مقبوضہ کشمیر کے اطراف و اکناف میں غزہ بچاؤ ریلیاں اور نعرے

مقبوضہ کشمیر کے اطراف و اکناف میں غزہ بچاؤ ریلیاں اور نعرے

  

سرینگر (کے پی آئی)غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت پرجہاں وادی میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص نے اجتماعی طور پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرکے احتجاج کیا اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، وہیں گذشتہ کئی ہفتوں سے سوشل میڈیا پر غزہ کی صورتحال سب سے بڑا موضوع بنی ہوئی ہے اوروادی میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں Save Gaza نہ لکھا گیا ہو۔ اتنا ہی نہیں بلکہ نوجوان طبقہ فیس بک پر کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرکے اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کررہا ہے۔جب سے فلسطینیوں کا نئے سرے سے قتل عام شروع ہوا ہے تب سے وادی کے شمال و جنوب میں غزہ مظلومین کے حق میں دیواروں، بجلی کے کھمبوں، دکانوں کے شٹروں اور چھوٹی بڑی گاڑیوں پر پوسٹر چسپان کئے گئے ہیں جن پر اسرائیل مخالف الفاظ درج کئے گئے ہیں۔فیس بک کے ذریعے غزہ کے دکھوں، زخموں، بچوں پر ہونے والے مظالم کے احوال کے علاوہ ان موضوعات پر مبنی تصاویر ایک دوسرے کوبھیجی جارہی ہیں ۔ اسرائیل مخالف نعرے اور اسرائیل سے متعلق کارٹون اور اقوام عالم کی خاموشی کو سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ فیس بک پر بیشتر نوجوانوں نے غزہ میں جاری معصوم لوگوں کے قتل عام کے خلاف بطور احتجاج اپنی پروفائیل تصاویر بھی بدل دی ہیں اورنوجوان طبقہ اپنے انداز سے اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔فیس بک اور دیگر سماجی رابطہ سائٹوں پر غزہ بچاو کے پیج بنائے جارہے ہیں۔

نوجوان فیس بک پر غزہ میں جاری اسرائیل بمباری اور ہلاکتوں کی تصاویروں اور ویڈیو کو اپ لوڈکرکے دوسروں کے ساتھ شیر کررہے ہیں جبکہ تجزیوں اور مباحثوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے جس میں نوجوان غزہ سے غافل دنیا کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فیس بک پر ہر لمحہ گذرتے ہی غزہ کی تازہ ترین صورتحال کے ساتھ ساتھ اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہونے والوں کی تصاویر اپ لوڈ ہورہی ہیں وہیں اس معاملہ میں اقوام عالم خاص کر سعودی عرب کی خاموشی پر خاصی بحث چل رہی ہے۔فیس بک پر ایک نوجوان نے جاں بحق ہوئے ایک فلسطینی بچے کی تصویر کو اپ لوڈ کرکے لکھا ہیسعودی عرب کے لوگ عید کیلئے شاپنگ کرنے میں مصروف ہیں ،اس بچے کیلئے کفن کون لائے گا۔12ویں جماعت کے طالب علم سلمان رشیدکا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی ابتر صورت حال سے ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ فیس بک پراپنے ہم عمروں کے ذریعے سوشل میڈیا پر دیکھ رہا ہے۔سلمان کا کہنا ہے کہ غزہ کی تصاویر اور ویڈیو دیکھ کردل رنجیدہ ہوتا ہے اور پھر میں اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہوں جس کے بعد ایک مباحثہ شروع ہوجاتا ہے۔محمد عامر ڈار نامی ایک اور نوجوان کا کہنا ہے میں گاہے گاہے فیس بک استعمال کرتاتھا مگر جب سے سڑکوں پر مظاہرے شروع ہوئے اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند ہونے لگی تو مجھ سے رہا نہ گیا ،میں نے فیس بک کو پھر سے استعمال کرنا شروع کیا ۔عامر نے بتایا میں صرف اتنا جانتا ہوں یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسرائیل کھلے عام انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔فیس بک پر سرگرم بیشتر نوجوان اس معاملے میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے ہم اپنے بہن بھائیوں کے لیے اس مقدس مہینے کے دوران صرف دعائیں کر سکتے ہیں۔ نہتے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت پرجہاں وادی کی کئی معروف شخصیات بھی شامل ہو رہی ہیں اور وہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف فیس بک کو اپنا ہتھیار بنا رہے ہیں وہیں علیحدگی پسند جماعتوں کے ساتھ ساتھ مین اسٹریم پارٹیوں نے بھی سماجی ویب سائٹوں پر اپنی Display Picturesبدل دیں ہیں اور غزہ کی تصاویر اپ لوڈ کیں ہیں۔ادھر وادی کے شمال و جنوب میں اسرائیل مخالف پوسٹر نہ صرف دیواروں پر چسپان کئے گئے ہیں بلکہ گاڑیوں پر بھی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے پوسٹر Save Gazaلگائے گئے ہیں ۔

مزید :

عالمی منظر -