فلسطین پر اسرائیلی حملے اور اقوام عالم کا منفی کردار

فلسطین پر اسرائیلی حملے اور اقوام عالم کا منفی کردار
فلسطین پر اسرائیلی حملے اور اقوام عالم کا منفی کردار
کیپشن: pic

  

60 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا، قبلہ اول کی غاصب اسرائیل کی جارحیت روز بروز اپنے ناپاک وجود کے اثرات چھوڑتی جارہی ہے ۔ لبنان کے بعد فلسطین میں اس نے ظلم وجبر کا مظاہرہ کیا۔غزہ کی مکمل ناکہ بندی کرنے کے بعد بجلی،پانی،غذائی اجناس اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ،بے بس فلسطینیوں پر برّی،بحری اور فضائی بمباری کی۔ ممنوعہ ہتھیاروں کا کھلے عام استعمال کیا۔تقریبا ڈیڑھ ہزار بے گناہ لوگ خاک و خون میں نہائے، جس میں سے 42 فی صد معصوم بچے اس درندگی کا نشانہ بنے۔ہزاروں کی تعداد میں بچے ،عورتیں اور مرد زخمی ہوئے، متعدد مسجدیں مسمار ہوئیں،۔ہسپتال ،سکول کالج اور عمومی مراکز کثرت سے تباہ و برباد ہوئے ،ہزاروں گھر ملبے کا ڈھیر بنے اور مختلف کیمپوں میں پناہ گزیں عورتوں اور بچوں پر بھی بم برسائے گئے۔

اسرائیل کی اس درندگی کے باوجود غزہ کے مظلوم عوام اور دلیر مجاہدوں کی فداکاری، شجاعت اور استقامت نے انسانیت کے دشمن کو ذلیل و رسوا کرتے ہوئے شکست سے دوچار کر دےااور یہی ایمان اور ثابت قدمی اسرائیل کی غاصب حکومت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کی کامیابی کے دو ایسے اہم کلیدی عنصر ہیں،جن کی وجہ سے آج صہیونی دشمن ذلیل و ناکام ہوا۔فلسطینیوں کی ثابت قدمی کی نشیب و فراز سے بھری تاریخ میں بعض ایسے سازشی عناصر بھی موجود رہے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ صلح کے سیراب سے آس لگائے رہے اور صہیونیوں اور امریکہ کا کھلونا بنے رہے،لیکن فلسطینی عوام نے ثابت قدمی کے ساتھ اپنے پامال شدہ حقوق کی بازیابی کے راستے کی درست تشخیص دی اور ظلم و طاقت کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے اور ایسی طاقت پیدا کرلی کہ ظالم و جابر حکومتیں اور ان کی فوجیں فلسطینی عوام کے سامنے ناکام اور ذلیل ہوئیں۔

امام خمینی ؒ نے غیرت مسلم کو جھنجھوڑتے ہوئے برسوں قبل اس حقیقت کا اظہار کیا تھا کہ اگر دنیا کے تمام مسلمان ایک ایک بالٹی پانی بھی ڈال دیںتو اسرائیل کی مختصرسی حکومت سیلاب میں بہہ جائے۔ مزیدیہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایمانی طاقت کے آگے اسرائیل کیا دنیا کی ہر سپر پاور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگی ،جس کا ثبوت دو سال قبل حزب اللہ کے جوانوں نے اور آج فلسطین کے مجاہدوں نے نا برابرجنگ میں اسرائیل کو شکست فاش دے کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ ظلم کب تک؟ فلسطینیوں کو ان کے سلب شدہ حقوق کیوں نہیں ملتے؟بیت المقدس پر ہنوز صہیونی قبضہ کیوں ہے؟ اسرائیلی درندوں کے ہاتھوں ہزاروں فلسطینی خاک وخون میں کیوں لوٹ رہے ہیں؟عراق،پاکستان اور بعض دوسرے اسلامی ممالک میں ہر روز مسلمانوں کا خون کیوںبہایا جا رہا ہے؟مقامات مقدسہ کی مسلسل بے حرمتی کیوں ہو رہی ہے؟ اسلامی ممالک میں اسلام دشمن فوجیں قبضہ کیوں جمائے ہوئے ہیں؟مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگا کر انہیں کیوں بدنام کیا جا رہا ہے؟اسلام اور پیغمبر اسلام پر طرح طرح کے الزامات کیوں لگائے جارہے ہیں؟اس سب کا جواب یہ ہے کہ مسلمان متحد نہیں ہیںاور جب تک مسلمان متحد نہیں ہونگے اسی طرح نقصان اٹھاتے رہیں گے۔آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مسلمان اپنے مشترکہ دشمن کے معاملے میں متحد ہوں اور قرآن کی اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کہ” و اعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعا ولاتفرقوا“ اپنے حقیقی مسلمان ہونے کا ثبوت دیں ،آپسی اختلاف سے بچیں، اندرونی و بیرونی دشمنوں سے ہوشیار رہیں۔

اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے اسرائیل اور فلسطین پر کشیدگی ختم کرنے کے لئے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’غزہ میں صورتِ حال تباہی کے دہانے پر ہے۔اسرائیلی حملوں میں اب تک درجنوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامِل ہیں۔اسرائیل کے میزائل رہائشی علاقوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ اسرائیل کی درندگی اور جارحیت کی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ تمام بین الاقوامی قوانین کو تہہ و بالا کر کے جارحیت پر اتر آیا ہے۔ اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کو فوری مداخلت کرتے ہوئے اس جارحیت و خون ریزی کو روکناچاہئے۔ امریکہ نے اس مسئلے پر اپنے حلیف ملک کے خطرناک کارروائی کو روکنے میں خاموشی اختیار کرلی ہے اس کی یہ حرکت افسوسناک ہے۔اس موقع پر عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کو بھی اپنا اہم کردار نبھانا چاہیے۔ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تھا تو فلسطینی عوام نے بھی پاکستانی عوام کی طرح خوشی کا اظہار کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اب عالم اسلام ناقابل تسخیر ہو گیا ہے، لہٰذا تمام اسلامی ممالک مل کر فلسطینی، کشمیر اور دیگر مسائل حل کر لیں گے۔

آج کل سعودی عرب میںموجود ہیں۔ ان کو چاہیے کہ ایک مسلم ایٹمی ملک کے وزیر اعظم ہونے کے ناطے وہ اسرائیل کو للکارکربے گناہ ، نہتے فلسطینی عوام پر اسرائیلی ظلم ختم کرائیں، ورنہ دوسری صورت میں پاکستان کے ایٹمی کردار ادا کرنے کی دھمکی دیں۔ یہ بہترین موقع ہے کہ حرمین شریفین میں موجود ہونے کے ناطے وزیر اعظم عالم اسلام کی طرف سے اسرائیل کو نکیل ڈالیں۔ ہمیں چاہیے کہ عالمی دہشت گرد امریکہ و اسرائیل کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ فلسطین کے مظلوموں کی مالی امداد کا انتظام کریں۔دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہے ،بارگاہ الٰہی میں دعا کریں کہ اپنی آخری حجت کے ذریعہ ظلم کا خاتمہ اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھردے۔ ٭

مزید :

کالم -