بلوچستان کی صورت حال اور عبدالمالک بلوچ

بلوچستان کی صورت حال اور عبدالمالک بلوچ
بلوچستان کی صورت حال اور عبدالمالک بلوچ

  



اپنے پیشرو سے کہیں زیادہ متحرک اور نسبتاً فعال وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی تگ و دو کے باوجود یوں محسوس ہوتا ہے کہ شورش زدہ بلوچستان کی حالت ماضی کے مقابلے میں کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں۔ 1988ءکے اواخر میں بلوچ سٹوڈنٹس آر گنائزیشن کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والے نیشنل پارٹی کے سربراہ عبدالمالک بلوچ نے اگرچہ 7جون 2013ءکو صوبے کے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا اور اس منصب کو سنبھالے انہیں بمشکل ڈیڑھ مہینہ ہوا ہے، لیکن ان کے ناقدین نے ان پر ابھی سے زبردست تنقید کا آغاز کر دیا ہے، جو مناسب نہیں، صوبے کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے تجزیہ کار اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ2008ءسے2013ءکے دوران ملک کے سب سے بڑے صوبے (رقبے کے لحاظ سے) پر مسلط رہنے والے مسخرے کی بدولت حالات اس قدر پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ ان کو سلجھانا اعلیٰ درجے کی فہم و فراست رکھنے والے کسی شخص کے لئے بھی آسان نہیں۔ مسلم لیگ (ن)کے صدر نواز شریف (موجودہ وزیراعظم) نے اسی لئے صوبے میں اپنی پارٹی کی سب سے زیادہ نشستیں ہونے کے باوجود وزارت اعلیٰ نیشنل پارٹی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ بلوچ قوم پرستوں کو قومی دھار میں شامل کرنے کے لئے صوبے کے اعلیٰ ترین منصب پر حقیقی بلوچ قیادت کو لایا جائے۔ 2008ءمیں جب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نیشنل پارٹی کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے اس بات کا پرچار کیا کہ وہ مرحوم غوث بخش بزنجو کی پاکستان نیشنل پارٹی کے حقیقی وارث ہیں لیکن دیگر قوم پرستوں کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے انہیں ہتھیار پھینک کر انتخابی سیاست کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دینے والے عبدالمالک بلوچ نے درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے بعض Hard Liners کے اصرار پر اپنی پارٹی کا نام پاکستان نیشنل پارٹی رکھنے کی بجائے نیشنل پارٹی کا فیصلہ کیا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو ورثے میں ملنے والے مسائل انتہائی گھمبیر ہیں۔ صوبے میں ایک جانب دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب انتہا درجے کی بدعنوانی، غربت اور بیروزگاری شدت پسندوں کو افرادی قوت کی بھرپور کھیپ مہیا کر رہی ہے اور تیسری جانب خفیہ اداروں کا متنازعہ کردار حکومت اور ناراض شدت پسندوں کے درمیان خلیج کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 2005ءسے اب تک ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کم از کم 2000ءافراد کوئٹہ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے نتیجے میں اسی قبیلے کے1000سے زائد افراد شدید زخمی ہو کہ معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہزارہ قبیلے کے اس قتل عام کی ذمہ داری مختلف شدت پسند گروہوں نے قبول کی ہے، جن کے بلوچستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی محفوظ ٹھکانے ہیں، ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور ہزاروں کی تعداد میں ہزارہ خاندان آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کر چکے ہیں اور بہت سے خاندان دیگر یورپی ممالک کی امیگریشن حاصل کر کے پاکستان کو خیرباد کہنے کے متمنی ہیں اگر ہزارہ قبیلے کی ہجرت کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو شاید بہت جلد اس قبیلے کے تمام افراد ملک سے کوچ کر جائیں، جو ظاہر ہے موجودہ حالات میں ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔

جہاں تک بلوچ شدت پسندوں کو قومی دھارے میں لانے کا سوال ہے اس کے لئے نہایت سنجیدگی سے کام کرنا ہو گا ۔صدر آصف علی زرداری نے ناراض بلوچوں سے معافی مانگ کر آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کا اعلان کیا جسے بلوچ قوم پرستوں اور صدر کے ناقدین نے مذاق ِ حقوق بلوچستان کا نام دیا۔ آغاز حقوق بلوچستان کے نام پر جاری ہونے والے فنڈز کے علاوہ بلوچستان کے اراکین قومی اورصوبائی اسمبلی کو دیئے جانے والے خصوصی فنڈز اور گرانٹس کی اکثریت بھی بہت سے بلوچ نوجوانوں کی طرح لاپتہ ہو گئی ان اراکین سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی نے بلوچ عوام کے نام پر وفاقی حکومت سے اربوں روپے کے فنڈز لئے اور ہڑپ کر گئے، جب عام بلوچ کی حالت میں کوئی سدھار نہیں آیا تو وہ فیڈریشن کو برقرار رکھنے پر کیونکر راضی ہو؟ افواج پاکستان میں بلوچ نوجوانوں کی بھرتی کے علاوہ سول سروس کے اعلیٰ ترین امتحان میں بلوچ نوجوانوں کو رعایت دی جا رہی ہے جو یقینا ایک مستحسن عمل ہے، لیکن حالات اس سے کہیں بڑھ کر کچھ کرنے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ناراض قوم پرستوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے صوبے میں سرگرم خفیہ اداروں کے کردار کا ازسر نو تعین کرنا ہو گا۔ بلوچ قوم پرست مسلسل اس بات کی دھائی دے رہے ہیں کہ ان کے نوجوانوں کو عدالتوں میں پیش کر کے ان کے خلاف ثبوت سامنے لائے جائیں جو قومی سلامتی کے ضامن اداروں کی تحویل میں ہیں۔ دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان اس سلسلے میں مسلسل احکامات جاری کر رہی ہے، جنہیں ان اداروں کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی موجودہ حکومت اگرچہ اپنی پیشرو حکومت کے مقابلے میں نسبتاً سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے درست سمت میں قدم اُٹھا رہی ہے لیکن اس کے مسائل2008ءکے مقابلے میں کہیں پیچیدہ ہو چکے ہیں، جنہیں سلجھانے کے لئے بے حد احتیاط کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بلوچ کو مسلم لیگ(ن) کے علاوہ صوبے کی ایک اور بڑی قوت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی بھی بھرپور تائید حاصل ہے، اس لئے ان سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لئے انہیں تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔   ٭

مزید : کالم