ن لیگ ، تحریک انصاف کا ’آزادی مارچ‘ کامیاب کروانے میں پیش پیش

ن لیگ ، تحریک انصاف کا ’آزادی مارچ‘ کامیاب کروانے میں پیش پیش
ن لیگ ، تحریک انصاف کا ’آزادی مارچ‘ کامیاب کروانے میں پیش پیش

  

پاکستان تحریک انصاف اس وقت 14 اگست کے ’آزادی مارچ ‘کو کامیاب بنانے میں مصروف ہے اور ہر طرح سے کوششیں کی جارہی ہیں کہ اس مارچ کے بعد دوبارہ کسی مارچ کی ضرورت پیش نہ آئے لیکن اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ن لیگ اس مارچ کو کامیاب بنانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ ہر صورت میں یہ مارچ کامیاب ہو۔ یہ کوئی دعویٰ نہیں بلکہ سامنے کی حقیقت ہے کہ جس طرح کے حالات ن لیگ نے پیدا کردئیے ہیں ان سے تو یہی لگتا ہے وہ خود عمران خان کے ساتھ مل چکی ہے ۔ بظاہر ن لیگ کے سیاستدان رانا ثناءاللہ کی زبان ادھار لے کر  عمران خان اور تحریک انصاف پر برستے رہتے ہیں لیکن اصل میں وہ تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ صرف وزارت پانی و بجلی کو ہی دیکھ لیا جائے جہاں عابد شیر علی تحریک انصاف کو وقتاً فوقتاً للکارتے ہیں اور تنقید کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے,پھر بھی درپردہ سب سے زیادہ عمران خان کے مارچ کی امداد کر رہے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں میں جو کچھ وزارت پانی و بجلی نے عوام کے ساتھ کیا ہے شاید وہ ملکی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔وزیراعظم نے ’سخت‘ نوٹس بھی لیا لیکن واپڈا نے اس نوٹس کو اتنا ’نرم‘کردیا کہ وزیراعظم نے عمرہ کرنے میں عافیت جانی ۔اگر دیکھا جائے تو واپڈا ایک ایسا محکمہ ہے جس میں ہر طرف عمران خان کے حامی بیٹھے ہوئے ہیں جو دن میں بار بار بجلی بند کرکے ’آزادی مارچ ‘ کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں ۔ اس کا ہر ملازم دل و جان سے تحریک انصاف کا لانگ مارچ کامیاب بنانے میں مصروف ہے، دن میں کم از کم 15 بار لوگ صرف واپڈاکے باعث تحریک انصاف کے لئے دعا اور ن لیگ کوبددعادیتے ہیں۔ دوسری جانب وزیر مہنگائی (خزانہ) اسحاق ڈار ہر ایک ہفتے بعد یہ نوید سناتے ہیں کہ ملک کی معیشت بہتر ہورہی ہے لیکن شاید وہ دوسری دنیا کی باتیں کرتے ہیں۔یہ مہنگائی بھی انہیں تاجروں کی دی ہوئی ہے جنھیں تاجروں نے ہی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور ن لیگ نے ایک بار پھر اس مارچ کو کامیاب بنانے کا سامان کر دیا ہے۔یہاں پنجاب پولیس کی گراں قدر خدمات کو بھولنا سراسر زیادتی ہوگی۔ ’گلو بٹوں‘ کی سر پرست پولیس نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بھی عمران خان کے مارچ کو کامیاب بنانا چاہتی ہے۔ اگر ملک میں امن اور انصاف ہوگا تو کیسے لوگ تحریک انصاف کے آزادی مارچ میں شرکت کریں گے ۔

ابھی یہ تمام باتیں کچھ کم تھیں کہ ایک ن لیگی ایم پی اے رانا شعیب نے تو حد ہی کردی اور تحریک انصاف کا مارچ کامیاب بنانے کی غرض سے قانون کو اپنے ہاتھ میں ہی لے لیا۔فیصل آباد کے ایک اور راناتحریک انصاف کے اتنے دلدادہ نکلے کہ پنجاب کے خادم کو ان کی ہر حال میں گرفتاری کا حکم دینا پڑا۔اب یہ بھی ن لیگی حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ کنٹینر لگا کر اسلام آباد جانے والے راستے بند کر دئیے جائیں، اگر تحریک انصاف کو کھلا کھیلنے کا موقع دیاجائے تو شاید ایسے حالات نہ پیدا ہوں جیسا کہ اب ہونے والے ہیں لیکن کیا کریں کہ جب ن لیگ اس بات پر بضد ہو کہ اس مارچ کو ہر حال میں کامیاب بنانا ہے۔

مزید :

بلاگ -