وکلاء نے مرضی کے مطابق کام نہ کرنے کی پاداش میں پٹواری کی دھلائی کر دی ، حبس بیجا میں رکھ کر تشدد کیا

وکلاء نے مرضی کے مطابق کام نہ کرنے کی پاداش میں پٹواری کی دھلائی کر دی ، حبس ...

  

لاہور(نامہ نگار،اپنے نمائندے سے)ضلع کچہری میں وکلاء نے پٹواری کو مرضی کے مطابق کام نہ کرنیکی پاداش میں تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے بار روم میں محبوس کرلیا ،بعدازاں پولیس اسے مشروط طور پر وکلاء کے چنگل سے آزاد کروانے میں کامیاب ہوئی ۔موضع نیاز بیگ کا پٹواری رضوان بٹ گزشتہ روز اے ڈی سی آر کے پاس ریکارڈ پیش کرنے کے لئے آیا جیسے ہی وہ اپنے آفیسر کے کمرے میں داخل ہوا وہاں پرموجوود وکلاء خاور ارشد ،وقاص وغیرہ دیگر ساتھی وکلاء کے ہمراہ آئے اور انہوں نے پٹواری رضوان کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا اور بار روم میں لے جاکر تین گھنٹے تک محبوس رکھا،پٹواری حلقہ کی مدد کے لیے جانے والے ریونیو سٹاف و افسران کو دھکے دیکر باہر نکال دیا کوریج کے لیے آنے والے میڈیا کے کیمرے زبردستی بند کر وا دئیے۔اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ لوئر مال ہمراہ ملازمین کے وہاں پہنچ گئے اور وکلاء سے پٹواری کو آزاد کروانے کی کوشش کی مگر انہوں نے پولیس کو وہاں سے نکال دیا اور کہا کہ پہلے اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے ایف آئی آر کی کاپی لاؤ پھراسے حوالے کیا جائے گا۔اس حوالے سے خاور ارشد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اس کے والد مذکورہ پٹواری کے پاس کسی کام سے گئے تھے تو اس نے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا تھا،اسی اثناء میں انجمن پٹواریاں کے صدر مدثر حسین بھی موقع پر پہنچ گئے اور کہا وکلاء زیادتی کرتے ہیں اور اکثر اوقات غیر قانونی طور پر فرد حاصل کرنے کے لئے پٹوار خانے آتے ہیں جبکہ انکار پر یہ پٹواریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔بعداں پولیس کی جانب سے یقین دہانی پروکلاء نے پٹواری کو پولیس کے حوالے کردیا۔ روزنامہ’’ پاکستان‘‘ کو ملنے والی معلومات کے مطابق پٹوار سرکل نیاز بیگ کا پٹواری گزشتہ روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر عرفان میمن کی عدالت میں کیس کے حوالے سے ریکارڈ لیکر پیش ہوا جہاں کمرہ عدالے کے احاطے میں ہی30سے زائد وکلاء نے مذکورہ پٹواری پر دھاوا بول دیا اور پٹواری حلقہ نیاز بیگ رضوان بٹ کو بے رحمی سے مارتے ہوئے بار روم لے گئے اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس دوران مذکورہ پٹواری کو چھڑانے کے لیے جانے والے ریونیو سٹاف ،افسران کو ناصرف وکلاء حضرات نے دھکے دے کر باہر نکال دیا بلکہ ضلع کچہری کے سینئر وکلا حضرات کی مداخلت اور منع کرنے پر جونےئر وکلاء اپنے سینئر وکلا کے ساتھ بھی بدتمیزی پر اتر آئے جبکہ کوریج کے لیے آنے والے میڈیا کے نمائندوں کے کیمرے بھی زبردستی بند کروا دئیے ۔ تشدد کی اطلاع سن کر سینکڑوں کی تعداد میں ریونیو آفیسر،قانونگو اور پٹواری ضلع کچہری میں اکٹھے ہو گئے تاہم بعد ازاں پولیس کی مداخلت کے باعث مذکورہ پٹواری کو بازیاب کروا لیا گیا تاہم اطلاعات کے مطابق تشدد کرنے والے وکلا حضرات کی جانب سے ہی پٹاری حلقہ پر مقدمہ بھی درج کروا دیا گیا ریونیو ذرائع کے مطابق مذکورہ وکیل خاور ارشد کچھ روز قبل پٹوار سرکل میں ایسے کھاتہ جات کی فردات طلب کر رہا تھا جس کا ریکارڈ میں پائے جانے والے متنازع پن کی وجہ سے مذکورہ ایڈوکیٹ کو فرد دینے سے انکاری تھا جس پر مذکورہ وکیل نے پٹوار خانے میں بھی چند دن قبل پٹواری حلقہ نیاز بیگ سے جھگڑا ہوا اور مذکورہ ایڈوکیٹ نے تھانہ سبزازار میں ایک ایف آئی آر کا اندراج کروا دیا تاہم گزشتہ روز بھی اس کام کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچانے پر مذکورہ پٹواری کو ساتھیوں کے ہمراہ اٹھا کر بار روم میں بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جس سے ضلع لاہور میں تعینات ریونیو سٹاف کی اکثریت وکلا گردی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انجمن پٹواریان لاہور کے صدر مدثر حسین نے اس وقوعہ کو لاقانونیت کی بدترین مثال قرار دے دیا ہے اور اس وقوعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قلم چھوڑ ہڑتال کا بھی عندیہ دے دیا ہے تشد د کا نشانہ بننے والے پٹواری حلقہ رضوان بٹ کا کہنا ہے کہ میری کسی سے کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے خاور ارشد ایڈوکیٹ مجھ سے جس فرد کھاتے کی فرد مانگ رہا ہے وہ درست نہیں ہے جس کی وجہ سے میں نے انکار کیا ہے مذکورہ ایڈووکیٹ مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور آج بھی مجھے جان سے مار دینے کی نیت سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر کی عدالت کے باہر سے اٹھا کر لے گئے اور3گھنٹہ تک مار پیٹ کرتے رہے ہیں اور اب بھی مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ہماری مرضی کے مطابق ہمارے کام کرو ورنہ تمہاری جان نہیں چھوڑیں گے ۔ مذکورہ وکیل کے خلاف تھانے میں اندراج مقدمہ کے لیے درخواست دیدی ہے۔دوسری جانب وکلا ء ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پٹواری کی جانب بھی چند روز قبل ایڈووکیٹ خاور ارشد پر تشدد کیا گیاتھا جس پر اس وقوعہ کے خلاف تھانہ سبزہ زار میں مقدمہ بھی انداراج ہے ۔

پٹواری پر تشدد

مزید :

صفحہ آخر -