14اگست کودھاندلی زدہ کرپٹ حکومت کی بادشاہت کا خاتمہ ہو گا ،عمر ڈار

14اگست کودھاندلی زدہ کرپٹ حکومت کی بادشاہت کا خاتمہ ہو گا ،عمر ڈار

  

                                                 لاہور(انٹرویو:محمد نواز سنگرا)تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عمر ڈار نے کہا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ تاریخی اور14اگست کودھاندلی زدہ کرپٹ حکومت کی باد شاہت کا خاتمہ ہو گا۔آزادی مارچ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو نقصان کی ذمہ دار حکومت ہوگی،تحریک انصاف اقتدار نہیں عوامی حقوق،آئین و قانون کی بالا دستی اور فری اینڈ فئیر الیکشن کےلئے سڑکوں پر آرہی ہے ۔لانگ مارچ کی کامیابی کےلئے یونین کونسلوں،تحصیلوںاور اضلاع کی سطح پر کام جاری ہے آزادی مارچ میں شرکت کےلئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں ،کسان ولیبر یونین سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کےلئے لوگوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی کیونکہ ملکی ترقی کےلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوریت کی مضبوطی ضروری ہے۔عمر ڈار نے مزید کہا کہ جب تک عوامی مینڈٹ چوری ہوتا رہے گاتب تک عوام خوشحال نہیں ہو سکتی ہے اور نہ ہی ملک ترقی کر سکتا ہے موجودہ بحرانوں کی صورت میں ملک کو عمران خان جیسی مخلص قیادت کی ضرورت ہے اور14اگست کو عوامی حقوق اور پاکستان کی ترقی کےلئے لوگوں کا جم غفیر سڑکوں پر نکلے گا اور عوامی طاقت کو روکنا کرپٹ ٹولے اور پنکچر ٹائروں کے اختیار میں نہیں ہو گا۔تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پنجاب حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ملکی تاریخ میں اتنا بڑا افسوسناک واقع پیش نہیں آیا۔ارسلان افتخار کا قصہ پرانا ہو گیا قوم عمران خان،افتخار چوہدری اور ارسلان افتخار کو جانتی ہے فیصلہ عوام خود کر لے۔انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور آئی ڈی پیز کو خیبر پختونخواہ میں بھر سہولیات دی جا رہی ہیں۔خیبر پختونخواہ کارکردگی پر پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں حکومتی کارکردگی جانچنے کےلئے آزاد میڈیا کو رپورٹنگ کرکے سچ عوا م کے سامنے لانا چاہیے نواز لیگ کو ٹاک شوز اور تقریروں میں تحریک انصاف کی خیبر پختونخواہ پر سوال اٹھانا درست نہیں ۔فلسطین پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ فلسطینی بھائیوں سے یکجہتی اور آزادی کےلئے مسلم ممالک کو متحد ہو کربات کرنی چاہیے اور مسئلہ فلسطین کے حل کےلئے بیانات نہیں دنیا کے مسلمانوں کو میدان میں آنا چاہیے۔

مزید :

صفحہ آخر -