شام: کرد فورسز کے ساتھ چار روزہ جنگ بندی ختم، صورتحال غیر یقینی
دمشق (ڈیلی پاکستان آن لائن) شام کی حکومت اور کرد فورسز کے درمیان چار روزہ جنگ بندی ہفتے کی شب ختم ہو گئی، جس کے بعد اس کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے (1700 جی ایم ٹی) ختم ہوئی، جبکہ شامی سرکاری افواج اور کرد فورسز شمالی اور مشرقی شام میں کردوں کے زیرِ کنٹرول آخری شہروں کے گرد آمنے سامنے مورچوں پر موجود ہیں۔
شام کے وزیر اطلاعات حمزہ المصطفیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ کرد قیادت میں قائم شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف ) کو دی گئی مہلت ختم ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا:“شامی حکومت اب اپنے اگلے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔”تاہم، جنگ بندی کے مستقبل پر ایس ڈی ایف کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
روئٹرز کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران شامی سرکاری افواج نے تیزی سے کارروائیاں کرتے ہوئے شمالی اور مشرقی شام کے وسیع علاقوں پر ایس ڈی ایف سے کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں صدر احمد الشرع کی حکومت مضبوط ہوئی ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں شامی افواج ایس ڈی ایف کے آخری مضبوط ٹھکانوں کے قریب پہنچ چکی تھیں، تاہم اسی دوران اچانک جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ حکومت نے ایس ڈی ایف کو ہفتے کی رات تک ہتھیار ڈالنے اور شامی فوج میں انضمام کے لیے لائحہ عمل پیش کرنے کی مہلت دی تھی، بصورت دیگر دوبارہ لڑائی شروع کرنے کی وارننگ دی گئی تھی۔
دوسری جانب، شام کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز جنگ بندی میں توسیع سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت نے کہا کہ حکومت کی تجویز پر کوئی “مثبت ردِعمل” سامنے نہیں آیا، اور ایس ڈی ایف پر جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔
اس کے جواب میں ایس ڈی ایف نے الزام لگایا کہ شامی حکومت دانستہ طور پر کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہے۔
ایس ڈی ایف کے بیان میں کہا گیا “فوجی نقل و حرکت اور لاجسٹک تیاریوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے، جو واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت تصادم کو دوبارہ بھڑکانا چاہتی ہے۔”
جنگ بندی کے خاتمے کے بعد علاقے میں نئے تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ زمینی صورتحال کسی بھی وقت دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی کی طرف جا سکتی ہے۔
