توہین عدالت کا قانون عدلیہ کے اسلحہ خانے میں موثر ہتھیار ہے، ترمیم کامسودہ تیار کرنے میں غلطی ہوئی، اطلاق کے بعد عدالتی فیصلے صرف نمائش بن گئے: سپریم کورٹ

توہین عدالت کا قانون عدلیہ کے اسلحہ خانے میں موثر ہتھیار ہے، ترمیم کامسودہ ...
توہین عدالت کا قانون عدلیہ کے اسلحہ خانے میں موثر ہتھیار ہے، ترمیم کامسودہ تیار کرنے میں غلطی ہوئی، اطلاق کے بعد عدالتی فیصلے صرف نمائش بن گئے: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے کہاہے کہ توہین عدالت قانون میں مراعات یافتہ طبقے کو استثنیٰ دینے کی کوشش کی گئی اور حکومت کی طرف سے ہی بنائے گئے 2003ءکے قانون کے تحت سزائیں ہوئیں تو اب نیا قانون آگیا،قانون بنانے کے لیے پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔عدالت نے کہاکہ توہین عدالت کا قانون اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے عدلیہ کے اسلحہ خانے میں موثر ہتھیار ہے ، غریب آدمی کی رٹ تو ہوتی ہی ریاست کے خلاف ہے اور نئے قانون کے بعد عہدیدار عدالت میں آکر کہیں گے کہ جو کرناہے کرلو، ہمیں استثنیٰ حاصل ہے ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کیس کی سماعت کی جہاں درخواست گزاروں کے وکلاءنے دلائل دیئے ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ نئے قانون میں مراعات یافتہ طبقے کو استثنیٰ دینے کی کوشش کی گئی ۔لیاقت قریشی ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ نئے قانون کو بنانے کے لیے کسی قسم کی مشاورت یا درکار بحث نہیں کی گئی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ غوروفکر نہ کرنے کی کیاشہادت ہے ؟ درخواست گزار نے بتایاکہ اپوزیشن نے پارلیمنٹ سے واک آﺅٹ کیاتھاجس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ آپ کے پاس پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ نہیں تو میڈیا رپورٹس پر انحصارنہ کریں ۔چیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اپنی بات کی تقویت کے لیے آپ کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ریکارڈ حاصل کرناچاہیے ،جب قانون آیاتو رولز معطل کیے گئے۔ جسٹس تصدق جیلانی نے کہاکہ قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو ہوتاہے ۔ جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ اگریہ دلیل مان لیں تو اپوزیشن کے احتجاج سے تو ہر قانون ختم ہوجائے گا۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ بحث نہیں ہوئی تو کیا اِس نقطے کو بنیاد بناکر قانون کو کالعدم قراردیاجاسکتاہے ؟ جسٹس شاکراللہ جان نے کہاکہ قانون پر بحث کرانے کے لیے اپوزیشن نے واک آﺅٹ کیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ قانون خو د بخود نہیں بنتا، قانون سازوں کو مقصد بھی بیان کرناہوتاہے،و اضح کرناہوتاہے کہ ایک قانون کی موجودگی میں دوسرا کیوں لایاگیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ 1976ءکے قانون کے بعد 2003ءکا قانون بنایاگیا جسے اٹھارہویں ترمیم میں تحفظ ملااور اُس کے تحت سزائیں ہوئیں تو پھر نیاقانون آگیا۔اُنہوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہوتاکہ آپ صبح اُٹھ کر کہیں کہ آج نیا قانون لاناہے ، پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔حامد خان ایڈووکیٹ نے کہاکہ نیا قانون عجلت اور جلد بازی میں کیاگیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ کسی پر الزام نہیں دیتے لیکن محسوس ہوتاہے کہ قانون کا مسودہ تیار کرنے میں غلطی ہوگئی ۔عدالت نے کہاکہ پارلیمانی روایات صحت مند روایات کے طور پر جانی جاتی ہیں ،ہمیں پارلیمانی نظام جمہوریت لاناہے تاکہ قوم کو فائدہ ہو۔چیف جسٹس نے کہاکہ اٹھارہویں ، انیسویں اور بیسویں ترمیم میں کسی قانون کو نہیں بدلاگیالیکن اچانک توہین عدالت قانون کو بدلنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟راتوں رات جلد بازی میں قانون سازی کرنے کی درست روایت نہیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ توہین عدالت کا قانون عدلیہ کے اسلحہ خانے میں موثر ہتھیار ہے لیکن قانون صرف جج تک مشروط کرنے سے آرٹیکل 204کو غیر موثر کردیاگیا۔اُنہوں نے کہاکہ بادی النظر میں نیاقانون انصاف کی فراہمی کے عمل کے خلاف نظرآتاہے ،کیا یہ قانون عدلیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں ہے ؟حامد خان ایڈووکیٹ نے کہاکہ نیا قانون آرٹیکل 190سے متصادم ہے اور اِس کے بعدتوہین عدالت صرف عام آدمی کے لیے رہ جائے گی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ سخت قانون کے بغیر عدالتی فیصلے صرف نمائش بن جائیں گے ،غریب کا حق سلب ہونے پر وہی ریاست کے خلاف آتاہے ، رٹ ایسے لوگوں کے خلاف ہوتی ہے جو خود کو دادا کہتے ہیں ، لاہورہائیکورٹ میں اسی ہزار رٹ موجود ہیں ۔اُنہوں نے کہاکہ نئے قانون کے بعد عہدیدار آکر کہیں گے کرلو جو کرناہے،مجھے تو استثنیٰ حاصل ہے ،غریب آدمی کو ریاست کے عہدیداروں کے خلاف کوئی تحفظ نہیں رہے گا۔چیف جسٹس نے کہاکہ توہین عدالت کاقانون ذاتی مقاصد کے لیے نہیں بلکہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے ہوتاہے  اور مزید سماعت کل بدھ تک ملتوی کردی ۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -