صدر ضیاءالحق اور ”ہمہ یاراں دوزخ“ 

 صدر ضیاءالحق اور ”ہمہ یاراں دوزخ“ 
 صدر ضیاءالحق اور ”ہمہ یاراں دوزخ“ 

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:118

اس تقریر میں مذکور ایک اور شاعرافتخار عارف تھے جو اس وقت لندن میں مقیم تھے افتخار عارف صاحب صدیق سالک کے قریبی دوست بھی تھے۔ اس تقریر کے بارے میںکہتے ہیں:

”یہ بات یقین سے کہنا مشکل ہے کہ یہ تقریر صدیق سالک نے لکھی اس وقت میں ملک سے باہر تھا۔ جب بعد میں میَں وطن آیا اور اکادمی ادبیات کا چیئرمین بنا تو میں نے کافی تحقیق کی کہ یہ تقریر کس نے لکھی لیکن اکادمی میں اس کے شواہد نہیں ملے کہ یہ تقریر سالک نے لکھی۔ یہ تقریر کسی Speach Writer کی لکھی ہوئی نہیں لگتی۔ اس میں کسی شاعر کا عمل دخل ضروری تھا پھر ایک دوست کی حیثیت سے میرا دل یہ یقین نہیں کرتا کہ یہ تقریر صدیق سالک نے لکھی ہو گی۔“

اس بحث سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر کسی تقریر سے کچھ افراد کو رنج ہوا تو افتخار عارف صاحب کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تقریر سالک کی لکھی ہوئی نہیں تھی۔

سالک نے اپنی کتاب ”سلیوٹ“ میں ذکر کیا ہے کہ صدر ضیاءالحق ان کی کتاب ”ہمہ یاراں دوزخ“ پڑھ چکے تھے اور بری افواج کا سربراہ بننے سے پہلے ہی انہوں نے سالک سے کہا تھا کہ وہ انھیں اپنا تقریر نویس مقرر کریں گے۔اسلام اور پاکستان سے محبت سالک کی تحریر کا نمایاں وصف ہے جو ”ہمہ یاراں دوزخ“ میں بہت خوبصورتی سے سامنے آیا ہے۔غالباً انہی خصوصیات کی بنا ءپر صدر صاحب نے سالک کو تقریر نویسی کے لیے منتخب کیا۔ سالک نے صدر صاحب کی تقاریر میں عشق خدا اور عشق رسول کے جذبات کو بڑی عمدگی سے ادا کیا مثلاً:

”میں جب بھی ذکر رسول کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو مجھے اپنی خطاﺅں، گناہوں اور کوتاہیوں کا احساس شدید ہونے لگتا ہے اور فارسی کا یہ شعر اکثر میری زبان پر آجاتا ہے:

ہزار بار بشویم ذہن زمشکِ گلاب

ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است

اس کے ساتھ ساتھ مجھے یہ بھی احساس ہے کہ اگر بارعصیاں سے نجات پانے اور گناہوں سے بچنے کی کوئی صورت ہے تو وہ ذکر رسول اور ان کے ارشادات پر عمل کرنے میں ہے کیونکہ ذکر رسول ، ذکر اللہ، اور اطاعت رسو ل ، اطاعت اللہ کے مترادف ہے۔“

عشق رسول کے خوب صورت اور لطیف اظہار کے ساتھ صدر صاحب کی تقریروں میں اسلام اور پاکستان سے محبت کا اظہار بھی ہوا ہے مثلاً:

”میں اس سے پہلے اسی پلیٹ فارم سے اہل قلم کے سامنے 3 تقریریں کر چکا ہوں ان تقریروں کا محور نظریۂ اسلام سے وابستگی سرزمین پاکستان سے محبت اور معاشرے میں اہل قلم کا کردار رہا ہے میری آج کی تقریر بھی اسی فکری خمیر میں گوندھی گئی ہے کیونکہ میں اس محور سے نہ نکلنا چاہتا ہوں نہ نکل سکتا ہوں پلیٹ فارم کوئی بھی ہومیری تقریر میں اسلام اور نظریۂ اسلام کا آنا ایک لازمی امر ہے۔“( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

قومی -