دریائے سندھ کے کمزور بند

دریائے سندھ کے کمزور بند

  

ایک اطلاع کے مطابق دریائے سندھ میں پانی میں اضافے کے سبب سندھ کے علاقے میں کمزور بندوں میں شگاف پڑنے لگے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 60 کروڑ روپے جاری ہونے کے باوجودبندوں پر تسلی بخش کام نہیں ہو سکا۔ مٹیاری میں کھنڈو اور خیبر کے قریب بند مضبوط ہی نہیں گئے گئے، پچھلے سال کی طرح سیلاب آ گیا تو بندوں میں شگاف پڑنے کا خدشہ ہے۔ جس سے وسیع آبادی زیر آب آنے کا امکان ہے۔

بدقسمتی سے سندھ میں گزشتہ دو برسوں سے بارشوں اور سیلاب سے زبردست تباہی آتی رہی ہے۔ جس کے متاثرین کو اب تک شکایت ہے کہ ان کی مناسب امداد نہیں کی گئی۔ اس وقت برسات کا موسم شروع ہے اور بارشیں بھی ہو رہی ہیں۔ یہ سلسلہ پھیلے گا، تو دریاﺅں میں پانی کی مقدار بھی بڑھے گی، سندھ میں جو بند کمزور ہیں انہیں ابھی سے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت تو یہ کام تسلی بخش طریقے سے ہو سکتا ہے۔ جب بارشیں ہو رہی ہوں اور دریا میں پانی کا بہاﺅ تیز ہو تو اس وقت کام تسلی بخش طریقے سے نہیں ہوتا۔افراتفری میں اِدھر ادھر ہاتھ پاﺅں مارے جاتے ہیں اور جب سیلابی ریلا گزر جاتا ہے تو متعلقہ ادارے پھر پرانی ڈگر پر واپس آ جاتے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ابھی سے بند مضبوط بنائے جائیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بند مضبوط بنانے کے لئے جو رقوم جاری ہوتی ہیں وہ مناسب طریقے سے خرچ نہیں ہوتیں، اگر یہ رقوم دیانتداری سے خرچ ہو جائیں تو کئی سال تک بندوں کی مرمت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن بد قسمتی سے ایسے کاموں میں بد عنوانی کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں کہ سیلاب زدگان کے لئے امدادی رقوم میں بھی خورد برد کیا گیا، ضرورت اس امر کی ہے کہ شدید بارشوں سے پہلے بند مضبوط بنا دیئے جائیں تاکہ قریبی آبادیاں محفوظ رہ سکیں۔  ٭

مزید :

اداریہ -