خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات

خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات

  

شدید گرمی انسانی نفسیات کو بھی متاثر کرتی ہے، جرائم کی تاریخ بتاتی ہے کہ برصغیر میں مئی سے جولائی تک کے مہینوں میں جرائم بڑھ جاتے ہیں، ماہرین نفسیات کے مطابق اس موسم میں گرمی اور حبس کی وجہ سے انسانی کیفیات بدلتی رہتی ہیں اور چڑچڑا پن زیادہ ہو جاتا ہے، اس کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اور قتل جیسے جرائم میں یکایک اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس سال تعجب ہوا جب قتل اور قاتلانہ حملوں جیسے جرائم کے ساتھ ساتھ تیزاب پھینکنے اور کم عمر بچیوں پر مجرمانہ حملوں اور ان کے قتل کی وارداتیں بھی تواتر سے ہوئیں۔ یہ ہمارے کمزور نظام انصاف کا مسئلہ ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو گرفتار بھی نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت کو اس نوعیت کے شرمناک اور بے ہودہ الزامات کی پرواہ نہیں کرنی نہ کرے، لیکن ان جرائم کا قلع قمع کرنے کے لئے سائنسی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے، شہری خصوصاً خواتین خوفزدہ ہیں، کہ کسی بھی جگہ کسی بھی وقت ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ جہاں تک تیزاب پھینکنے کے واقعات کا تعلق ہے، تو ان میں تیزی آئی ہے۔ کوئٹہ اور مستونگ میں مسلسل دو دن ایسے واقعات ہوتے رہے، جرائم کی بیخ کنی پر مامور ملازمین کا بھی تو یہ فرض ہے کہ وہ یہ بھی دیکھیں کہ ممانعت کے باوجود ایسے لوگ تیزاب کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -