76 سالہ پرناب مکھرجی کل بھارت کے13ویںصدر کا حلف اٹھائیں گے

76 سالہ پرناب مکھرجی کل بھارت کے13ویںصدر کا حلف اٹھائیں گے

  

لاہور(خصوصی رپورٹ) یونائیٹڈ پروگرسیو الائنس کے نامزد کردہ پرناب مکھر جی 22 جولائی 2012ءکو ہونیوالے بھاتی انتخابات میں 12 ویں صدر جمہوریہ منتخب ہوگئے ہیں۔ وہ 25 جولائی کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ انہوں نے اپنے مدمقابل آزاد امیدوار پی اے سنگا کو بھاری مارجن سے شکست دی۔ مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے پرناب کمار مکھر جی اس ریاست سے صدر بننے والے پہلے شخص ہیں۔ مکھر جی انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما تھے لیکن انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل ہی وہ تمام سیاسی عہدوں سے سبکدوش ہوگئے۔ 76 سالہ پرناب مکھر جی 17 دسمبر 1935ءکو مغربی بنگال میں پیدا ہوئے ۔ اپنے سیاسی سفر کے آغاز میں انہوں نے راشٹریہ سماجی وادی کانگریس کا انتخاب کیا جبکہ 1996ءسے 2004ءکے دوران وہ یونائیٹڈ فرنٹ کے اہم رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ 2004ءسے اب تک( صدر منتخب ہونے سے قبل) وہ یونائیٹڈ پروگرسیو الائنس کے اہم رہنما کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ یونیورسٹی آف کلکتہ سے تعلیم یافتہ پرناب مکھر جی کو 2008ءمیں ان کی سیاسی خدمات کے اعتراف میں پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران پرناب مکھر جی نے نہایت اہم عہدوں پر کام کیاوہ دو مرتبہ 25 جنوری2009ءسے 26 جون 2012ءکو 25 جنوری 1982ءسے 31 دسمبر 1984ءتک بھارت کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے دو وزرائے اعظم مسز اندرا گاندھی اور من موہن سنگھ کے ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں۔10 فروری1995ءسے 16 مئی 1996ءتک وہ بھارت کے وزیر خارجہ رہے جبکہ یونائیٹڈ پروگرسیو الائنس کی پہلی حکومت کے دوان وہ 22 مئی 2004ءسے 26 اکتوبر 2006ءکے درمیان وزیر دفاع بھی رہے۔ 1991ءسے 1995ءکے دوران انڈین نیشنل کانگریس کی حکومت سے وہ نرسیما راﺅ کی زیرسپرستی پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرپرسن بھی رہے۔ پرناب مکھر کی بھارت کیلئے طویل خدمات کا صلہ انہیں صدر جمہوریہ کی مسند پر فائز ہونے کی صورت میں ملا ہے۔ بھارت میں صدر کے عہدے کیلئے نہایت تجربہ کار اور عمر رسیدہ افراد کو بھی نامزد کیا جاتا ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ عمر کے آخری حصے میں بھارتی صدور کو سیاست سے اپنا کر دار ادا کرکے آئنی حلف کا پابند بنایا جائے۔ بھارت کے اکثر صدور سیاست سے ہٹ کر فنون لطیفہ‘ سائنس وٹیکنالوجی اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات ہیں جبکہ سیاسی کیریئر رکھنے والے صدور نے بھی صدر بننے کے بعد ایسی تمام سیاسی وابستگیوں کو ختم کرکے خود کو آئین کی پاسداری کا پابندی بنا لیا جبکہ صدر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بقیہ زندگی بھی غیر سیاسی انداز میں گزاری اور یہی چیز بھارتی جمہوریت کو دنیا بھر میں ممتاز کرتی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -