وہ شعبہ جات جن سے وابستہ غیرملکی افراد اپنی فیملیز کو بھی سعودی عرب بلا سکتے ہیں

وہ شعبہ جات جن سے وابستہ غیرملکی افراد اپنی فیملیز کو بھی سعودی عرب بلا سکتے ...
وہ شعبہ جات جن سے وابستہ غیرملکی افراد اپنی فیملیز کو بھی سعودی عرب بلا سکتے ہیں

  

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان جیسےممالک کےبیشتر باشندے روزی روٹی کےلیےعرب ممالک کا رخ کرتے ہیں لیکن اکثر سالہا سال گھر واپس نہیں آ سکتے،اہلخانہ کو بھی ریاست میں بلانے کی استطاعت نہیں رکھتے لیکن اب ایسے شعبہ جات کی فہرست سامنے آگئی ہے جس سے وابستہ غیرملکی اپنی فیملیز کو بھی سعودی عرب بلاسکتے ہیں۔ 

سعودی عرب میں مقیم وہی افراد  اپنی اہلیہ اور بچوں کو بلاسکتے ہیں جن کا تعلق ایسے شعبہ سے ہو جنہیں فیملی سٹیٹس جاری کیا جاتاہے ، ان شعبہ جات میں  طبی عملےکےافراد یعنی ڈاکٹرز،انجینئرنگ کےشعبےمیں کام کرنے والے جیسے انجینئرز اسی طرح فیکلٹی اور شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد جیسے اساتذہ شامل ہیں، انتظامی عہدوں میں  مارکیٹنگ کا  سٹاف بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ عرب معاشرے میں ایک سے زائد شادیوں کا رواج عام ہے لیکن ایک سے زیادہ شادیاں کرنےوالے  غیرملکیوں کو  صرف ایک بیوی لانے کی اجازت ہے، درخواست جمع کرواتے وقت’اقامہ‘ کارڈ کی مدت کم از کم 90 دن سے زیادہ ہونی چاہیے،درخواست کے ساتھ بیوی بچوں کے پاسپورٹس کی نقول ساتھ لگانی ہوں گی، نکاح نامہ وزارت خارجہ اور سعودی قونصل خانے سے تصدیق شدہ ہو ں اور شوہر کے اقامے کی نقل، آجر یا کمپنی کی جانب سے جاری کردہ مصدقہ تنخواہ سرٹیفیکیٹ بھی لازم ہے ۔ 

اے آروائے نیوز کے مطابق بیوی بچوں کو لانے کی درخواست کے ساتھ ہی   بینک کے ذریعے 2000 ریال فیس ادا کرنے کی رسید لگانا ہوگی۔ سعودی عرب نے حال ہی میں وزارت داخلہ کی ویب سائٹ ’ابشر‘ کے ذریعے مملکت میں مقیم افراد کو اپنی بیویوں کو لانے کے طریقہ کار کی سہولت فراہم کی ہے۔

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -