علماء میوات یا علمائے میوات؟ درست املاء کیا ہے؟

علماء میوات یا علمائے میوات؟ درست املاء کیا ہے؟
علماء میوات یا علمائے میوات؟ درست املاء کیا ہے؟

  

 راقم نے جب اپنی کتاب” تذکرہ علماءمیوات“ لکھی تو کاتب اور ڈیزائنرنے اسے تذکرہ علمائے میوات لکھ دیا ۔ حالاں کہ میں پیشگی تاکیدکرچکا تھاکہ صرف ہمزہ ڈالنا ہے ، بڑی یا نہیں ۔ لیکن اس حوالے سے پہلے تذکرہ علمائے پنجاب لکھی جاچکی تھی ا ور اس میں بڑی یا ہی لکھی گئی تھی ،اسی لیے شاید انہوں نے ایسا کیا۔ اسی نوعیت کا ایک اور لفظ جمعیت علماءہند اور جمعیت علماءاسلام بھی ہے ۔ جہاں کچھ لوگ ان دونوں لفظوں کو جمعیت علمائے ہند اور جمعیت علمائے اسلام ہی لکھتے ہیں ۔ درست کیا ہے ؟ یہ جاننے کے لیے اس لفظ کے پس منظر میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

  علماءجمع ہے علم کی اور یہ جمع مکسر ہے ۔ یہ فعلاءکے وزن پر ہے اس وزن پر متعدد الفاظ کی جمع لائی جاتی ہے جیسے ، فقیر سے فقراء، امیر سے امراء، شہید سے شہداء۔یہ ہمزہ جمع مکسر کے دوسرے اوزان میں بھی آتا ہے جیسے اغنیاء،اولیاء،صوفیاءوغیرہ۔ لفظ علماءقراٰن کریم میں بھی آیا ہے ،ارشادباری ہے: انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء۔ واضح رہے کہ آخر میں جمع مکسر کا ہمزہ ہے۔جمع مکسر میں یہ ہمزہ کیوں زیادہ کیا گیا ؟جب کہ اصل مادے (root word) میں تو علم (ع ل م) کے حروف شامل ہیں ۔ اس سوال کا جواب حاصل کرنے سے پہلے عربی زبان کا مزاج ہمزہ کے حوالے سے اجمالاًجاننا چاہیے ۔ عربی زبان میں تین حروف علت ہیں ۔ و، ا،ی۔ ان کا مجموعہ ”وای“ کہلاتاہے ۔ علت عربی زبان میں بیماری کو کہتے ہیں ،چوں کہ مریض بیماری کے دوان وائے وائے جیسے الفاظ بولتاہے اس لیے ان کو حروف علت کہا جاتاہے ۔ یہ تینوں اپنی کم زور حالت کی وجہ سے ایک دوسرے سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ آس پاس یہی حالت انگریزی کے حروف (vowels) کی ہے ۔ عربی زبان میں ہمزہ کا اضافہ ان تینوں حروف کے آس پاس کیا جاتاہے ، اس کی متعدد وجوہ ہو سکتی ہیں۔ یہ عربی کا مجموعی مزاج اور متفقہ اصول ہے ۔ علماءکی صورت میں وجہ یہ بنی کی اس لفظ کے آخر میں الف موجود ہے اور ا لف پر کوئی حرکت (زیر ، زبر ،پیش ) نہیں آسکتی، جب کہ دوسری جانب عربی کا یہ بھی اصول ہے کہ آخری حرف پر کوئی نہ کوئی حرکت (زیر ، زبر، پیش ) ضرور ہو گی ۔ یعنی دو قاعدے ٹکرا گئے ۔ آخری حرف الف ہے ، الف پر حرکت آنہیں سکتی اورآخری حرف پر حرکت بھی ضرور آئے گی اس کا حل یہ نکالا گیا کہ الف کے بعد ہمزہ کا اضافہ کیا گیا تا کہ حرکت اس پرٹک سکے ۔ لہذا اب علماءُ الاسلام، علماءَ الاسلام ، علماء الاسلام پڑھا جاسکتاہے ۔ دیکھا جاسکتاہے کہ مذکورہ مثالوں میں تینوں حرکتیں(زبر، پیش، زیر ) ڈالی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ علماءکے آخر میں ہمزہ کے اضافہ کی وجہ راقم کا قیاس ہے ۔

 معارف مارچ 2006ءمیں متحدہ قومیت کے عنوان سے ایک مضمون میں وارث ریاضی کا مکتوب شائع ہوا جس میں ضمنی طور پر علماءہند کا املا زیر بحث لایاگیا ۔ مکتوب کا عنوان ”متحدہ قومیت اوراملاءکے بعض مباحث“ درج ہے ۔ وارث ریاضی لکھتے ہیں : ”ہاں جمعیت علمائے ہند ہی صحیح املا ہے، تصحیح کے لیے شکر گزار ہوں ، اسی طرح فرایض ،جایز اور فایدہ جیسے الفاظ ہیں ، میں نے جہاں جہاں استدراک میں ”ی “کے ساتھ لکھے ہیں ان کی ی کوہمزہ سے بدل دیا جائے ۔ اس سلسلے میں آپ کا اور جناب شمس الرحمن فاروقی صاحب کا نقطہ نظر درست ہے ۔ “ وارث ریاضی صاحب نے علماءہند کے بعد فرایض ،جایز اور فایدہ کے الفاظ بطور مثال پیش کیے ہیں ۔ آگے چل کر انہوں نے گھائل ، سائل، قائل ، مطمئن ، فضائل ، رسائل ،سائل ، آرائش ، پیمائش ، نمائش ،نمائندہ جیسے الفاظ کی امثلہ بھی پیش کی ہیں اور اس پر متعدد اہل قلم کی  آراءو تجاویز بھی نقل کی ہیں ۔ ہمزہ اور بڑی یا( ے) کی نوعیت بالکل مختلف ہے ۔ لیکن وارث ریاضی صاحب نے ان تمام الفاظ کو علماءہند کے قبیل سے شمارکر لیا اور اسی خلط مبحث کی وجہ سے وہ علمائے ہند لکھنے کو درست قراردے بیٹھے ۔ مکمل خط پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ وارث ریاضی صاحب عربی و فارسی کے حوالے سے زیادہ درک نہیں رکھتے ،خط کے آخر میں ورث ریاضی نے ایک فارسی قطعہ یوں نقل کیا ہے   

لذید بود حکایت دراز گفتم 

اس مصرع میں دراز کے بعد تر نہیں لکھاگیا، اصل یوں ہوناچاہیے تھا   

لذید بود حکایت دراز ترگفتم 

معلوم نہیں یہ مصنف کا تسامح ہے ، مدیر کا یا کمپوزر کا ۔مصنف کی تحریر پڑھنے کے بعد بالکل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ ہمزہ کو ختم کرنے کی بات کرررہے ہیں یا بڑی یا(ے) کو لکھنے کی ۔حالاں کہ دونوں ہی درست نہیں ۔ ہمزہ کو ختم کے بارے میں طالب ہاشمی مرحوم لکھتے ہیں کہ اردو میں اس کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر مشفق خواجہ لکھتے ہیں : ”لفظ ضیا چمک کے معنی میں بھی آتا ہے اورعربی میں اس کے آخر میں ہمزہ (ء) بھی ہے،یعنی ضیاء، البتہ اب اُردو والوں نے جہاں کئی عربی الفاظ کے آخر سے ہمزہ کو خارج کردیاہے (مثلاً: اغوا، انشا، ایذا، اجرا، شعرا، اُدبا، علما وغیرہ اب اردو میں بغیر ہمزہ ہی کے لکھے جاتے ہیں ۔ ) وہاں ضیاءمیں بھی ہمزہ نہیں لکھا جاتا یعنی اسے ضیاء(ض ی ا  ء) کی بجائے ضیا (ض ی ا )لکھتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اردو میں ہمزہ کیوں گرایاجائے گا؟ اس کا کوئی جواب اور دلیل طالب ہاشمی اور ڈاکٹر مشفق خواجہ نے پیش نہیں کی۔ آگے چل کر ڈاکٹر مشفق خواجہ لکھتے ہیں:” لیکن اردو میں ضیا کا لفظ جب مرکبات میں آتا ہے تو اس کے بعد ہمزہ لکھا جاتا ہے ۔ مثلاً ضیاءالحق یا ضیا ءالقرآن ، تا کہ اس کا درست تلفظ ادا کیا جا سکے۔ “جب واپس ہی لانا ہے تو پھر گرایا کیوں؟ لہذا اِن الفاظ کو بھی ہمزہ کے ساتھ ہی لکھا جائے گا ۔ ایک تو اصل باقی رہے گی اور دوسرا گرانے اور واپس لانے کا تضاداور الجھن پیدا نہیں ہو گی۔

 رہا یہ مسئلہ کہ بڑی یا(ے) کا اضافہ کیوں کیا جاتا ہے ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے کچھ تفصیل میں جانا پڑے گا۔ عربی جاننے والے جانتے ہیں کہ علماءکرام ،علماءاسلام، علماءہند ، علماءپنجاب ،علماءمیوات وغیرہ جیسی تراکیب میں علما ءمضاف ہے اور میوات مضاف الیہ ۔ عربی قواعد کی رو سے علما ءکے ہمزہ پر زیر، زبر اور پیش تنیوں آسکتے ہیں جس کا فیصلہ علماءسے پہلے آنے ولا لفظ یا عامل کرتا ہے۔یہاں تک اس لفظ سے متعلق عربی بحث تھی جو بنیاد اور تمہید کے طور پر ذکر کی گئی ہے ۔لیکن ہماری زیر بحث ترکیب عربی نہیں بل کہ فارسی اسلوب سے متعلق ہے ۔ عربی میں علماءکے ہمزہ پر اضافہ کی صورت میں ممکنہ طور پر زیر ، زبر ، پیش تینوں اعراب آسکتے ہیں جب کہ فارسی میں یہ بحث بہت آسان ہو جاتی ہے اور اس پر اضافت کی صورت میں صرف زیر ہی آئے گی۔یعنی اس کوعلماءِ میوات ،علماءِپنجا ب،علماءِہند اور علماءِ اسلام ہی پڑھا اور لکھا جائے گا۔دراصل مذکورہ بالا تراکیب میں اضافت کا فارسی ضابطہ لاگوہوتاہے جو یہ ہے کہ مرکب اضافی کے پہلے لفظ مضاف کے آخری حرف پر کسرہ (زیر) آتی ہے ۔اس کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔شیخ سعدی کی معروف کتاب کے پہلے شعر میں اس کی ایک سے زاید مثالیں موجود ہیں  

کریما ببخشائے برحال ِ ما 

کہ ہستم اسیرِ کمند ِہوا

 اسی طرح ایک اور مصرع ہے  

 بوئے گل، نالہ دل دودِ چراغِ محفل 

مثالوں سے یہ نکتہ ذہن نشین ہو جائے گا کہ فارسی میں مضاف کے آخری حرف پر زیر آتی ہے لہذا اس قاعدے کی رو سے علماء میوات کے ہمزہ پر زیر آنی چاہیے ۔لیکن فارسی ترکیب میں یہ غلطی کی گئی کہ زیر کو کھینچ کر ”ے“ بنا دیا گیا۔اس غلطی کا دائرہ ہم حسب معمول دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ ایک عوام الناس کادائرہ جو عموماً وسیع ہوتاہے،یہ لوگ ”زیر ِجامہ “کو ”زیرے جامہ “اور ”مارِ آستین “کو ”مارے آستین“ لکھ جاتے ہیں ۔ اہل علم اس غلطی کا عموماً ارتکاب نہیں کرتے ۔ اہل علم مارِ آستین تو ٹھیک لکھتے ہیں لیکن علماءاسلام کو علمائے اسلام لکھنا درست قرار دیتے ہیں ۔یہ غلطی پیدا کیوں ہوئی ؟ اس پس منظر میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

سابقہ سطور میں تین حروف علت کا ذکر کیاگیا۔ یہ تین حرف ، تین حرکتوں کو کھینچنے سے بنتے ہیں۔ زیر کو کھینچیں تو یا(ی)، زبر کو کھینچیں تو ”الف(ا)“ اور پیش کو کھینچیں تو واﺅ(و) پید اہو جاتی ہے ۔ان تینوں حروف و حرکات کے حوالے سے نورانی قاعدہ میں ایک تختی ”حروفِ مدہ “ کے عنوان سے موجود ہے۔ عربی میں اس کھینچنے کو اشباع کہا جاتاہے ۔مرکب اضافی کی مذکورہ صورت میں یہی اشباع والی غلطی ہوئی ہے ،یعنی زیر کو کھینچ کر بڑی یا(ے) بنا دیا گیا ہے۔ مولانا ابو الکلام آزا دکی کتا ب” آزادی ہند“ کے مقدمہ میں مالک رام اس کیفیت کو اعراب بالحروف سے موسوم کرتے ہیں ۔یعنی حرکت کو حرف کی میں تبدیل کردیا جائے ، لکھتے ہیں: ”ابتداءمیں اعراب بالحروف کا رواج عام تھا،الفاظ میں پیش کی جگہ واﺅ ز،زبر کی جگہ الف اور زیر کی جگہ یا (ے) لکھتے تھے۔ یہ دراصل ترکی زبان کی تقلید کا نتیجہ تھا ۔ 1922 ء تک جب اتاترک نے ترکی کی لیے رومن رسم الخط اختیار کیا یہ زبان بھی عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اور اس میں اعراب کی جگہ حروف ہی استعمال ہوتے تھے۔ بتدریج یہ رواج کم ہوتا گیا اور بالآخر بالکل ترک ہو گیا۔مولانا نے ان خطوں میں کم از کم تین لفظوں میں پرانے رواج کا تتبع کیاہے ۔ انڈیل کی جگہ اونڈیل ،(۳۹‘۷۲۱)،اونڈیلی(ص۶۲۱) اور پرانی کی جگہ پورانی(ص۰۴۲) اگرچہ ایک جگہ پرانی بھی لکھا ہے(۰۶۱) اور اولجھن(ص۱۵۲)“۔

 فارسی مرکب اضافی کی زیر کے بعد بھی بڑی یا (ے) کا اضافہ درج ذیل وجوہ کی بناءپر درست نہیں: 

 (۱)اگر ہر حرکت کو حرف میں بدل دیا جائے تو زبان کا حلیہ ہی بگڑ کر رہ جائے گا۔اس کو کسی بھی سطح پر درست نہیں سمجھا جاتا ۔ قراٰت و تجوید سے تعلق رکھنے والے حضرات جانتے ہیں کہ پاکستان میں قراٰن دو لہجوں پانی پتی ومصری میں پڑھا جاتا ہے ۔ ہمارا ایک پانی پتی دوست کہنے لگا کہ تم مصری لوگ خواہ مخواہ زیر، زبر اور پیش کو کھینچ دیتے ہو۔یہ اعتراض برمحل ہے۔

 (۲)اصلاح زبان اردو کے مصنف مولانا خواجہ محمد عبدالرؤف عشرت لکھنوی ایک رسالے بنام” گل چین“ کے رکن تھے ۔اسی ادارت کے دوران کچھ الفاظ کے املا میں جب اختلاف ہوتا تو اس پر ایک مجلس میں بحث ہوتی اور پھر مجلس کے فیصلے کو بطور حتمی املاءاختیار کیا جائے ۔ فارسی کی اسی ترکیب اضافت کے حوالے سے لکھتے ہیں : ”غلطیہاءمضامین میں یا تحتانی نہیں چاہیے “۔مصنف نے غلطیہاءکو جوڑ کر لکھا تھا اسی لیے ایسے ہی نقل کیا گیا ۔ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ہمزہ کے ساتھ غلطی ہاء مضامین لکھا جائے گا نہ کہ یا تحتانی کے ساتھ غلطی ہائے مضامین ۔

 (۳)مالک رام کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ متروک ہو چکا ۔ حالاں کہ اُن کا یہ دعوی بھی محل نظر ہے کہ ابتداً اعراب بالحروف کا عام رواج تھا۔مالک رام کو ایک اور تسامح یہ ہوا کہ زیر کی جگہ ”ی‘ ‘ آتی ہے، نہ کہ یائے ۔

 (۴)اور اگر مرکب اضافی کی اس زیر کو کھینچنا ہی ہے تو پھر مارے آستین اور زیرے جامہ بھی درست ہونا چاہیے ۔ 

 (۵)زیر کو کھینچنے سے چھوٹی یا پیدا ہوتی ہے اور یہاں بڑی یا لکھی جاتی ہے ، حالاں کہ اصولاً زیر کے بعد بڑی یا (ے)آ ہی نہیں سکتی ۔ 

  تاہم اس قاعدے میں ایک استثناءبھی موجود ہے ۔ فارسی کے وہ لفظ جو واﺅ، الف اور یا(و، ا ، ی) پر ختم ہوتے ہیں وہاں چوں کہ زیر نہیں آسکتی اس لیے وہاں بڑی یا مع ہمزہ کا اضافہ درست معلوم ہوتا ہے ۔ جیسے ایک عوامی لفظ ہے : سری پائے،اسی طرح اوپر کے مصرعے میں بوئے گل کا مرکب اضافی موجود ہے ۔ 

 مرکب اضافی کی بحث سے دو اور نکتے بھی جڑے ہوئے ہیں۔اولاًکچھ الفاظ ”ہ “پر ختم ہوتے ہیں ،وہاں بھی ہمزہ کا اضافہ کردیا جاتا ہے ، جیسے اوپری مصرعے میں ”نالہ دل “ کی ترکیب ہے ۔اسی طرح سلسلہ کلام وغیرہ۔ حالاں کہ ہمزہ کا اضافہ زیادہ تر حروف علت کے آس پاس ہوتا ہے،”ہ“ پر اس کااضافہ غیر ضروری اور غیر مفید معلوم ہوتا ہے ۔ اس مرکب اضافی کو سلسلہءِ   کلام کی بجائے سلسلہ ِ کلام لکھا جائے توبہتر ہوتا ۔ جیسا کہ راہِ حق میں ہ پر زیر ہے نہ کہ ہمزہ ۔ ہمارے ہاں کچھ لوگ بعض لفظوں پر خواہ مخواہ ہمزہ ڈال دیتے ہیں ۔ مخکمہ شاہرات کے تحت لگے بورڈ پر ایک جگہ راقم نے ”پریم نگر لکھا دیکھا اور ایک جگہ” موٹروئے“ لکھا ہوا تھا، دونوں جگہ ہمزہ کی جگہ اور تلفظ بالکل نہ تھا۔ ثانیاً بڑی یا کے حوالے سے زیر بحث ترکیب کا دوسرے لفظوں کے ساتھ بھی التباس ہو سکتا ہے ۔ فارسی کے کچھ الفاظ ایسے ہیں جہاں بڑی یا کسی لفظ کے آخر میں آ کر ”ایک “ کا مفہوم پیدا کرتی ہے ۔ جیسے معروف محاورہ ہے : ہم دامے ، درمے و سخنے آپ کی مدد جاری رکھیں گے ، دامے (ایک درم ) ، درمے (ایک درہم) اور سخنے (ایک بات ) سے بھی آپ کا تعاون جاری رکھیں گے ۔ اسی طرح صحبتے با اولیاءمیں صحبتے بمعنی ایک صحبت ہے ۔ان لفظوں میں کسی لفظ کے بعد بڑی یا(ے) کا اضافہ ایک کا مفہوم پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے ۔ تلاش اور جست جو کے بعد راقم کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ جہاں ”بڑی یا(ے)“ سے پہلے زبر ہو گی وہاں یہ ایک کا مفہوم پیدا کرنے کے لیے ہو گی اور یہ ترکیب درست ہے ۔ 

 برصغیرکی تاریخ میں فارسی شاعر مسعود سعد سلمان 1046ءتا 1121ءپہلا شاعر ہے جو طویل عرصے تک قید وبند کی صعوبتوں میں گرفتار رہا اور ایام اسیری میں بے حد موثر اور درد انگیز حبسیہ قصائد اور قطعات لکھے ، اس کا یہ حبسیہ کلام فارسی شعر و ادب میں یاد گار حیثیت رکھتے ہیں ۔ اپنے ایک یاد گار قطعہ میں مسعود سعد سلمان نے اپنی حیات محبس کا خلاصہ پیش کردیا ہے ،اس قطعہ میں مذکورہ بالا تینوں مثالیں موجود ہیں، وہ کہتا ہے  

تارے از موئے من سفید نبود 

چوں بزندان مرا فلک بنشاند 

ماندم اندر بلاد غم چنداں 

کہ یکے موئے من سیاہ نماند 

میرا ایک بھی بال سفید نہ تھا ، لیکن جب تقدیر نے مجھے قید خانے میں ڈال دیا تو میں غموں کے شہر میں اتنا آباد رہا کہ میرا ایک بھی بال سیاہ نہ رہا۔

نوٹ: یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -ادب وثقافت -