاملہ سی سی آئی میں جانا لازمی ہے۔اس وقت جو بھی نجکاری کی جارہی ہے وہ غیر آئینی ہے۔ٹریڈ یونینز کی تمام سرگرمیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔پاکستان کا محنت کش آج کی حکومت سے پوچھتا ہے کہ روز ویلٹ ہوٹل کو کس طرح گروی رکھوایا گیا۔پاکستان کا جہاز ملائشیا میں کیسے قبضے میں آیا۔اس حوالے سے وزیروں اور مینجمنٹ سے کیوں نہیں پوچھا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیل مل میں پانچ ہزار سے زائد مزدوروں کو نکالا گیا ہے۔دنیا میں کہیں بھی یوٹیلیٹی اداروں کی نجکاری نہیں ہوتی ہے۔آپ نے کے الیکٹرک کی نجکاری کی۔آپ اپنے اے ٹی ایم کے اکاؤنٹس میں پیسہ بھیج رہے ہیں۔اس ایشو کو پارلیمان، سینٹ میں پہلے بھی اٹھایااور آئندہ بھی اٹھائیں گے۔ہم واضح طور پر اس حکومت کو تنبیہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں آئی ایم ایف یا کسی اور ملک کا ایجنڈا نہیں چلنے دیں گے۔ایک سوال کے جواب میں میاں رضا ربانی نے کہا کہ جنہوں نے ادارے تباہ کیے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔اگر کسی سول نے یہ کام کیا ہوتا تو اب تک نیب کی جیل میں ہوتا۔اس کو ضمانت بھی نہیں ملتی۔ان اداروں میں سیاسی تقرریاں نہیں ہوئی ہیں۔اس موقع پر آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) کے  عبداللطیف نظامانی نے کہا کہ واپڈا کے ایک لاکھ تیس ہزار کارکنان سے مذاکرات کیے جائیں اور واپڈا سمیت تمام قومی اداروں سے نج کاری کے عمل کو یکسر ختم کیا جائے

مزید :

صفحہ اول -