گیس کی قلت عروج پر سحری اور افطاری کی تیاری مشکل ‘شہریوں نے بل نذرآتش کرنیکی دھمکی دیدی

گیس کی قلت عروج پر سحری اور افطاری کی تیاری مشکل ‘شہریوں نے بل نذرآتش کرنیکی ...

  

لاہور (خبرنگار) صوبائی دارلحکومت میں سحری و افطار کے اوقات میں گیس کی قلت شدید صورتحال عروج پر پہنچ گئی۔ لاہور کی چار درجن سے زائد گنجان آبادیوں میں پونے دولاکھ سے زائد شہریوں کو گیس نہ ملنے پر سحری کے اوقات میں شدید دشواری کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے صوبائی دارلحکومت میں گزشتہ روز تیسرے روزہ کے موقع پربھی سوئی گیس حکام شہریوں کو گیس کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں اور شہرکی چار درجن سے زائد آبادیوں مغل پورہ، غازی آباد، فتح گڑھ، ہربنس پورہ، کوٹ خواجہ سعید، سمن آباد، ساندہ، ٹاﺅن شپ اور کرشن نگر سمیت شہر کی دیگر گنجان آبادیوں میں گزشتہ روز بھی گیس نہ ملنے پر شہری سحری کیلئے تندروں، ہوٹلوں اور بیکریوں سے مجبوراً سحری کا سامان خریدنے پر مجبور رہے ہیں۔ جس میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد گیس نہ ملنے پر سراپا احتجاج بنی رہی ہے۔ ”پاکستان“ کے ایک سروے کے مطابق گیس گیس کمپنی کے لاہور میں 10 لاکھ سے زائد صارفین میں سے پونے دو لاکھ سے زائد صارفین گیس کی سہولت سے محروم ہوکر رہ گئے ہیں اور سحری اور افطاری کے اوقات میں گیس کا پریشر مستقل طورپر ڈاﺅن رہنا شروع ہوگیا ہے جس میں بعض گنجان آبادیوں میں دوسے چار گھنٹے کیلئے گیس کا پریشر ڈاﺅن رہنے پر شہری سحری کا سامان بازارسے لینے پر مجبور ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس سلسلے میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے گیس نہ ملنے پر مجبوراً گیس سلنڈر اور مٹی کے تیل کے چولہوں کا استعمال شروع کردیا ہے جس پر شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے گیس کی صورتحال کا نوٹس نہ لیا تو گیس کے آنے والے بلوں کو ادا نہیں کیا جائے گا اور گیس بلوں کو نذر آتش کردیا جائے گا۔ سوئی گیس حکام کے مطابق لاہور کے 10 لاکھ سے زائد صارفین کو سپلائی کی جانے والی گیس کی ڈیمانڈ میں اچانک 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور گیس کی ڈیمانڈ کے مقابلہ میں سپلائی میں کمی کا سامنا ہے۔ اس میں گیس صارفین کو تعاون کرنا چاہیے اور گھریلو صارفین کو ہر حال میں گیس کی سپلائی کو بہتر بنانے کیلئے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -