عمرکوٹ میں الیکشن کی گہماگہمی

عمرکوٹ میں الیکشن کی گہماگہمی
عمرکوٹ میں الیکشن کی گہماگہمی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

عمرکوٹ کو اکبر بادشاہ کی جائےولادت کاشہر ہونےکی وجہ سے منفرد مقام حاصل ہے، اس وقت پورے ملک کی طرح عمرکوٹ بھر میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور امیدواروں نےعوام سے رابطےشروع کردیے ہیں،   ضلع میں قومی اسمبلی کی ایک اور تین صوبائی اسمبلی کی نشتیں ہے اور عمرکوٹ میں اس الیکشن میں  مذہبی جماعت،  جماعت اسلامی،ایم کیو ایم  بھی بھرپور تیاریوں کےساتھ میدان میں اتر رہی ہیں  لیکن  اصل سیاسی  دنگل پیپلزپارٹی ،جی ڈی ای، اور پی ٹی آئی کےآزاد امیدواروں کے درمیان متوقع ہے۔

عمرکوٹ ضلع میں قومی اسمبلی کی ایک نشست این اے"213"اور صوبائی اسمبلی کےتین حلقے جن میں  پی ایس 49، 50,51 شامل ہیں، کل رجسٹرڈ ووٹرکی تعداد"5"لاکھ 49ہزار تین سو  پچاس ہے اور   سال 2018  کےالیکشن کے مقابلے میں اس دفعہ ووٹرز کی تعداد میں ایک لاکھ سے زائد اضافہ ہے جبکہ 80 پولنگ سٹیشنز کا بھی اضافہ کیاگیا۔ عمرکوٹ کی صوبائی نشست پی ایس "49"تحصیل پتھورو ٹاؤن کمیٹی ڈھورونارو،ٹاؤن سامارو شامل ہےجبکہ  پی ایس"50"تحصیل عمرکوٹ میں ایک میونسپل کمیٹی اور ٹاؤن کمیٹی چھور شامل ہے، پی ایس"51" تحصیل کنری میں ٹاؤن کمیٹی کنری،ٹاؤن کمیٹی نبی سرروڈ اورٹاؤن کمیٹی تھر نبی سرشامل ہے۔

 قومی اسمبلی کے حلقہ این اے "213"پر اصل مقابلہ پیپلزپارٹی کے نواب محمد یوسف تالپور اور مسلم لیگ ن اور جی ڈی اے کے مشترکہ امیدوار میرامان اللہ تالپور  اور پی ٹی آئی کےآزاد امیدوار لال چند مالہی کےدرمیان متوقع ہے ، اس حلقہ پر جماعت اسلامی کےمحمداعجاز اعوان ، ملک کامران  اور ایم کیو ایم کےپریم ساگر بھی میدان میں ہے۔

عمرکوٹ میں ہمیشہ سے ہی انتخابات میں ذات برادریوں کا بھی اہم کردار رہا ہے ، یہاں کی بڑی ذات برادریوں میں سید،مہربرادری ،ادیپوری برادری، راہموں برادری ،سیمجھابرادری خاصخیلی کھوسہ،ناگوری ،آرائیں ، سومرو،منگریو،سموںجبکہ اقلیتی برادریوں میں مالہی، کولہی، بھیل، لوہانہ کھتری،میگھواڑ،سوتھہر،  سمیت کئی چھوٹی بڑی برادریاں شامل ہیں جن  کےووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسکے علاوہ عمرکوٹ ضلع میں دو لاکھ کے قریب اقلیتی ووٹ ہے اور سیاسی ماہرین کاکہناہے کہ جو پارٹی یا امیدوار اقلیت کا ووٹ حاصل کرنےمیں کامیاب ہوگیا، اسکی جیت کےروشن امکانات ہیں، اب دیکھنا ہےکہ آٹھ فروری کو قسمت کس کاساتھ دیتی ہے۔

۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -