”تحریکِ تحفظِ پاکستان“ اور محسنِ پاکستان

”تحریکِ تحفظِ پاکستان“ اور محسنِ پاکستان

  

محافظِ قوم، محسنِ پاکستان، عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دو تین بار (ن) لیگ کے رہنما میاں محمد نواز شریف کو یہ مشورہ دیا کہ وہ کاروبار سنبھالیں اور برادر خورد میاں محمد شہباز شریف کو سیاست کے میدان میں آگے بڑھنے دیں۔ اس صائب مشورے کے جواب میں رانا ثناءاللہ نے روزنامہ ”جرا¿ت“ لاہور کی اشاعت7 مئی2012ءمیں ایک بیان چھپوایا جو اور کسی بھی اخبار میں نہیں چھپا۔ انہوں نے کہا:

”میاں نواز شریف اگر ایٹمی دھماکے نہ کرتے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو نہ ہوتے، بلکہ وہ کسی کونے کُھدرے میں پڑے ہوتے“....! مَیں نے محسنِ پاکستان کو یہ بیان فون پر سُنایا تو اُنہوں نے حضرت جوش ملیح آبادی کے انداز میں پوچھا:”کون رانا ثناءاللہ؟“.... اور بات ختم کر دی.... یہاں مَیں نے شاعرِ انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی کا حوالہ دیا ہے تو اُس کا ایک خاص پس منظر یہ ہے کہ ایک بار پروفیسر مرزا منور (چیئرمین اقبال اکیڈمی) نے ”نوائے وقت“ کے پورے صفحے پر حضرت جوش ملیح آبادی کی مذمت میں ایک بھرپور مضمون چھپوایا ۔ مَیں نے بالمشافہ حاضری پر وہ پورا مضمون جوش صاحب کے قریب بیٹھ کر زور زور سے سنایا (کیونکہ جوش صاحب ثقلِ سماعت کا شکار تھے) وہ مضمون بڑے صبر و سکون اور تحمل سے سنتے رہے۔ بیچ بیچ میں ہُنکارا بھی بھرتے رہے، جس سے مجھے معلوم ہوتا رہا کہ بڑی توجہ سے سُن رہے ہیں۔ مضمون ختم ہُوا تو مضمون نگار کا نام پوچھا، مَیں نے کہا:

”پروفیسر مرزا منور“!

فرمایا: ”کون مرزا؟“

 اور مزید ایک حرف بھی ادا کئے بغیر خاموش ہوگئے۔ یہی ان کا سب سے بڑا ردعمل تھا۔ یوں بھی اُن کی ”حاضر باشی“ کا شرف حاصل کرنے والے اِکا دُکا باقی ماندہ لوگ جانتے ہیں کہ جوش صاحب کی مکمل خاموشی میں بھی بھرپور تکلم کا ایک انداز ہوتا تھا۔ وہ چُپ رہ کر بھی بہت کچھ کہہ رہے ہوتے تھے!.... محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے البتہ ایک بار بہت بڑی کِذب بیانی پر کالم نویس کے خلاف سخت برہمی اور شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

اس کالم کی اشاعت پر اسی رات کو ڈاکٹر خان صاحب نے مجھ سے فون پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”عمران کے چمچے نے نجانے کیا اول فول بکا ہے۔ شیریں مزاری اور کئی لوگ عمران خان کی طرف سے میرے پاس آئے تھے۔ مَیں نے خود تحریک انصاف میںشامل ہونا قبول نہ کیا۔

کہتے ہیں تاریخ ہمیشہ اپنے کو دُوہراتی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ان دنوں ڈاکٹر صاحب کو پھر درپیش ہے۔ تحریک انصاف سمیت بے شمار یک نفری پارٹیوں کی طرف سے دعوے جاری ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انہیں جوائن کر لیا ہے۔ سب سے بڑی دعویدار تو تحریک انصاف ہی ہے جس کی طرف سے اخبارات میں [بشمول ”پاکستان“] اشتہارات بھی شائع کرائے گئے کہ: ”عمران خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے گھر پر حاضری دی اور اس موقع پر ڈاکٹر صاحب نے تحریک انصاف کی سرپرستی قبول کرلی“....! کبھی کسی جسٹس پارٹی کی طرف سے خبر لگتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ان کا ممبر شپ فارم بھر دیا اور وہ جسٹس پارٹی کے سرپرست بن گئے ہیں، کہیں ”دفاع پاکستان کونسل“ والے ان کا کندھا استعمال کرتے نظر آتے ہیں اور اب خبریں چھپ رہی ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کسی جماعت میں شمولیت کے بجائے اپنی پارٹی ”تحریک تحفظِ پاکستان“ کو ملک بھر میں فعال اور مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے“! مشہور شاعر ظفر اقبال نے روزنامہ ”نئی بات“ لاہور میں ایک قطعہ بھی بعنوان ڈاکٹر عبدالقدیر خان لکھا ہے۔

جبکہ حسب معمول فون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خان صاحب نے دو ٹوک انداز میں کہا: ”مَیں ہرگز سیاست میں آنا نہیں چاہتا، نہ مَیں نے کوئی پارٹی بنائی ہے۔ دراصل نئی نسل کے جو نوجوان میری محبت میں مجھ سے کچھ سُننا چاہتے ہیں، اُن کے بلاوے پر کالجوں، یونیورسٹیوں میں چلا جاتا ہوں اور خطاب کرتا ہوں اور زور دیتا ہوں کہ وہ متحد و متفق ہو کر نئی قیادت سامنے لائیں۔ چوروں، ڈاکوو¿ں، لٹیروں، وڈیروں کو ووٹ نہ دیں، صاف ستھرے لوگوں کے واسطے اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور تباہی کے کنارے پہنچ جانے والے ملک کو بچائیں۔ بقول مولانا عبدالمجید سالک:

جوانو! اب تمہارے ہاتھ میں تقدیر عالم ہے

تمہی ہو گے فروغِ بزم امکاں ہم نہیں ہوں گے

ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے کہا، مَیں آج کل قلم کا مزدور ہوں۔ ”جنگ“ میں کالم لکھتا ہوں، جس کا کچھ اعزازیہ میر شکیل الرحمن صاحب دیتے ہیں۔ کچھ پنشن ہے اسی پر گزارا ہے۔ میرے پاس فالتو پیسے یا حرام کی کمائی نہیں ہے کہ سیاست میں لگاو¿ں اور چوک چوک پر تقریریں کر کے تماشا لگاتا پھروں۔ سفید پوشی میں بیماری میں اور بیکاری میں وقت گزر رہا ہے، لیکن میرا دل جوان ہے، حوصلہ بلند ہے اور 76 سال کی عمر میں اپنے وطن عزیز ”پاکستان“ کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ بھی رکھتا ہوں۔ باقی یہ تو اخبار والوں کی اور الیکٹرانک میڈیا کی اپنی اختراعات ہیں۔ میں کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنا رہا، نہ بنا سکتا ہوں۔76 سال کی عمر میں نہ مَیں بچہ ہوں، نہ میرا دماغ خراب ہے“.... ”تحریک تحفظِ پاکستان“ کا سلوگن نوجوان نسل کے لئے”فوڈ فار تھاٹ“ ہے۔ وہ آگے بڑھیں، ملک کو بچائیں۔ مَیں ان کے ساتھ ہوں۔ اللہ اُن کا حامی و ناصر ہو! ٭

مزید :

کالم -