سپریم کورٹ کا صدارتی انتخابات 30جولائی کو کرانے کا حکم

سپریم کورٹ کا صدارتی انتخابات 30جولائی کو کرانے کا حکم
سپریم کورٹ کا صدارتی انتخابات 30جولائی کو کرانے کا حکم

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے صدارتی انتخابات 30جولائی کو کرانے کا حکم دیدیاہے ۔عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ 27جولائی تک کاغذات نامزدگی واپس لیے جاسکتے ہیں اور اُسی دن حتمی فہرست ہی جاری کردیں ۔مسلم لیگ ن کے رہنماءراجہ ظفرالحق کی صدارتی انتخابات سے متعلق درخواست کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنے بنچ نے کی ۔ دوران سماعت درخواست گزار وں کاکہناتھاکہ چھ اگست کو الیکشن کرانے کی صورت میں کئی اراکین پارلیمنٹ حج اور اعتکاف میں مصروف ہوں گے، سپریم کورٹ اعتکاف سے پہلے ہی صدارتی انتخابات کرانے کا حکم دیدے ۔ اٹارنی جنرل منیراے ملک نے عدالت کو بتایاکہ 30جولائی کو الیکشن کرانے میں کوئی آئینی ممانعت نہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ووٹ کا حق ہر شخص کا حق ہے ۔ الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات کا فیصلہ سپریم کورٹ پر چھوڑ دیا اور ڈی جی الیکشن کمیشن شیرافگن نے بتایاکہ صدارتی انتخابات کے کاغذات نامزدگی کی واپسی کیلئے تین دن کا وقت درکارہوگا۔ سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے شکر گزار ہیں کہ اُنہوںنے آمادگی ظاہرکی ، کاغذات نامزدگی اب 29کی بجائے 27جولائی کو واپس لیے جاسکتے ہیں اور 30جولائی کو صدارتی انتخابات کرانے کا حکم دیدیا ۔فاضل عدالت نے کہاکہ صدارتی انتخابات کی پولنگ 30جولائی کی صبح 10سے دوپہر تین بجے تک کرائی جائے ،الیکشن کمیشن کو ہدایت کی نظرثانی شدہ شیڈول جلد عدالت میں جمع کرائیں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ظفرالحق کاکہناتھاکہ 27رمضان کو اکثراراکین اعتکار ف پر بیٹھ جاتے ہیں اور کئی عمرہ کی ادائیگی میں مصروف ہوتے ہیں ۔ 100اراکین اسمبلی دستیاب نہیں تھے ، مسئلہ تھاکہ عمرہ کریں یا ووٹ دیں ۔پیپلزپارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن کاکہناتھاکہ اُن کی جماعت نے سوچ سمجھ کر رضاربانی کو امیدوار نامزدکیا، اگر ن لیگ رضاربانی کی حمایت کرے تو وہ ن لیگ کے ”ممنون“ ہوں گے ۔ اُنہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے دیگر امیدواروں کو سنے بغیر فیصلہ سنایاتاہم اپیل میں جانے یانہ جانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

مزید :

الیکشن ۲۰۱۳ -Headlines -