سپریم کورٹ آج توہین عدالت قانون کو کالعدم نہیں تو معطل ضرور کردیگی

سپریم کورٹ آج توہین عدالت قانون کو کالعدم نہیں تو معطل ضرور کردیگی

  

اسلام آباد (اخترصدیقی) سپریم کورٹ توہین عدالت قانون کو آج اپنے مختصر فیصلے کے ذریعے کالعدم نہیں تومعطل ضرور کردے گی ،سینئر وکلاءکاکہناہے کہ عدالت کے ریمارکس بتلارہے ہیں کہ عدلیہ کو نیاتوہین عدالت قانون اچھا نہیں لگا عدالت میں بھٹو دور میں کی گئی پانچویں ترمیم کا بھی تذکرہ کیاگیا اورکہاگیا کہ آئین کے آرٹیکل 204کی دوابتدائی شقوں کو اڑادیاگیا تھا بس نام کا قانون رہ گیا تھا کہ عدالت صرف کسی بھی شخص سے توہین عدالت کے حوالے سے خالی خولی وضاحت طللب کرسکتی ہے اور کچھ کرنا اس کے اختیار سے باہر ہے عدالت جب مختلف درخواستوں کی سماعت کرہی تھی تو اس دوران ججز بہت زیادہ پرجوش تھے اور ایسا لگتا تھا کہ جیسے یہ عدالت چند گھنٹوں میں توہین عدالت قانون اڑادیناچاہتی ہے اکرام چودھری ایڈووکیٹ جب دلائل دینے آئے توانہوں نے دلائل دئیے جبکہ ججوں کے ریمارکس سب سے زیادہ تھے ،اکرام چودھری کی گفتگو کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ دس سے پندرہ منٹ تک محیط رہا مگر ججوں کے ریمارکس میں ایک گھنٹہ 23منٹ لگے ،بازمحمدکاکڑ کے وکیل ایم ظفر نے بہت ہی مدلل دلائل دیے تاہم عدالت کو سب سے زیادہ دلائل سید محموداختر نقوی کے پسند آئے جنھوں نے ابتدا ءاللہ کے پیارے نبی ﷺکے حجتہ الوداع کے موقع پر کیے گئے خطاب سے کیااور کہاکہ اللہ کے نبی ﷺ نے واضح طورپر فرما دیاکہ کسی عربی کو کسی عجمی اورکسی عجمی کو کسی عربی، گورے کوکسی کالے اورکسی کالے کوکسی گورے پر کوئی فوقیت نہیں ہے تم میں بہتر وہ ہے جوتم میں سے سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ،چیف جسٹس افتخار محمدچودھری ان کے دلائل کے جواب میں مسلسل سرہلاتے رہے پوری سماعت کے دوران جسٹس خلجی عارف حسین نے سب سے کم ریمارکس دئیے اورصرف تین جملے بولے جوشاید ہی کسی میڈیا کے نمائندے نے نوٹ کئے ہوں ۔

مزید :

صفحہ اول -