امریکہ کا شمالی کوریا کے لیے نئی حکمت عملی کا اشارہ

امریکہ کا شمالی کوریا کے لیے نئی حکمت عملی کا اشارہ
امریکہ کا شمالی کوریا کے لیے نئی حکمت عملی کا اشارہ

  

سیول (رضا شاہ) امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے صرف دو دن بعد وائٹ ہاو¿س کے پریس سیکریٹری نے شمالی کوریا سے متعلق بائیڈن کا موقف پیش کیا ہے اور اس مسئلے پر کثیرالجہتی نقطہ نظر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ انتظامیہ دوسرے اتحادیوں کے ساتھ قریبی مشاورت سے اس معاملے سے نمٹنے کے لئے "نئی حکمت عملی" اپنائے گی۔ شمالی کوریا کو بین الاقوامی امن کے لئے واضح خطرہ قرار دیتے ہوئے نئی امریکی انتظامیہ نے جنوبی کوریا اور جاپان سمیت اتحادیوں کے ساتھ پیانگ یانگ کے جوہری عزائم کو روکنے کے لئے ایک کثیرالجہتی نقطہ نظر کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امریکی عوام اور اپنے اتحادیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپنائیں گے اور یہ نقطہ نظر جنوبی کوریا ، جاپان اور دیگر کے ساتھ مشاورت سے شمالی کوریا کی ریاست کے بارے میں مکمل پالیسی جائزہ کے ساتھ شروع ہوگا۔ امریکی صدر شمالی کوریا کے جوہری بیلسٹک میزائل اور پھیلاوسے متعلق دیگر سرگرمیوں کو بین الاقوامی امن کے لئے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں۔ اگرچہ مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن "نئی حکمت عملی" سابق صدر ٹرمپ کے نقطہ نظر سے خاصی مختلف ہونے کا اشارہ دیا گیاہے جس نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات میں بڑے پیمانے پر دوسرے اتحادیوں کو خارج کردیا تھا۔بائیڈن نے قبل ازیں شمالی کوریا کے ساتھ "اصولی سفارت کاری" کے عزم کا اظہار کیا تھا جس میں تفصیلی مذاکرات کی ضرورت اور شمال کے ساتھ تناو کو کم کرنے کے لئے اپنے عزم کو اجاگر کیا گیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -