جو لوگ نسلی طور پر کالے ہیں وہ گوروں کی نسبت جلدی بوڑھے ہوتے ہیں، نئی تحقیق

جو لوگ نسلی طور پر کالے ہیں وہ گوروں کی نسبت جلدی بوڑھے ہوتے ہیں، نئی تحقیق

  

شکاگو (نیوز ڈیسک) سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں یہ متنازع دعویٰ کردیا ہے کہ آپ کی عمر کی طوالت کا انحصار آپ کی نسل پر ہے۔ یعنی آپ نسلاً کالے ہیں یا گوے۔ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کی تحقیق میںمعلوم کیا گیا ہے جو لوگ نسلی طور پر کالے ہیں وہ گوروں کی نسبت جلدی بوڑھے ہوتے ہیں، بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اور جلدی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس تحقیق نے سائنسی حلقوں میں زبردست بحث کا آغاز کردیا ہے اور بعض لوگ اس تحقیق کے نتائج کو نسل پرستی کے نظریات کی ترویج قرار دے رہے ہیں، لیکن تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق تقریباً 8000 لوگوں کے سائنسی مطالعے پر مبنی ہے۔ ”سوشل سائنس“ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں شامل افراد کی حیاتیاتی عمر اور بتائی گئی عمر کا موازنہ کیا گیا۔ حیاتیاتی عمر معلوم کرنے کیلئے بلڈ پریشر، کولیسٹرول کے علاوہ جسم میں پائے جانے والے مختلف مرکبات اور وزن کو مدنظر رکھا گیا۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ کالے لوگ گوروں کی نسبت تقریباً تین سال پہلے بوڑھے ہوجاتے ہیں، صحت اور عمر کا یہ فرق 60 سے 65 سال کی عمر تک زیادہ تیز رفتار اور نمایاں پایا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کالوں کی اوسط عمر 53.16 سال جبکہ گوروںکی اوسط عمر 49.84 سال ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس فرق کی وجہ گوروں اور کالوں کے حالات زندگی مختلف ہونے کی وجہ سے ذہنی دباﺅ کا فرق بھی ہوسکتا ہے کیونکہ کالوں کو عام طور پر زیادہ مشکل حالات اور زیادہ ذہنی دباﺅ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -