بجلی کے موجودہ نرخ گھریلوصارفین کے لئے ناقابل برداشت ہیں

بجلی کے موجودہ نرخ گھریلوصارفین کے لئے ناقابل برداشت ہیں

  

واپڈا کے چیئرمین ظفر محمود نے کہا ہے کہ توانائی بحران کے خاتمے کے لئے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے قلیل المدت اور طویل المدت منصوبوں کی تکمیل سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا ،بجلی چوری کی روک تھام اور واجبات کی وصولی کے لئے بھرپور مہم چلائی جارہی ہے انہوں نے کہا چین کی مدد سے آٹھ سے دس سال میں 21ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جس سے نہ صرف لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ زراعت اور صنعت کے لئے بھی بجلی دستیاب ہوگی۔

بجلی کی پیداوار کے حوالے سے چیئرمین واپڈا کی باتیں دل خوش کن ہیں، یہ بھی درست ہے کہ آٹھ دس سال میں چینی حکومت کی مددسے 21ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی لیکن چین کی مددسے بجلی کے جو منصوبے بھی لگائے جارہے ہیں، ان سے مہنگی بجلی پیدا ہوگی، پاکستان کی ضرورت صرف بجلی نہیں ہے بلکہ سستی بجلی ہے، اس وقت گھریلو صارفین کو بجلی کا ایک یونٹ 14روپے اور 18روپے میں مل رہا ہے اس پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ، نیلم جہلم سرچارج، الیکٹریسٹی ڈیوٹی، جنرل سیلز ٹیکس اور دوسرے ٹیکسز مستزاد ہیں۔ جس کی وجہ سے معقول آمدنی والے لوگوں کے لئے بھی بجلی ایک ایسی مہنگی آئٹم بن گئی ہے جس کا بوجھ ناقابل برداشت ہوگیا ہے، عام صارفین بجلی کا پورا بل ادا کرکے اس قابل نہیں رہ جاتے کہ وہ زندہ رہنے کے لئے اشیائے خوراک کا انتظام کرسکیں۔ یابچوں کی فیسوں کا بندوبست کرسکیں، اگر کوئی ایک ائرکنڈیشنر بھی استعمال کررہا ہے تو اس پر مزید بوجھ پڑے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت جتنی جلد ممکن ہو ہائیڈل بجلی کے منصوبے بنائے، لیکن شاید موجودہ حکومت کی ترجیحات میں ہی ایسا نہیں ہے جہاں تک بجلی کی چوری کا تعلق ہے چیئرمین صاحب نے بات تو کردی ہے لیکن خود انہیں بھی معلوم ہوگا کہ آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں دھڑلے سے بجلی چوری ہوتی ہے فاٹا میں بل ادا نہیں کئے جاتے ملک بھر میں وڈیروں اور جاگیرداروں کے زیادہ تر ڈیرے چوری کی بجلی سے روشن اور ٹھنڈے ہیں۔ حتیٰ کہ شہروں میں بھی بجلی کمپنیوں کے چھوٹے عملے سے مل کر بجلی چوری ہوتی ہے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بجلی چوری کی روک تھام میں کوئی کامیابی ہورہی ہے تو انہیں تفصیلات بھی سامنے لانی چاہئیں، لائن لاسز کو اچھی طرح چیک کیا جائے تو ساری بات سامنے آجائے گی کیونکہ لائن لاسز کے پردے میں چوری کی بجلی کو بھی چھپایا جاتا ہے، چیئرمین واپڈا نے بجلی کے جس بحران پر آٹھ دس سال میں قابو پانے کی نوید سنائی ہے عوام کو اس سے حقیقی مسرت اس وقت ہوگی جب انہیں بجلی قا بل برداشت نرخوں پر ملے گی، موجودہ نرخ تو کسی صورت قابل قبول نہیں اور جب تک حکومت ہائیڈل بجلی اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرے گی ایسا ممکن بھی نہیں ہوگا۔

مزید :

اداریہ -