اگلے الیکشن کب ہوں گے؟

اگلے الیکشن کب ہوں گے؟

  

موجودہ سول حکومت کا آئین کے مطابق آخری سال ہے اور الیکشن مارچ 2013ءمیں متوقع ہیں، لیکن ہر روز ہر صبح ایک نئی افواہ سننے کو ملتی ہے کہ حکومت کا آخری ہفتہ ہے، بس کچھ ہونے والا ہے ۔ جس دن مسلم لیگ (ن) وفاقی حکومت سے علیحدہ ہوئی تھی، اسی دن سے پی پی پی کے مخالفین نے حکومت ختم ہونے کا عندیہ دینا شروع کر دیا تھا۔مسلم لیگ (ن) کے لوگ وفاقی حکومت سے علیحدہ ہو کر بھی پنجاب میں اپنا اقتدار ابھی تک قائم رکھے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی دن رات مسلم لیگ (ن) کے لیڈر، صدر آصف علی زرداری اور حکومت کے خلاف کرپشن، کرپشن کا شور مچا رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں کو پتہ ہے کہ آئندہ الیکشنوں میں رزلٹ کیا ہوں گے؟ الیکشن میں پاکستان کے عوام اور پنجاب کے عوام کا موڈ کیا ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کسی صورت میں بھی الیکشن وقت سے پہلے کرانے کے حق میں نہیں۔ الیکشنوں کی جلدی تو پارلیمینٹ سے باہر رہنے والے لوگوں کی خواہش ہے۔ عقلمندی کا تقاضا ہے کہ الیکشن وقت پر کروائے جائیں۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر کے لئے متفقہ طور پر ریٹائرڈ جسٹس فخر الدین جی ابراہیم کے نام پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ بے شمار غلط فہمیاں اور سیاسی ناراضگیاں ہونے کے باوجود ایک نام پر سب راضی ہوگئے ہیں۔

روزانہ کی خبروں میں الیکشن چند ماہ قبل بھی ہو سکتے ہیں، اگر الیکشن پہلے ہوئے تو سابق صدر جنرل پرویز مشرف یہ طعنہ ضرور دیں گے کہ صرف فوجی حکمران آئینی مدت پوری کرتے ہیں۔ یہ مَیں نے ویسے ہی شک کا اظہار کیا ہے۔ الیکشن مدت پوری کرنے کے بعد ہونے چاہئیں تاکہ جمہوریت کو فروغ حاصل ہو، پاکستان میں سیاسی لوگوں کی بدنامی نہ ہو۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر اچھی ساکھ کے مالک ہیں، وہ کسی بھی غیر جمہوری طریقے سے اقتدار پر قابض ہونے کی مخالفت کریں گے۔

الیکشن کمیشن نے دس لاکھ سے پندرہ لاکھ انتخابی اخراجات کی اجازت دی ہے۔ صوبائی اسمبلی کا امیدوار دس لاکھ اور قومی اسمبلی کا دس لاکھ سے پندرہ لاکھ خرچ کر سکے گا۔ گزشتہ الیکشنوں میں بالترتیب پچاس اور تیس لاکھ خرچ کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ الیکشن پر اخراجات کی یہ حد عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے، کیا پاکستان میں کوئی مزدور یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا آدمی یہ الیکشن لڑ سکتا ہے؟ وہ اتنی بڑی رقم کس طرح الیکشن پر خرچ کرے گا، جبکہ پاکستان میں نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، بلکہ بدتر حالات میں زندہ ہے۔ دس پندرہ لاکھ الیکشن میں معمولی خرچہ ہے ،الیکشنوں میں خرچ کروڑوں میں ہوتے ہیں۔ ان اخراجات کو روکنا بہت ہی مشکل ہوگا۔ پاکستان میں رہنے والے علاقائی لوگ اگر الیکشنوں میں حصہ لیں تو پھر شاید اخراجات میں کمی والا قانون کامیاب ہو، چونکہ علاقوں میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ بے شک الیکشن کمیشن نے ایک اکاو¿نٹ کھولنے کا قانون بنایا ہے کہ اس اکاو¿نٹ سے الیکشن پر خرچ کیا جائے ۔ پاکستان میں یار دوست بہت مدد کرتے ہیں۔ پاکستان میں الیکشنوں کے لئے کوئی اچھا اور سستا طریقہ رائج ہونا چاہئے تاکہ ہر طبقے کے لوگ الیکشنوں میں حصہ لے سکیں۔ امیدواروں پر لاکھوں روپوں کے کپڑے کے بینر، وال چاکنگ اور بڑے بڑے جلسوں پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے۔ امیدوار چھوٹے چھوٹے پمفلٹ لوگوں کے گھروں میں پھینکیں، گلی محلوں میں کارنر میٹنگز کریں۔ اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہونی چاہئے۔

پی پی پی کا ایک وزیراعظم اپنے گھر نا اہل ہو کر جا چکا ہے۔ عدلیہ کے فیصلے کے علاوہ معاشرے میں ان کے خلاف کرپشن کا بہت شور تھا۔ وفاقی حکومت پارلیمینٹ کے سپریم ہونے کا اعلان کر رہی ہے۔ چیف جسٹس صاحب کہہ رہے ہیںکہ پارلیمینٹ نہیں، آئین سپریم ہے۔ ظاہر ہے آئین اگر سپریم ہے تو چیف جسٹس عدلیہ کے تمام احکامات سپریم ہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے کوئٹہ میں اعلان کیا کہ پارلیمینٹ کے خلاف کوئی غیر قانونی اقدام کیا گیا تو عدلیہ اس کی بھرپور مزاحمت کرے گی۔ مجھے بھی گولی لگ سکتی ہے۔ چیف صاحب کو پتہ چل گیا ہوگا کہ پارلیمینٹ کو کس سے خطرہ ہے، مگر انہوں نے نہیں بتایا، لیکن تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ جنرل پرویز کیانی کے ہوتے ہوئے ملک میں مارشل لاءنہیں لگ سکتا۔ ملک میں الیکشن2013ءمیں ہوں گے۔ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔ ٭

مزید :

کالم -