رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ ‘ملتان میں شہریوں کا بجلی کے کھمبوں پر چڑھ کر احتجاج

رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ ‘ملتان میں شہریوں کا بجلی کے کھمبوں پر چڑھ کر ...

  

لاہور/اسلام آباد/ملتان( کامرس رپورٹر + این این آئی) رمضان المبارک میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ کےخلاف پر تشدد مظاہرے شروع ہو گئے ‘ پھولنگر میں طویل لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ کے خلاف شہریوں نے لیسکو کے دفتر پر دھاوا بول کر سامان کو آگ لگا دی ‘ا سلام آباد کے علاقے علی پورفراش میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کےخلاف مظاہر ے کے دوران پتھراﺅ اور لاٹھی چارج سے ایس ایچ او سمیت متعدد زخمی ہوگئے جبکہ ملتان میں طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف بجلی کے کھمبوں پر چڑھ کر احتجاج کیا گیا ‘ وفاقی وزیر پانی و بجلی چودھری احمد مختار نے کہا ہے کہ تمام صوبوں میں بجلی کی یکساں لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے کسی کیساتھ زیادتی نہیں ہورہی، بجلی بحران پرسیاست چمکاکرعوام کوگمراہ کرنامناسب نہیں۔انرجی مینجمنٹ سیل کے مطابق بجلی کی طلب 17861کے مقابلے میں پیداوار 3544میگا واٹ شارٹ فال کیساتھ14317میگا واٹ رہی ۔ صوبائی دارالحکومت سمیت بڑے شہروں میں مختلف اوقات میں 10سے 12جبک دیہی علاقوں میں 16سے 18گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق چشمہ پاور پلانٹس کے دو یونٹس کی فنی خرابی کو دور کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پرکام جاری ہے او ر ان کے بحال ہونے سے لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کمی واقع ہو گی ۔ دوسری طرف سحری اور افطار کے دوران بھی لوڈ شیڈنگ کے باعث عوام سڑکوں پر آ گئے ہیں ۔لاہور کے نواحی قصبہ پھول نگر جمبر میں لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ کے ستائے شہری سڑکوں پر نکل آئے۔مشتعل افراد نے ملتان روڈ بلاک کر کے لیسکو دفتر کافرنیچر اور تمام ریکارڈ جلا دیا۔مظاہرے کے باعث دو گھنٹے تک ملتان روڈ پر ٹریفک بلاک رہی۔تاہم پولیس کے آنے پر مظاہرین منتشر ہو گئے ۔لیسکو حکام نے دفتر میں توڑ پھوڑ کرنے پر 200 افراد کے خلاف کارروائی کے لئے پولیس کو درخواست دےدی ہے ۔چیف ایگزیکٹو لیسکو نے پتوکی فیڈر کے انچارج کو معطل کر کے انکوائری کا حکم دے دیا۔ چیف ایگزیکٹو لیسکو شرافت علی سیال کا کہنا تھا کہ اوور لوڈنگ کے باعث فیڈر ٹرپ کر رہے ہیں۔اسلام آباد کے علاقے علی پورفراش میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ اہل علاقہ نے صبح سحری کے وقت علی پوراوراسلام آباد کو ملانے والی مین سڑک پرٹائرجلا کربلاک کردیاجس پر تھانہ شہزاد ٹاﺅن سے پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔پولیس نے مظاہرین کو سڑک سے ہٹانے کی کوشش کی شدید تصادم ہوا جس پر مظاہرین نے پولیس پرشدید پتھراکیا اور پولیس کی طرف سے آنسوگیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا جس سے ایس ایچ او سمیت متعدد زخمی ہو گئے ۔ملتان میں شہریوں نے کئی روز سے بجلی کی بندش کے خلاف کھمبوں پر چڑھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور واپڈا کے خلاف نعرے بازی کی ۔ ارسا کے مطابق بارشوں میں کمی کی وجہ سے دریاﺅں میں پانی کے بہا میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انڈس ریورسسٹم اتھارٹی کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پرپانی کا بہا ایک لاکھ 67 ہزار200 کیوسک، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر32 ہزار759 کیوسک ہے۔ارسا کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پرپانی کی سطح 58 ہزار834 کیوسک، دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر35 ہزار687 کیوسک اوردریائے ستلج میں سلیمانکی کے مقام پرپانی کا بہاﺅ 17 ہزار15 کیوسک ہے۔دوسری طرف وفاقی وزیر پانی و بجلی چودھری احمد مختار نے کہا ہے تمام صوبوں میں بجلی کی یکساں لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، کسی کیساتھ زیادتی نہیں ہورہی، بجلی بحران پرسیاست چمکاکرعوام کوگمراہ کرنامناسب نہیں۔وزارت پانی و بجلی کی طرف سے جاری اعلامئے کے مطابق وزیر پانی و بجلی نے اپنے ایک بیان میںکہا ہے کہ پہلے پاکستانی بعد میں سندھی، پنجابی، بلوچی اور پٹھان ہیں ا س لئے سب کو پاکستانیت کی سوچ کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافے کی وجوہات میں طلب کا اچانک بڑھ جانا ، چشمہ پاور پلانٹس کی تکنیکی خرابی کے باعث بندش اور سحر اور افطار کے اوقات کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کرنا بھی شامل ہے۔چشمہ پاور پلانٹس کی فنی خرابی کے باعث سسٹم سے آﺅٹ ہونے والی 650میگاواٹ بجلی میں سے 325میگا واٹ جلد سسٹم میں شامل ہوجائے گی۔دریں اثنا ءسحر ی و افطاری کے اوقات مےں کھانے پکانے و دےگر کام کر نے مےںبھی شدےد دشواری ہو رہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں لوڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے شہریوں علی ارشد، ماجد جاوید، خالد، بلال ، عاصم، حافظ راشد، عبادالحق ،حماد علی، رانا اکرام ، بشریٰ خان، سحرش اور صائمہ نے روزنامہ ”پاکستان“ سر وے میں گفتگو کر تے ہوئے کہا مختلف علاقوں مےں بجلی سحر ی اور افطاری کے اوقات مےں لوڈ شےڈنگ کی جارہی ہے اور کئی علاقوںمےں پانی کی بھی شدےد قلت کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے شہر ےوں کو سحری اور افطاری کے اوقات مےں لوڈ شےڈ نگ سے پانی کی قلت کے باعث شدےد پر ےشان رہنے لگے ۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ حکومت اگر آئی پی پےےز کو بقاےا جات کی اداےگی بر وقت کر لے تو لوڈ شےڈ نگ پر قابو پاےا جاسکتا ہے مگرحکومت قومی اداروں کو تباہ کرنے اورلوٹ مار میں مصروف ہے۔

مزید :

صفحہ اول -