”میں فتویٰ بازوں کا ہدف نہیں بننا چاہتی“

”میں فتویٰ بازوں کا ہدف نہیں بننا چاہتی“

  

مَیں ابھی دفتر پہنچا ہی تھا کہ آپریٹر نے بتایا کسی خاتون کا فون ہے، وہ بات کرنا چاہتی ہیں۔ مَیں نے کال ملوانے کو کہا تو دوسری طرف سے ایک شستہ اُردو بولنے والی خاتون نے رسمی علیک سلیک کے بعد یہ سوال داغ دیا کہ میڈیا مریم جیسی خواتین کا ذکر کرتا ہے، جو پنچایت کے فیصلے کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے یا پھر وینا ملک کے سکینڈلوں کو اچھالتاہے۔ وہ کب اس پاکستانی عورت کے مثبت کردار کو اجاگر کرے گا، جو اس معاشرے کو سنبھالے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اس مثبت کردار ادا کرنے والی پاکستانی عورت کا میڈیا اعتراف نہیں کرتا اور اس کے کردار کو سامنے نہیںلاتا، اس وقت تک عورت کمزور بھی رہے گی اور ایسے واقعات بھی ہوتے رہیں گے۔ پھر انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک ادارے میں کام کرتی ہیں اور گھر داری کے فرائض بھی خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہی ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ گھر میں علاقے کی بچیوں کو قرآن مجید بھی پڑھاتی ہیں۔

مَیں نے جواب میں انہیں مبارکباد دی اور کہا کہ وہ انتہائی نیکی کا کام سر انجام دے رہی ہیں اور فون کرنے کا سبب پوچھا۔ قدرے توقف کے بعد وہ بولیں: ”اخبارات میں مجھ جیسی پاکستانی عورتوں کی کبھی نمائندگی نہیں ہوئی۔ اخبارات میں یا تو مغرب زدہ عورتوں کی سرگرمیاں پیش کی جاتی ہیں، یا پھر ان عورتوں کے بارے میں لکھا جاتا ہے، جو گینگ ریپ کا شکار ہوتی ہیں، حالانکہ پاکستان میں ایک ایسی عورت بھی بستی ہے، جو روشن خیالی کی علامت ہے اور اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کر رہی ہے“۔

مَیں نے کہا اخبارات ایسی خواتین کی سرگرمیوں کو بھی اپنے صفحات پر نمایاں کرتے رہتے ہیں، انہوں نے درمیان ہی میں میری بات کاٹتے ہوئے کہا:”مسئلہ خواتین کی سرگرمیوں کو نمایاں کرنے کا نہیں، بلکہ اس تعصب سے نجات دلانے کا ہے، جو بے عمل عالموں اور مردانہ شاونزم کی بیماری میں مبتلا مردوں نے پھیلا رکھا ہے“.... ”مَیں آپ کی بات سمجھا نہیں“۔ مَیں نے انہیں کریدنے کے لئے کہا۔ دوسری طرف چند ثانیے خاموشی رہی پھر وہ بولیں: ”یہ کس قدر یکطرفہ اور ظالمانہ بات ہے کہ معاشرے کی ہر برائی عورت کے سر تھونپ دی جاتی ہے۔ ”پردہ تھیوری“ کو بنیاد بنا کر مولوی صاحبان اور عورت کو ”پروڈکٹ“ سمجھنے والے مرد یہ کہہ کر معصوم بن جاتے ہیں کہ عورت گھر سے نکلے گی، تو برائی ضرور پھیلے گی۔ گویا مرد ایک چھوئی موئی قسم کی مخلوق ہیں، جو اس وقت تک نیک اور پارسا رہتے ہیں، جب تک کسی غیر عورت کو دیکھ نہیں لیتے، حالانکہ اسلام نے نظام اخلاق کو قائم کرنے کی جتنی ذمہ داری عورتوں پر ڈالی ہے کہ وہ اپنی مناسب سترپوشی، گفتار و کردار اور نگاہوں کی حفاظت کریں، اسی قدر مردوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فواحش سے بچیں، اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنی نظروں پر قابو رکھیں۔ وڈیرے یا کسی ممبر اسمبلی کے چہیتے غریبوں کے گھروں میں گھس کر جب ان کی بیٹیوں کی عصمتیں برباد کرتے ہیں تو کیا اس میں بھی عورت کا قصور ہے؟

مریم کو مروانے کا جس پنچائیت نے حکم دیا، کیا اس میں کوئی عورت بھی شامل تھی۔ پردہ نہ ہونے سے بے راہروی کا پروپیگنڈہ کرنے والے مرد کی اس درندگی کا کیسے دفاع کریں گے“؟....”تو کیا آپ پردے کے خلاف ہیں“.... میرا سوال تھا۔”نہیں، مَیں پردے کے ہرگز خلاف نہیں، لیکن پردے کو بنیاد بنا کر عورت کو اس کے اسلامی حقوق سے محروم کرنے کے خلاف ہوں....”یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں۔ پاکستان میں خواتین ہر شعبے میں آگے بڑھ رہی ہیں اور انہیں حکومت کی طرف سے مکمل سپورٹ بھی مل رہی ہے“۔ میرا یہ کہنا تھا کہ وہ شدید غصے میں آگئیں اور تندو تیز لہجے میں کہنے لگیں:”آپ افسانوی باتیں کر رہے ہیں۔ طالبان کا تو صرف نام ہی بدنام ہے، وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک جاری ہے.... اور تو اور پڑھی لکھی لڑکیاں اور وہ بھی لیڈی ڈاکٹر اور انجینئر اپنے سسرال والوں کے تعصب کا شکار ہو کر مجبوراً گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ معاشرہ ورکنگ لیڈیز کو جس نگاہ سے دیکھتا ہے، کیا آپ کو علم نہیں، رہی سہی کسر ٹی وی ڈراموں اور انڈین چینلوں نے نکال دی ہے، جو خواتین کو اس طرح گلیمرائز کر کے پیش کرتے ہیں کہ اس کے تقدس اور حرمت کی ایسی تیسی پھر جاتی ہے“۔

وہ ذرا دیر کے لئے خاموش ہوئیں تو مَیں نے کہا ”محترمہ آپ مجھے کیا سمجھانا چاہتی ہیں اور مَیں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں“۔اس پر انہوں نے قدرے توقف کے بعد کہا : ”میڈیا کے لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ پاکستانی عورت آج بھی جبر کا شکار ہے۔ کس قدر تکلیف دہ بات ہے کہ ہمارے ہاں یا تو مختاراں مائی کی سنی جاتی ہے، یا پھر بڑے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی ان بیگمات کی، جنہیں سیاسی جماعتوں نے اسمبلی کی ممبر بنا دیا ہے پاکستان کی عام عورت، وہ لڑکیاں اور بچیاں جو پڑھ لکھ کر اپنے گھرانوں کا بوجھ بانٹنا چاہتی ہیں، انہیں کس کس انداز سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کیا آپ اس سے لا علم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اسلام کا نام استعمال کر کے خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا چاہتے ہیں، وہ اسلام کی تعلیمات اور تاریخ سے بے بہرہ ہیں۔ اسلام میں کبھی عورت کو امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا گیا، بلکہ اسے معاشرتی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لئے مکمل آزادی دی گئی۔ اصل خرابی خلافت عباسیہ کے زوال پذیر عہد سے شروع ہوئی، جب اسے ایک طرف حرم سرا کی زینت بنا دیا گیا اور دوسری طرف اسے ایک بار پھر اسی تعصب، تنگ نظری اور نفرت سے دیکھا جانے لگا، جو اسلام سے پہلے عرب معاشرے کا عورت کے حوالے سے وتیرہ تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس زمانے میں عورت کو قابل نفرت اور تمام فساد کی جڑ بھی قرار دیا جارہا تھا اور دوسری طرف امرا و رﺅسا عورت کو ایک تسکین پہنچانے والی ”پراڈکٹ“ سمجھ کر ”ذخیرہ اندوزی“ میں بھی لگے ہوئے تھے۔ خلیفہ المتوکل کے محل میں چار ہزار خواتین تھیں۔ مسلم ہسپانیہ کے مشہور حکمران عبدالرحمن سوم کے حرم میں چھ ہزار تین سو لونڈیاں اور کنیزیں تھیں۔ خود شہنشاہ اکبر جو یک زوجگی کا حمایتی تھا، اس کے محل میں تین سو بیویاں تھیں، جن میں سے اس نے کسی ایک کو بھی طلاق نہیں دی تھی۔ عورت کے ساتھ یہ تمام سلوک اس تعصب کے نام پر کیا جارہا تھا، جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے کوئی دلیل تلاش نہیں کی جا سکتی“....”محترمہ اس ساری گفتگو میں، آپ کا مطمحِ نظر کیا ہے“؟ مَیں نے بات کو سمیٹنے کی کوشش میں ایک سوال کیا:”دیکھئے جناب! ہم باتیں اکیسویں صدی کی کرتے ہیں، لیکن ابھی تک یہ مسئلہ بھی طے نہیں کر سکے کہ ملک کی نصف آبادی کو ہم نے کیا کردار سونپنا ہے۔ اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی ضرور بڑھی ہے، لیکن یہ بیگمات عورت کے خلاف تعصبات کو ختم کرنے کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھا رہیں۔ دوپٹہ اوڑھنے کو منافقت قرار دینے جیسے بیانات اس مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اس مسئلے کے لئے دینی سکالروں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس ملک میں عورت کے حوالے سے معاشرتی نقطہ نظر میں کوئی بھی تبدیلی دینی حلقوں کی حمایت کے بغیر نہیں آسکتی“....”مگر یہ تو بہت مشکل کام ہے؟“ میری زبان سے بے ساختہ یہ جُملہ نکل گیا۔”اگر یہ کام حنا ربانی کھر، کشمالہ طارق یا تہمینہ دولتانہ کو سونپ دیا جائے تو واقعی مشکل ہے، لیکن اگر حکومت وزارت مذہبی امور کی طرف سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اسلام میں عورت کے حقوق اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیز خلفائے راشدین کے زمانے میں عورت کے معاشرتی زندگی میں کردار کو مسلسل اجاگر کرے تو مَیں یقین سے کہتی ہوں کہ مذہبی حلقے بھی عورت کے فعال کردار کو تسلیم کر لیں گے۔ آپ یہ بات یاد رکھیں، جب تک پاکستان کی تعلیم یافتہ عورت کو معاشرے کے تعصبات سے نجات نہیں ملتی، دیہات اور شہروں میں رہنے والی عورتوں کو ”ڈھورڈنگر“ سمجھنے کا سلسلہ جاری رہے گا“....”کیا آپ اپنا نام بتانا پسند کریں گی“....”جی نہیں! مَیں فتویٰ بازوں کا ہدف نہیں بننا چاہتی“۔ یہ کہہ کر خاتون نے فون بند کر دیا۔ ان کا آخری جملہ بہت دیر تک میرے کانوں میں گونجتا رہا۔

مزید :

کالم -