خط لکھنے سے کورا انکار : سپریم کورٹ کو حکومتی ”جواب“مل گیا،عدالت میں وصولی سے ’ناں ‘ ہو گئی ،سرکار نظرثانی کیلئے تیار

خط لکھنے سے کورا انکار : سپریم کورٹ کو حکومتی ”جواب“مل گیا،عدالت میں وصولی ...
خط لکھنے سے کورا انکار : سپریم کورٹ کو حکومتی ”جواب“مل گیا،عدالت میں وصولی سے ’ناں ‘ ہو گئی ،سرکار نظرثانی کیلئے تیار

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست کے ساتھ این آر او عمل درآمد کیس میں حکومت کا جواب جمع کرایادیا ہے جس میں سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے اورسپریم کورٹ نے یہ جواب لینے سے ’ناں‘ کرتے ہوئے واپس کرادیا ہے ۔ دنیا نیوز کے مطابق حکومت نے این آ ر او عمل درآ مد کیس میں عدالت کے بارہ جولائی کے فیصلے پر نظر ثا نی درخواست کر نے کا فیصلہ کیا ہے دنیا نیوز کے مطابق نظر ثانی کی درخواست جو کل دا ئر کیے جا نے کا امکان ہے ۔فاق کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے والے جواب میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 90کے تحت وزیراعظم اپنی کابینہ کے مشورے کا پابند ہے اور اس کے فیصلے پر عمل کرتاہے جبکہ کابینہ نے سوئس حکام کو خط لکھنے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔تحریری جواب کے مطابق وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آپشن ختم ہوچکاہے جبکہ آپشن دو کا اطلاق نئے وزیراعظم پر نہیں ہوتاہے ۔ اس لئے عدالت بارہ جولائی کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے ۔تحریری جواب میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ عدالت کے سات رکنی بنچ نے تین جنوری کو سترہ رکنی بنچ کے فیصلے میں ترمیم کی جس کا اسے اختیار نہیں تھا۔بیان کے مطابق آپشن چھ بارآور ہوچکاہے لہٰذا اُس کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتاتاہم چیئرمین نیب کا آپشن باقی رہ گیاہے ۔بیان میں آئینی حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سات رکنی بنچ کسی طورپر وزیراعظم کو طلب نہیں کرسکتاتھااور نہ ہی خط لکھنے کا کوئی سوا ل اُٹھتاہے ۔سپریم کورٹ آفس نے یہ جواب اور متفرق درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس کرتے ہوئے کہاکہ ، نظرثانی کے لیے متفرق نہیں بلکہ باقاعدہ درخواست دیناہوگی ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ بدھ کو کیس کی سماعت کرے گا ۔بھارتی اخبارات نے مبصرین کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت کے اس بیان سے عدلیہ اور حکومت میں کشیدگی بڑھ جائے گی ۔

مزید :

اسلام آباد -Headlines -