وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا پنجاب گورننس فورم 2012ءسے خطاب

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا پنجاب گورننس فورم 2012ءسے خطاب
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا پنجاب گورننس فورم 2012ءسے خطاب

  

میرے لئے یہ امر باعث اعزاز ہے کہ مجھے پنجاب گورننس فورم 2012ءکی اس تقریب میں شامل ہو کر پنجاب میں حکومت کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے فاضل مقررین کے گرانقدر خیالات اور سفارشات سے آگاہی حاصل ہوئی ہے۔ آج کی اس تقریب کے انعقاد کا مقصد حکومتی کارکردگی کا اعادہ نہیں بلکہ ہمارے لئے یہ بات زیادہ اہم ہے کہ ہم آپ کے مشورے اور آپ کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بہتر حکومت کے قیام کے لئے ایسے دیرپااقدامات وضع کر سکیں جو سیاسی تبدیلیوں سے متاثر نہ ہوں۔ یہ وہ عوام دوست اور ملک دوست پروگرام ہونے چاہئیں جو آنے والے ہر طرح کے حالات میں جاری و ساری رہیں۔ میرے خیال میں آج کے اس پروگرام کے تمام مباحث کا مطلوب و مقصود یہی ہونا چاہیے اور میری بھی یہ کوشش ہو گی کہ میں کسی بات کو دہرائے بغیر اس مقصد کے حصول میں اپنا حصہ ڈال سکوں۔ میں خودستائی سے گریز کرنا چاہتا ہوں لیکن میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جب ہم نے حکومت شروع کی تو ہمیں پچھلی حکومت سے ورثے میں کیا ملا؟ ہم نے چیزوں کی اصلاح کے لئے کیا اقدامات کئے؟ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارے مثبت اور منفی پہلو کیا ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آنے والے دنوں میں ہم ملک کے حالات کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں؟۔ کسی طویل بحث و مباحثہ میں پڑے بغیر میں اپنی گفتگو کا آغاز ایک مثال سے کرنا چاہوں گا۔ 2008ءمیں جب ہم نے پنجاب حکومت سنبھالی تو میں نے ایک منصوبے کا دورہ کیا جو ”لاہور قصور روڈ“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ 5 ارب روپے کا ایک پراجیکٹ تھا جس کی منظوری 2005ءمیں دی گئی اور اسے 2007ءمیں مکمل ہونا تھا۔ اس منصوبے کا میرا پہلا دورہ میرے لئے کسی ڈراﺅنے خواب سے کم نہ تھا۔ دورے کے دوران یہ شرمناک حقیقت میرے علم میں آئی کہ منصوبے پر کسی تعمیراتی کام کے بغیر اربوں روپے کے فنڈز خوردبرد کر لئے گئے تھے۔ موبلائزیشن ایڈوانس کے نام پر بھاری رقوم ادھر سے ادھر کر دی گئی تھیں۔ یہ تمام پیشگی ادائیگیاں مسلمہ اصول و ضوابط کو پس پشت ڈال کر کی گئی تھیں اور ان کے لئے جعلی گارنٹیوں کا سہارا لیا گیا تھا۔ منصوبے کے ایسے حصوں کی تکمیل کا معاوضہ بھی ادا کر دیا گیا تھا جنہیں عملی طور پر چھوا بھی نہیں گیا تھا۔ تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی باآسانی اس نتیجے پر پہنچ سکتا تھا کہ منصوبے کے نام پر جاری ہونے والے خطیرفنڈز یہاں سے بہت دور کہیں محفوظ ہاتھوں میں پہنچا دیئے گئے ہیں اور عوامی فلاح کے نام پر تیار کیا گیا منصوبہ عملی طور پر ایک صحراءکا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ صورتحال اس قدر دگرگوں تھی کہ اس منصوبے پر کام اور اس کی تکمیل کے بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ میں نے دو برسوں میں پانچ مرتبہ اس منصوبے کا دورہ کیا‘ کئی ٹھیکیدار تبدیل کئے‘ ان میں سے بعض بدعنوانوںکو گرفتار کرایا گیا‘ بعض سرکاری افسر معطل ہوئے اور پھر آخر کار ہم اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ منصوبہ جو حقیقی معنوں میں سابق دور کی کرپشن کا قبرستان تھا آج عملی طور پر عوامی فلاح کا ایک مینار بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ نیک نیتی‘ محنت اور انتھک کوششوں سے حاصل ہونے والے نتائج کا ایک جیتا جاگتا شاہکار ہے۔ آپ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ یہ سب کچھ محض ایک فردواحد کی کوششوں کا مرہون منت نہیں۔ دنیا بھر میں اس طرح کے جتنے بھی کام ہوئے ہیں وہ اجتماعی دانش اور مشترکہ کوششوں اور ارادوں کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے ہیں۔ اس معاملے میں اصل بات بے حسی‘ لاتعلقی اور کرپشن کے اس کلچر کو شکست دینا تھا جس کی جڑیں بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت دور تک چلی گئی ہیں۔ اس وقت پنجاب میں‘ میں خود اور میری ٹیم جس میں میرے سیاسی رفقاءاور بیوروکریٹ دونوں شامل ہیں اسی کلچر کے خلاف صف آراءہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم مشترکہ مفادات رکھنے والے مافیا کے اس ناپاک گٹھ جوڑ کے خلاف یہ جنگ لڑ رہے ہیں جس کی جڑیں ہر اس معاشرے میں بہت گہری ہوتی ہیں جہاں ادارے ابھی ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور احتساب کا کوئی مضبوط نظام موجود نہیں ہوتا۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے میں یہاں اپنا مقدمہ پیش کرنے نہیں آیا۔ میں تو اس وقت اپنی اور اپنی حکومت کی صرف ان عاجزانہ کوششوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ہم نے ایک بہتر طرز حکومت کے حصول کے لئے کی ہیں۔ میںیہ نہیں کہتا کہ اس ضمن میں ہم سے غلطیاں نہیں ہوئیں۔ معصومیت کا دعویٰ صرف فرشتوں کے لئے ہی مناسب ہے۔ البتہ میں یہ ضرور کہوں گا کہ اس سفر میں ہماری نیت درست اور ارادہ صحیح رہا ہے۔

1998ءمیں ہم نے اپنے پہلے دور حکومت میں اہم منصوبوں میں تھرڈ پارٹی آڈٹ سسٹم متعارف کرانے کا پروگرام وضع کیا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک خاص مالیت سے زیادہ کا منصوبہ چاہے اس کا تعلق انفراسٹرکچر سے ہو‘ سوشل سیکٹر سے یا محکمہ صحت سے‘ اس میں ٹرانسپئرنسی کے تقاضوں کو برقرار رکھنے کے لئے تھرڈ پارٹی آڈٹ ضروری ہونا چاہیے۔ جب اللہ کے فضل سے ہمیں صوبے میں عوام کی خدمت دوبارہ کرنے کا موقع ملا تو یہ سسٹم ایک مدت سے کرپشن کے ڈھیروں تلے دب چکا تھا۔ ہم نے گذشتہ چار سالوں میں مسلسل کوششوں کے بعد اسے پنجاب میں دوبارہ متعارف کرایا۔ اگر کوئی مجھ سے یہ سوال کرے کہ کیا اس خودمختار آڈٹ سسٹم کا دائرہ کار پورے پنجاب پر محیط ہے یا نہیں؟ تو میرے لئے اس سوال کا اثبات میں جواب دینا یقینا مشکل ہو گا۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ پنجاب کے کسی دوردراز مقام پر کوئی فرد فنڈ کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر راستہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہو۔ یا کہیں اورعوامی اہمیت کے کسی منصوبے میں کوالٹی کا خیال نہ رکھا جا رہا ہو۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ حکومت کے ہاتھ چاہے کتنے ہی لمبے ہوں‘ صوبے کے دوردراز کونوں تک یکساں طور پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔ تاہم یہ بات میں پورے اطمینان کے ساتھ اور بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس نظام کو نافذ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں‘ اس میں روزبروز بہتری آ رہی ہے اور یہ کہ اس کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ یہاں میں آپ کی خدمت میں ایک اور مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جی ہاں! اسی شہر لاہور میں یعنی حکومت کی عین ناک کے نیچے باب پاکستان کا منصوبہ زیرتکمیل ہے۔ تقریباً 4ارب روپے کی مالیت کا یہ منصوبہ 2004-05 میں شروع کیا گیا تھا۔ میں اس میں ہونے والی تاخیر کے اسباب میں نہیں جانا چاہتا۔ اس میں وقت کا بہت ضیاع ہو گا اور اس کے لئے بعض حساس پہلوﺅں کا تذکرہ ضروری ہو جائے گا۔ لیکن میں اس منصوبے کے اس پہلو کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس منصوبے میں استعمال ہونے والا سنگ مرمر اٹلی سے درآمد کیا جانا تھا۔

حاضرین کرام! آپ سب صاحب علم ہیں اور تاریخ سے آگاہی رکھتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ یہ باب پاکستان‘ قیام پاکستان کی یادگار کے طور پر اس مقام پر تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں ہزاروں لاکھوں مہاجرین اپنے عزیزوں اور پیاروں کی قربانیاں دے کر انتہائی کسمپرسی کی حالت میں کیمپوں میں قیام کے لئے رکے تھے۔ اس مقام کے تاریخی ہونے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ میرے ذاتی خیال میں اس کی تعمیر اس لئے بھی ضروری تھی کہ آنے والی نسلیں یہ جان سکیں کہ ہمارے آباﺅ اجداد نے کن قربانیوں کے بعد پاکستان بنایا تھا اور وہ کس طرح آگ اور خون کا دریا عبور کر کے یہاں پہنچے۔ افسوس! 64برس گزرنے کے باوجود ہم آزادی کی منزل سے کوسوں دور ہیں اور اس خواب کے شرمندہ تعبیر ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے جو قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا۔

لیکن معزز حاضرین! یہ ایک اور داستان ہے جس کا تذکرہ کسی دوسرے وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ اس وقت تو میں باب پاکستان میں لگنے والے اس سفید سنگ مرمر کا ذکر کرنا چاہ رہا ہوں جس پر اس غریب قوم کے 90کروڑ روپے صرف کئے جانے تھے۔ جب اس منصوبے کے اپنے پہلے دورے کے دوران میں نے یہ سوال کیاکہ ہمیں اس منصوبے کے لئے سنگ مرمر درآمد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو مجھے جواب ملاکہ ”جناب یہ ایک بہت بلند مینار ہو گا۔ ہم اس کے اوپر یہ سنگ مرمر لگائیں گے اور لوگ دیکھیں گے کہ کس طرح تقسیم کے بعد یہاں پر قافلوں نے پڑاﺅ ڈالا اور یہاں پہ قیام کیا۔“ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا 90کروڑ روپے کی خطیر رقم سے لگائے جانے والے سنگ مرمر سے ہم اس بات کی ترجمانی کرانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام بہت خوشحال ہیں؟ کیا یہ سنگ مر مراس امر کی گواہی دے گا کہ یہاں امیر اور غریب کا فرق مٹ چکا ہے؟ کیا اس سے یہ ثابت ہو گاکہ ہم غربت اور بیروزگاری کے مسائل پر قابو پا چکے ہیں؟میں نے ان سے کہا کہ آخر ہم اس طرح کے کاموں سے کسے بیوقوف بنانا چاہتے ہیں۔ہمیں اتنی بڑی رقم اور وہ بھی زرمبادلہ میں ضائع کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ خواتین و حضرات! آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ میرے اس فیصلے کی پوری شدومد کے ساتھ مخالفت کی گئی اور اس وقت کے ڈکٹیٹر کے مقرر کئے ہوئے کنسلٹنٹ جو جنرل قیوم کا قریبی دوست تھا‘ نے صاف الفاظ میں کہا کہ ”نہیں جناب چیف منسٹر! یہ بہت ضروری ہے بصورت دیگر اس منصوبے کی خوبصورتی تباہ ہو جائے گی۔ “ اس موقع پر مجھے اپنا اختیار استعمال کرنا پڑا۔ تاہم وہ پھر بھی بڑی دیر تک اپنی انا پر اڑے رہے۔ آخر کار میں بصدمشکل انہیں پاکستان کے شمالی حصوں میں پائے جانے والے سنگ مرمرکے استعمال پر راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا جس کی مالیت 30کروڑ روپے تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کے سیمینار کے انعقاد کاواحد مقصد اس ایک مثال میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔اصل بات اس ملک کے بارے میں ہمارے طرز احساس کی ہے اور اس سوچ کی ہے کہ ہم نے اس کے وسائل کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسی طرح سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہے۔ ہم میںسے چاہے کوئی سیکرٹری ہیلتھ ہو، خادم پنجاب ہو یا کسی اور منصب پر فائز ہو‘ اسے سب سے پہلے یہ سوچنا ہو گا کہ آیا بجٹ اس امر کی اجازت دیتا ہے یا نہیں،کیا میں اس سرمایہ کاری کے بہترین نتائج حاصل کر سکوں گا یا نہیںاور یہ کہ اس منصوبے میں قومی وسائل کے ضیاع کا کوئی پہلوتو نہیں۔اور اگر ہم یہ سب کچھ نہیں کرتے تو پھر ہم نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ قوم کے ساتھ بھی بے وفائی کے مرتکب ٹھہرتے ۔میرا خیال ہے کہ آج کی محفل کے شرکاءکو تمام امور پر اسی حوالے سے غوروخوض وبحث مباحثہ کرنا چاہیے۔لیکن آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ اس کا ہر شہری بہترین تعلیم تک رسائی حاصل کر سکے۔ اور پھر دانش سکول سرکار کی طرف سے کی جانے والی اس طرح کی کوئی پہلی کوشش نہیں ہے۔وفاقی حکومت اسی طرح کی سرمایہ کاری کے ذریعے کیڈٹ کالجوں کی تعمیر کر چکی ہے۔ لیکن وہاں داخلے کا معیار ازحد مختلف ہے۔ جبکہ ہم دانش سکولوں میں میرٹ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان غریب بچوں کو اپنے گلے لگاتے ہیں ‘ جن کا مقدر عموماًگردآلود گلیوں میں گھومتے اور بے سروسامانی کی حالت میں غلاظت سے اٹی ہوئی جھونپڑیوں میں بے مقصد زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا یہی وہ منظر نامہ ہے جو ہماری بنیادی غلطی کی نشاندہی کرتا ہے اور اسی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جب تک ہم غریب اور امیر کو اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے یکساں مواقع فراہم نہیں کرتے ہم اپنے بوسیدہ نظام کو درست نہیں کر سکتے۔ ہمارے ملک میں امکانات اور صلاحیتوں کی کمی نہیں۔ قدرت نے ہمیں بہترین دماغوں اور وسائل سے نوازا ہے۔ ان میں سے بہت سے ابھی تک منظر عام پر نہیں آ سکے۔ بہترین صورتحال کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہمیں بیرونی امداد پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ میں نے اس بیرونی مدد کی کبھی مخالفت نہیں کی جو ہمیں باعزت طور پر دی جائے۔ لیکن میں یہ امر کیسے فراموش کر سکتا ہوں کہ وہ ممالک جو ہمیں امداد دیتے ہیں انہوں نے ترقی اور خودکفالت کا موجودہ منصب دوسروں کی مدد کے بغیر حاصل کیا ہے۔ یہ کام ناممکن نہیں۔ تاہم اس کے لئے ہمیں اپنے طرززندگی کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہو گا اور یہ اس وقت ممکن ہے جب ہم باب پاکستان جیسے منصوبوں کے لئے سنگ مرمر برآمد کرنا بند کر دیں‘ جب ہم پیشگی ادائیگیوں کے نام پر قومی خزانے کی لوٹ مار سے باز آ جائیں اور جب اس محتاجی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیں جو ہمیں بیرونی ممالک سے قرضے اور امداد لینے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس پر چل کر ہم جناحؒ اور اقبالؒ کا پاکستان حاصل کر سکتے ہیں۔ حاضرین کرام! اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے عوام نے ہمیں دوبارہ منتخب کیا تو ہم ان کی خدمت کا یہ سفر اسی زوروشور سے جاری رکھیں گے۔ جہاں تک بیرونی امداد کا تعلق ہے ہم اسے قبول کرتے ہوئے اپنی عزت نفس کے تقاضوں کو فراموش نہیں کریں گے اور اس امداد کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں گے۔ میں اس ضمن میں پنجاب سکلزڈویلپمنٹ فنڈ کی مثال دینا چاہوں گا۔ اس پروگرام نے اپنے سابقہ اور موجودہ چیئرمین کی سربراہی میں قابل تحسین کام کیا ہے۔یہ پروگرام برطانوی حکومت کے ساتھ مساویانہ مالی شراکت کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ کوئی سیاسی شرط وابستہ نہیں ہے۔ اس کی واحد شرط یہ ہے کہ امداد کی تمام رقوم صحیح انداز میں صرف کی جائیں گی۔ ہم نے برطانیہ کے ٹیکس گزار عوام کے تعاون سے جنوبی پنجاب میں ہزاروں نوجوانوں کو مختلف فنون میں تربیت دی ہے اور اس پروگرام نے پاکستان کے بڑے بڑے تجارتی اداروں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرائی ہے۔یہی وہ راستہ ہے جسے ہم مستقبل کا راستہ قرار دے سکتے ہیں۔ یعنی پنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جلا بخش کر انہیں اپنے قدموں پر کھڑا کر کے مقامی اور بیرونی سطح پر روزگار حاصل کرنے کے لئے مدد کی فراہمی۔ ہمیں اپنے مستقبل کو تاریکیوں کی نذر ہونے سے بچانے کے لئے پوری قوت کے ساتھ بروئے کار لانا ہو گا اور اس کے لئے واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کی اس 60فیصد آبادی کے مضبوط شانوں پر انحصار کریں جو نوجوان بھی ہے‘ باصلاحیت بھی اور محب وطن بھی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -