سیکرٹری دفاع اور وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری طلب ،کوئی ادارہ کام نہیں کر رہا ،بلوچستان میں آئینی بریک ڈاﺅن ہو گیا ہے: چیف جسٹس

سیکرٹری دفاع اور وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری طلب ،کوئی ادارہ کام نہیں کر رہا ...
 سیکرٹری دفاع اور وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری طلب ،کوئی ادارہ کام نہیں کر رہا ،بلوچستان میں آئینی بریک ڈاﺅن ہو گیا ہے: چیف جسٹس

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئیے ریمارکس دیئے ہیں کہ صوبے میں کوئی ریاستی ادارہ کام نہیں کر رہا اور آئینی بریک ڈاﺅن ہو گیا ، اب قانون جو اجازت دے گا، لکھ دیں گے ۔عدالت نے فیصلے پر عمل نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع اور وزیراعظم کو پرنسپل سیکرٹری کو طلب کرتے ہوئے ایف سی کے تین افسران کو پولیس کے آگے سرینڈر کرنے کا حکم دے دیا ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پیش نہ ہونے پر چیف سیکرٹری پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان سے استفسار کیاکہ کتنے افراد بازیاب کرائے ہیں جس پر اُنہوں نے بتایاکہ کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی اور نہ ہی کوئی لاپتہ شخص بازیاب ہوسکا۔ چیف جسٹس نےحکم دیاکہ فیصلے پر عمل نہیں ہورہا، سیکرٹری دفاع اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو بلائیں ، وہ لکھ کر دیں کہ لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوسکے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ پولیس ، فوج اور ایف سی ابھی تک ایک کیس بھی ٹریس نہیں کرسکی۔عدالت نے کہاکہ کیس میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا، بندے لائیں ، ٹارگٹ کلنگ ختم کریں ، اغواءکاروں کو پکڑیں اور ہمیں کیاکہناہے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ بتایاجائے کہ چوبیس جولائی تک کتنے لوگ اغواءہوئے اور کتنی لاشیں ملیں ۔کوئی کچھ نہیں کرناچاہتا، جلد حکم جاری کریں گے ۔چیف جسٹس کے استفسار پر ایجنسیوں کے وکیل نے بتایاکہ کوسٹ گارڈ ز کی چیک پوسٹ پر ایف سی کی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نے حملہ کیا۔فرنٹیئرکانسٹیبلری (ایف سی ) نے صوبے کی صورتحال سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کردی جس کے مطابق آٹھ لاپتہ افراد کی بازیابی کا حکم دیاگیالیکن وہ ایف سی کی تحویل میں نہیں ۔رپورٹ کے مطابق ایف سی سے تحقیقات کرانی ہیں تو پولیس کے اختیارات دیئے جائیں ۔ یکم جنوری2012ءسے اب تک دہشت گردی کے 829واقعات ہوئے جن میں59ایف سی اہلکاروں سمیت29ہلاکتیں ہوئیں اورایف سی کے بھیس میں دہشت گردکارروائیاں کرتے ہیں تاہم لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت کے لیے عدالت کمیشن تشکیل دیدے ۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ چھ ماہ کے احکامات کے باوجود نتیجہ صفر ہے ، صوبے میں آئینی بریک ڈاﺅن ہوگیاہے ، آئی ایس آئی اور ایم آئی سمیت کوئی ایجنسی کام نہیں کررہی ، اب قانون نے جو اجازت دی ، ہم لکھ دیں گے ۔سیکرٹری داخلہ بلوچستان نے عدالت کو بتایاکہ کان کنوں کے قتل میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیاگیاہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے جبکہ کان کنوں کی حفاظت کے لیے تمام اقدامات کریں گے لیکن رمضان کی وجہ سے نرمی ہوئی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تین افراد کے اغواءمیں ملوث ایف سی کے افسران سمیت لوگوں کو اُٹھانے کے کسی بھی کیس میں نامزدایف سی کے اہلکار جاکر پولیس کو سرینڈر کریں ، چیف سیکرٹری کو لکھ کر دیناہوگا کہ وہ ناکام ہوگئے ہیں جبکہ آئی جی بھی عدالتی توقعات پر پورے نہیں اُترے ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاہے کہ ہم ایک بند راستے پر پہنچ چکے ہیں ۔آئی جی ایف سی نے دعویٰ کیاکہ لیفٹیننٹ کرنل عہد ہ کے افسران سے آٹھ انکوئریاں کرائیں اور ایسے پہلو سامنے آئے جنہیں دریافت کرنے کی ضرورت تھی ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ ایف سی کے معاملات کو باریک بینی سے دیکھاتھا جبکہ چیف جسٹس نے کہاکہ اُس ایف آئی آر کاکیاکریں جس میں ایف سی اہلکار نامز دہیں ؟ ایف سی والے ساٹھ ستر افراد بازیاب کراتے تو کہتے کہ قابل قدر ہیں ۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -