توہین عدالت کیس کیلئے فل کورٹ بنانے کی استدعامسترد پارلیمینٹ عدلیہ کے کسی اختیار پر قدغن نہیں لگا سکتی:سُپریم کورٹ

توہین عدالت کیس کیلئے فل کورٹ بنانے کی استدعامسترد پارلیمینٹ عدلیہ کے کسی ...

  

اسلام آباد(خبرنگار) وفاق نے توہین عدالت کے خلاف نئے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے مقدمہ کی سماعت فل کورٹ میں کرنے کی استدعا کی جو سپریم کورٹ نے مسترد کر دی۔ ججز نے نئے قانون کو تنقیدی ریمارکس کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ کسی کو مکمل استثنی حاصل نہیں، پارلیمنٹ ، عدلیہ کی آزادی بڑھا تو سکتی ہے لیکن اسے محدود نہیں کرسکتی ۔چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس میاں شاکر اللہ جان ،جسٹس تصدق حسین جیلانی ،جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پرمشتمل پانچ رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی ، وفاق کے وکیل شکور پراچہ نے دلائل کاآغاز کرتے ہوئے موقف اختیار کیاکہ مقدمے کی اہمیت کے پیش نظراس کی سماعت کچھ عرصہ کے بعد فل کورٹ میں کی جائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایسے ایک کیس کا چاررکنی بنچ فیصلہ کرچکا ہے، موجودہ بنچ میں بھی سینئر ججز شامل ہیں ، اسکا جلد فیصلہ ہونا چاہیئے۔ اٹارنی جنرل کاکہناتھاکہ تیاری کے لئے 2 ہفتے دئے جائیں، درخواست گزار وکیل بازمحمدکاکڑ کے وکیل ایم ظفر ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہاکہ نئے قانون سے آئین کے آرٹیکل 248 میں ترمیم کی کوشش کی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی قانون سازی لسٹ میں بھی عدلیہ کی آزادی کیلئے ضمانت موجود ہے،اپیل کا حق ہوتا ہے لیکن یہ حق کنٹرولڈ ہوتا ہے، جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ پارلیمنٹ ، عدلیہ کی آزادی بڑھا تو سکتی ہے لیکن اسے محدود تو کیا ہی نہیں جاسکتا، نیا قانون جائز ہے تو پھر عدالت کو اسکینڈلائز کرنا توہین عدالت نہیں ہوگی، چیف جسٹس نے کہاکہ ہمارا پہلا اصول یہ ہے کہ قانون کو بچایا جائے، توہین عدالت قانون میں وہی اضافہ ممکن ہے جس کی آئین اجازت دے، تمام درخواستوں میں کم و بیش ایک ہی موقف اختیار کیاگیاہے ، بنچ کیساہو، یہ عدالتی استحقاق ہے ، اِسے رہنے دیں ۔ انہوں نے کہاکہ معاملہ اہم اور عدلیہ سے متعلق ہے ، اِس کا فیصلہ جلد ہوناچاہیے ۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ ملکی تاریخ میں ایسا کیس کبھی نہیں آیا، کیس اہم ہے ، تیاری کے لیے دو ہفتے کا وقت دیاجائے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ مثال موجود ہے اور توہین عدالت قانون سے متعلق جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے فیصلہ دیااور اِس بنچ میں بھی سینئر جج شامل ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ 1996کا فیصلہ ہے ، اور اب نظریات بدل گئے ہیں جس پرجسٹس تصد ق جیلانی نے کہاکہ توہین عدالت قانون ہمیشہ رہاہے اور جب تک قانون کی حکمرانی ہے ،یہ رہے گا،اے جی صاحب ! آپ کہہ رہے ہیں کہ توہین عدلت کا نظریہ بدل گیا۔وفاق کے وکیل نے کہاکہ انہیں کل ہی وکیل مقررکیاگیاہے اور ان کو تمام آئینی درخواستیں نہیں مل سکیں لہذاعدالت مزید وقت دے جس کے بعد عدالت نے اٹارنی جنرل کو جسٹس اجمل میاں پر مشتمل بنچ کا فیصلہ پڑھنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بینچ کیسا ہو یہ عدالتی استحقاق ہے، اس بنچ میں بھی سینئر ججز شامل ہیں، اسے رہنے دیں۔ معاملہ بہت اہم ہے جو عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے، جلد فیصلہ ہونا چاہیے۔ مزید وقت نہیں مل سکتا۔ ایک درخواست گزار وکیل چودھری اکرام نے کہاکہ توہین عدالت کا نیا قانون این آر او ہے، یہ آئین کی روح کے بھی منافی ہے، جسٹس تصدق جیلانی نے کہاکہ آئینی آرٹیکل 204 کے تحت عدالتی کارروائی میں مداخلت ، توہین ہے، نئے قانون میں ہے کہ توہین تب ہوگی جب کسی عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہو، کیا یہ آئین کے مطابق ہے؟ چیف جسٹس نے کہاکہ توہین عدالت قانون کیلئے آرٹیکل 204 سے باہر نہیں نکل سکتے، عدالتی فیصلے عوامی ملکیت ہوتے ہیں، اس پر فیئرکمنٹس کرنا جرم نہیں، ،ایک درخواست گزار محموداخترنقوی نے کہاکہ نیا قانون ، راجا پرویزاشرف کو بچانے کیلئے لایا گیا، چیف جسٹس نے انہیں کہاکہ راجا پرویزاشرف کے خلاف یہ توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہورہی،سماعت ابھی جاری تھی کہ عدالت کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے مزید سماعت آ ج منگل تک کے لیے ملتو ی کرتے ہوئے عدالت نے فریقین کے وکلاءکو ہدایت کی ہے کہ وہ منگل کو اپنے دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں ۔

مزید :

صفحہ اول -