وزیراعظم آئینی دائرہ کار کے حوالے سے مکمل سچ کا راستہ اختیار کریں، لیاقت بلوچ

وزیراعظم آئینی دائرہ کار کے حوالے سے مکمل سچ کا راستہ اختیار کریں، لیاقت بلوچ

  

ؒٓؒٓٓلاہور(نمائندہ خصوصی( جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ آئین میں ریاستی امور چلانے کے لیے بلاشبہ منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن آئین پابند کرتاہے کہ کرپشن کا دھندا نہ کیاجائے ، اختیارات کے ناجائز استعمال پر بندش ہے ، اداروں کے درمیان تصادم پیدا کرنے کی گنجائش نہیں ، آئین پابند کرتاہے کہ جمہوری ، انسانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت کا احترام کیا جائے ۔ پارلیمنٹ نے ہی آئین میں قانون کے نفاذ اور حکمرانوں کے غیر آئینی اقدامات کی گرفت کے لیے اعلیٰ عدلیہ کو اختیارات دیے ہیں ۔ وزیراعظم آدھے سچ کے بجائے آئینی دائرہ کار کے حوالے سے مکمل سچ کا راستہ اختیار کریں ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے جب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلا ف عدالتی فیصلہ تسلیم کرکے قومی اسمبلی کی نشست خالی کردی اور نئے وزیراعظم کا انتخاب بھی کر لیا اب حکومت کے پاس عدالتی فیصلے کو تسلیم کرکے سوئس بنکوں میں قومی دولت اور منی لانڈرنگ کیس کے لیے خط لکھنے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح یوسف رضا گیلانی کے لیے قومی اسمبلی کی اسپیکر کا فیصلہ کام نہیں آیا ، اب بھی بدنیتی پر مبنی ایکٹ آف پارلیمنٹ یا وفاقی کابینہ کا کندھا راجہ پرویز اشرف کے کام نہیں آئے گا ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ افراط زر بڑھ رہاہے اور عوام کی قوت خرید عملاً ختم ہو چکی ہے جبکہ سستے بازاروں کے نام پر عوام کو بلیک میل کیاجارہاہے ۔ صارفین کو مہنگی اور غیر معیاری اشیا فراہم کی جارہی ہیں ۔ جماعت اسلامی قومی مسائل پرعوامی احتجاج جاری رکھے گی ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -