بھارت میں اسقاط حمل کی شرح میں خوفناک اضافہ

بھارت میں اسقاط حمل کی شرح میں خوفناک اضافہ
بھارت میں اسقاط حمل کی شرح میں خوفناک اضافہ

  

نیویارک ، ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں بچوں کی پیدائش سے پہلے ان کی جنس کے تعین اور لاکھوں لڑکیوں کو اسقاط حمل کی وجہ سے ضائع کرنے سے لڑکے اور لڑکیوں کا تناسب خطرناک حد تک غیر متوازن ہو چکا ہے،ایک کروڑ 20لاکھ بچیوں کو اسقاط حمل کے ذریعے مار دیا گیا۔

 عالمی میڈیا نے برٹش میڈیکل جرنل کی جانب سے 2011 ءکی تحقیق کے حوالے سے بتایاکہ بھارت میں گزشتہ تین عشروں میں 12 ملین لڑکیوں کو ناجائز طور پر اسقاط ِحمل کے ذریعے مار دیا گیا، لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان غیرمتوازن تناسب کی وجہ سے اغوا اور انسانی سمگلنگ جیسے جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ گو کہ بھارت میں حمل کے دوران بچے کی جنس معلوم کرنے کے بارے میں قوانین رائج ہیں مگر اس کے باوجود لڑکیوں کو ناجائز اسقاط حمل کی وجہ سے ضائع کرنے کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔

معاشرے میں روایتی طور پر مرد کا غلبہ ہے اور بیٹیوں کو عموماً ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے ، جنہیں بہت سا جہیز دے کر گھر سے رخصت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ انہیں ڈھنگ کا رشتہ میسر آ سکے۔ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد خاصی کم ہے۔ 2011 ءمیں بھارت میں ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں صرف 918 لڑکیاں تھیں، جبکہ 1981 میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی شرح 962 تھی۔

مزید :

تعلیم و صحت -