قوم ہر حال میں آئی ڈی پیز کے ساتھ ہے

قوم ہر حال میں آئی ڈی پیز کے ساتھ ہے

  


وفاقی وزیر برائے سیفران لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی مدد کیلئے قوم کو متحرک کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس دفعہ قوم اُس طرح متحرک نہیں جس طرح وہ کشمیر کے زلزلے اور سوات آپریشن کے موقع پر تھی۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ اپنی غفلت اور کوتاہی تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم میں وہ جذبہ نظر نہیں آرہا جو65ء اور71ء کی جنگ میں نظر آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ10 لاکھ بے گھر افراد کے دل جیتنا اور بحالی کسی چیلنج سے کم نہیں ، آئی ڈی پیز کی ناراضگی بہت بڑا مسئلہ ہو گی، اگر دہشت گردی کیخلاف جنگ ناکام ہوگئی تو ملک کی وحدت وسا لمیت خطرے میں پڑ جائے گی اس لئے قوم کو چاہئے کہ وہ ان کی قربانیوں کا احساس کرے ، اس جنگ کی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب آئی ڈی پیز خوشی خوشی دوبارہ اپنے علاقے میں آبادہو جائیں۔ عبد القادر بلوچ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو ختم کرنا ، علاقے سے بھگانا یا ان کے اڈوں کو تباہ کرنااتنا بڑا کام نہیں جتنا بڑا مسئلہ ان دہشت گردوں کو دوبارہ اس علاقے میں آنے سے روکنا اور مقامی آبادی کی بحالی ہے۔ اسی لئے آئی ڈی پیز کو یہ باور کرانا بہت ضروری ہے کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قوم کو دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لئے آگے آنا ہو گا اور دل کھول کر آئی ڈی پیز کی مدد کرنا ہو گی کیونکہ یہ آپریشن کسی ایک پارٹی کا نہیں ہے بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ڈی پیز کی تعداد دس لاکھ سے بڑھ چکی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے اس لیے تمام این جی اوز، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو فنڈ ز اکھٹے کرنے کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ کاموں میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ فاٹا کے بعد لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے علاوہ دیگراہم شہروں میں بھی ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔ انہوں نے ضرب عضب آپریشن کی تکمیل کا کوئی حتمی وقت تو نہیں دیا لیکن امیدظاہر کی کہ آپریشن دوسے تین ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی نے ہمارے معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، اربوں کھربوں کی معیشت داوپر لگ گئی ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ اس جنگ میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ تمام وزارتیں اور کے پی کے حکومت ان سے تعاون کررہی ہے اور ملٹری آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔

بلاشبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی آسان کام نہیں ہے اور ہماری پاک فوج باوجود تمام مسائل کے اس جنگ کو کامیابی اور ثابت قدمی کے ساتھ لڑ رہی ہے۔ پوری قوم آئی ڈی پیز کے دکھ اورتکلیف کو سمجھتی ہے ، ان کے ساتھ کھڑی ہے اور آئی ڈی پیز کی مدد کے لئے ہر ممکن کوشش بھی کر رہی ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی تاجروں، صنعت کاروں اور مخیر حضرات نے وزیر اعلیٰ کے ریلیف فنڈ میں16 کروڑ روپے کے چیک جمع کرائے۔ ملک ریاض حسین نے دس کروڑ روپے کا چیک آئی ڈی پیز کے لیے دیا۔اس کے علاوہ بھی این جی اوز اور عام شہریوں نے راشن، ضرورت کا سامان اور دوسری اشیاء آئی ڈی پیز تک پہنچائی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ بھی پوری قوم سے جو بن پا رہا ہے وہ کر رہی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ماہ رمضان میں بدترین بجلی کے بحران اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑرکھی ہے لیکن اس کے باوجود ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق آئی ڈی پیز کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔آئی ڈی پیزکو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، دوسری جگہوں پر منتقل ہونا پڑا یقیناًیہ آسان نہیں ہے، پاکستانی قوم کو بھی اس بات کاپورا احساس ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کوبے گھرکرنے میں قصور وار صرف اور صرف وہ دہشت گر د ہیں جو ہمارے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں سرگرم ہیں۔یہ وقت ابہام پیدا کرنے کا نہیں ہے بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مل جل کر کام کرنے کا ہے جس کی اس وقت شدید کمی نظر آ رہی ہے۔امداداکٹھی کرنے سے کہیں زیادہ مشکل اور بڑا کام اس امداد کو صحیح اور مستحق لوگوں تک پہنچانا ہے۔اعتماد کی فضا قائم رکھنے کے لیے مدد کرنے والوں کوبھی اس بات کی یقین دہانی کرانا پڑے گی کہ ان کی دی ہوئی امداد مطلوبہ جگہ تک پہنچ رہی ہے ۔ عبدالقادر بلوچ نے یہ بھی کہاہے کہ دس بارہ ارب روپے حکومت کے لئے کوئی بڑی بات نہیں اگر قوم ایک روپیہ بھی نہ دے تو بھی بحالی کا کام بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ہماری رائے میں حکومت کو عوام کی کوششوں کو سراہنا چاہئے نہ کہ اس طرح کی بات کر کے ان کی دل آزاری کرنی چاہئے۔

اس جنگ سے قوم کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں، پوری قوم کی نظریں اس وقت شمالی وزیرستان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ ہر پاکستانی کے دل میں ایک ہی دعا ہے کہ ہم اس جنگ میں کامیابی سے ہمکنار ہوں تاکہ امن و امان قائم ہو سکے۔ کوئی بھی’ ضرب عضب ‘کی ناکامی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس وقت تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیںآپریشن کے حق میں متفق ہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ سب الگ الگ ہو کر کام کرنے کی بجائے متحد ہو کر مل جل کر آئی ڈی پیز کی بحالی اور ریلیف کے لئے کام کریں اور ان سب کو منتظم کرنے کی ذمہ داری حکومت کو ہی اٹھانا ہو گی۔ اگر سب اکٹھے ہو کر کام کریں گے تو بڑی سے بڑی مشکل بھی آسان ہو جائے گی، لیکن اگر آپس کی کھینچا تانی ایسے ہی جاری رہی تو مشکل کام مشکل ترین ہوتا چلا جائے گا۔

مزید :

اداریہ -